پنجاب کے عوام کی طرف اٹھنے والی انگلی توڑ دوں گی، مریم نواز
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہاہے کہ پنجاب کے عوام کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی اجازت نہیں دوں گی۔مریم نواز شریف پنجاب کے عوام کی طرف اٹھنے والی انگلی توڑ دے گی۔
تفصیلات کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ڈیرہ غازیخان میں الیکٹرو بس پراجیکٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کیا اور ڈی جی خان کے عوام کیلئے بڑے اعلان کئے۔وزیر اعلیٰ مریم نواز نے ڈیرہ غازیخان میں بھی میٹرو بس سروس لانے کا اعلان کیا اور ساؤتھ پنجاب میں ہر ماہ سیکرٹریٹ لگانے کا اعلان کیا۔
وزیر اعلیٰ پنجاب کا ڈیرہ غازیخان ڈویژن کیلئے ایک سو ایک الیکٹرو بسیں لانے کا اعلان کیا اس کے علاوہ راجن پو ر، لیہ، مظفرگڑھ، تونسہ سمیت ہر ضلع میں الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان کیا۔
مریم نواز نے سرائیکی زبان سے تقریر کا آغاز کرتے ہوئے کہاکہ "تساں دے کول آ کے، بہووں خوشی تھئی اے، تہاکوں ڈیکھ کے ہاں ٹھر گیا اے "
وزیراعلیٰ پنجاب کاکہنا تھا کہ جہاں تخت لاہو رہے وہاں تخت بہاولپور، رحیم یار خان، ملتان اور تخت ڈیرہ غا زیخان ہے ۔جنوبی پنجاب والو ں نے عزت او رپیار سے چادر اوڑھائی، ہمیشہ یاد رکھوں گی۔ان کاکہناتھا کہ الیکٹرو بس کیلئے ڈی جی خان والوں کی خوشی دیکھ کر حوصلہ بڑھ رہا ہے۔اربوں خرچ ہو جائیں، ڈیرہ غازیخان کو نقصان نہیں ہونے دیں گے ۔وزیر اعلیٰ، کابینہ او رپوری ٹیم جاگ رہی ہے، عوام کی خدمت میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔
ان کاکہناتھا کہ پنجاب کے عوام کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی اجازت نہیں دوں گی۔مریم نواز شریف پنجاب کے عوام کی طرف اٹھنے والی انگلی توڑ دے گی۔
مریم نواز کاکہناتھا کہ پنجاب میں دوسرے صوبوں سے اڑھائی کروڑ افراد روزگار کیلئے مقیم ہیں۔پنجاب کے ہسپتال دوسرے صوبوں کے عوام کیلئے کھلے ہیں۔سندھ میں آفت آئے تو پنجاب ساتھ کھڑا ہو گا ۔آصف زرداری میرے بزرگ اور بلاول چھوٹا بھائی ہے مگر پیپلز پارٹی کے ترجمانو ں کو بھی سمجھائیں۔ سیلاب کے معاملے میں سیاست کی جا رہی ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب کا کہناتھا کہ میرے لیے ساؤتھ، سینٹرل اور اپر پنجاب میں کوئی فرق نہیں، سب برابر ہیں اور سب کی وزیر اعلیٰ ہوں ۔ سنیٹرل پنجاب میرے لیے ماہ نور کی طرح، اپر پنجاب مہرالنسا کی طرح اور جنوبی پنجاب میرے لیے جنید بیٹے کی طرح ہے ۔
انہوں نے کہاکہ ساؤتھ او رسینٹرل پنجاب کی بات اقتدار کی ہوس رکھنے والے لوگ کرتے ہیں۔ساؤتھ پنجاب میں سارے پراجیکٹ پاکستان مسلم لیگ ن لے کر آئی،نواز شریف موٹر وے، ایکسپریس وے ساؤتھ پنجاب میں لائے ۔ساؤتھ پنجاب میں بلکہ ڈی جی خان میں پہلی الیکٹرک بس نوازشریف کی بیٹی لے کر آئی۔سی ایم دفتر میں تصویر فریم میں لگا کر رکھنے کیلئے نہیں ہوتا عوام کے ساتھ ہونا چاہیئے۔جو ساؤتھ پنجاب کی بات کرتے ہیں انہوں نے اپنے دور میں دھیلے کا کام نہیں کیا۔ساؤتھ پنجاب کو ان لوگو ں کے دور میں کچھ نہیں ملا۔منصوبے بڑے شہروں میں آ کر بڑے شہروں میں ختم ہوجاتے تھے ۔الیکٹرو بس لاہور، پنڈی یا فیصل آباد نہیں بلکہ میانوالی، وزیر آباد اور ڈی جی خان میں پہلے لانچ کی ہے۔
مریم نواز کاکہناتھا کہ غذائی قلت کا شکار بچوں کیلئے پہلا پراجیکٹ جنوبی پنجاب کے اضلاع میں شروع کیا۔میرے وزیرسینٹرل پنجاب نہیں بلکہ جنوبی پنجاب کے سیلاب زدہ علاقوں میں بیٹھے رہے۔
ساؤتھ پنجاب کی بار بار بات کر کے لکیر کھینچنے کی کوشش کی جاتی ہے، میرے ذہن میں ا یسا کوئی فرق نہیں۔پہلے ڈی جی خان کے لوگ خوابوں پر گزارا کرتے تھے اب تعبیر ملتی ہے ۔مجھے فخر ہے بارڈر ملٹری پولیس میں پنجاب کی بیٹیاں یونیفارم پہن کر شریک ہیں۔
ان کاکہناتھا کہ الیکٹرو بس عوام کیلئے تحفہ ہے۔سپیشل افراد کو عزت سے بس میں سوار کرانے والا عملہ قابل تحسین ہے۔جو عوام کا خیال نہ رکھے، اسے حکمرانی کا کوئی حق نہیں۔
ان کاکہناتھا کہ تین دریاؤں میں اونچے درجے کا سیلاب آئے، تین ماہ مسلسل بارشیں ہوتی رہیں ہم نے تیاری کر رکھی تھی۔میرے وزیر او رپوری ٹیم سیلاب کے دوران راشن تقسیم کرتی رہی اور خیمے لگواتی رہی۔جب تک لوگوں کو کھانا اور ٹینٹ نہیں ملے،مریم اورنگزیب اور دیگر وزیر چین سے نہیں بیٹھے۔
مریم نواز کاکہناتھا کہ بیرونی امداد مانگنے کا مشورہ اپنے پاس رکھیں، پنجاب اپنے وسائل سے خود انتظام کرے گا ۔نواز شریف کی بیٹی ہوں، امداد کیلئے ہاتھ نہیں پھیلاؤں گی۔کب تک پاکستان دوسر وں کے سامنے ہاتھ پھیلاتا رہے گا۔ان کاکہنا تھا کہ این ایف سی ایوارڈ سے اربوں کھربوں ہر صوبے کو مل رہے ہیں، وہ عوام پر خرچ نہیں کرنے تو کہاں کرنے ہیں۔عوام کا پیسہ عوام پر خرچ نہیں کرنا تو کہاں خرچ کریں گے ۔شہباز شریف صاحب سے ایک روپیہ مانگا نہ لیا ہے ۔اربوں روپے سیلاب زدگان کے انخلا، ریسکیو اور ریلیف پر خر چ کر دیئے۔سیلا ب ز دگان کو بی آئی ایس پی سے دس ہزار نہیں بلکہ دس لاکھ روپے تک دینا چاہتے ہیں۔جس کا گھر گرا، مویشی مر گئے، فصلو ں کا نقصان ہوا سب کے نقصان پورے کرنا چاہتی ہوں ۔جس کا لاکھوں کا نقصان ہوا وہ بی آئی ایس پی سے دس پندرہ ہزار لے کر کیا کرے گا ۔اپنی چھت اپنا گھر سمیت دیگر بڑے پراجیکٹ اپنے ہی وسائل سے چلا رہے ہیں۔پنجاب میں مزدور اور ورکرز کے دو ملین گھرانوں کو راشن مل رہا ہے ۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے کہاکہ ساڑھے تین ارب ر وپے رودکوہیوں کے سدباب کیلئے خرچ کیے، اللہ کے فضل سے اب نقصان نہ ہونے کے برابر ہے۔دوسرے شہروں کو ملنے والی الیکٹرو بس اور دیگر پراجیکٹ سب کو ملیں گے، تفریق نہیں ہو گی۔الیکٹرو بس جیسے پراجیکٹ عوام کی امانت ہیں ان کی حفاظت عوام کے ساتھ ساتھ سب کی ذمہ داری ہے ۔جیسے اپنے گھر اور سواری کو صاف رکھتے ہیں ایسے ہی الیکٹرو بس کو بھی صاف اور حفاظت سے رکھیں۔الیکٹروبس کا خیال رکھنا عوام کی ذمہ داری ہے،نقصان پہنچاتے یا گندگی ڈالتا دیکھیں تو روکیں۔الیکٹروبس جیسے پراجیکٹ کو نقصان پہنچانا، عوام کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے ۔میانوالی میں پتھر مار کر الیکٹرو بس کا شیشہ توڑنے والے کو پکڑ لیا ہے، نشان عبرت بنائیں گے ۔بس کا شیشہ توڑنے سے کسی مسافر کو بھی نقصان پہنچ سکتا تھا ۔