نورِ سحر  میں’’قرآن: اللہ کا پیغام اور مومن کی ذمہ داری‘‘ موضوع پر بصیرت افروز علمی نشست 

جسٹس (ر) نذیر احمد غازی نے کہاکہ قرآن کریم کتابِ ہدایت بھی ہے، کتابِ شفا بھی، اور صحیفۂ انقلاب بھی

Sep 25, 2025 | 12:57:PM
 نورِ سحر  میں’’قرآن: اللہ کا پیغام اور مومن کی ذمہ داری‘‘ موضوع پر بصیرت افروز علمی نشست 
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز)معروف دینی ٹی وی پروگرام "نورِ سحر" میں ایک بصیرت افروز علمی نشست کا انعقاد کیا گیا، جس کا موضوع: "قرآن: اللہ کا پیغام اور مومن کی ذمہ داری" تھا ۔ 

میزبان جسٹس (ر) نذیر احمد غازی نے کہاکہ قرآن کریم کتابِ ہدایت بھی ہے، کتابِ شفا بھی، اور صحیفۂ انقلاب بھی۔

انہوں نے زور دیا کہ ظاہر و باطن کا انقلاب صرف قرآن کریم سے ہی ممکن ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ قرآن اللہ تعالیٰ کا پیغام ہے، اور ہر مومن کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ قرآن سے جڑے، اس کی تلاوت کرے، اسے سمجھے، اور اس پر عمل کرے۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ مسلمان قرآن سے دور ہو چکے ہیں۔

پروفیسر عائشہ ابوبکر نے قرآن کریم کو سرچشمۂ ہدایت اور مکمل ضابطۂ حیات قرار دیتے ہوئے کہا کہ قرآن مجید کے چھ بنیادی حقوق ہیں:ایمان، تلاوت، تدبر، عمل، تبلیغ، اور احترام۔
ان کا کہنا تھا کہ قرآن کا قاری قیامت کے دن فرشتوں کا ساتھی ہوگا، تدبرِ قرآن کے بارے میں انہوں نے واضح کیا کہ وہی تدبر معتبر ہے جو صاحبِ قرآن ﷺ کی فرامین کی روشنی میں ہو۔

مولانا امیر حمزہ نے قرآن پاک کے نزول کے وقت پیش آنے والے روحانی و کائناتی معاملات پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے بتایا کہ جب اللہ کے آخری رسول حضرت محمد ﷺ پر قرآن نازل ہونا شروع ہوا تو شیطانوں کے لیے آسمان کے راستے بند کر دیے گئے، تاکہ وہ فرشتوں کی باتیں نہ سن سکیں۔

انہوں نے قرآن کے آغاز و اختتام میں موجود روحانی اسرار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ قرآن یقین سے شروع ہوتا ہے، جب کہ بائبل شک سے۔
انہوں نے کہا  کہ ادبِ قرآن سیکھنا اور سکھانا ہر مسلمان پر فرض ہے، اور حضرت عمررضی اللہ عنہ کے اندازِ دعوت کو آج کے دور کے مبلغین کے لیے نمونہ قرار دیا۔

پروفیسر حافظ ناصر محمود نے کہا کہ قرآن کے پیغام کو عام کرنے کے لیے رسول اللہ ﷺ نے ناقابلِ بیان تکالیف برداشت کیں۔

انہوں نے حضور ﷺ کی عبادات اور ان کے قدموں میں آنے والے ورم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ قرآن سے آپ کے عشق کی ایک روشن مثال ہے۔
انہوں نے قرآن کریم  اور اہلِ بیتؑ کے باہمی تعلق پر بھی گفتگو کی اور کہا کہ ان دونوں کو جدا نہیں کیا جا سکتا۔