تم نے اروناچل پر غیرقانونی قبضہ جمایا ہے،بھارتی احتجاج پر چین کا صاف جواب

Nov 25, 2025 | 19:20:PM
 تم نے اروناچل پر غیرقانونی قبضہ جمایا ہے،بھارتی احتجاج پر چین کا صاف جواب
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

 (ویب ڈیسک)بھارت کی ریاست اروناچل پردیش میں پیداہوئی خاتون کو  چین کےمشہور  شنگھائی ائیرپورٹ پر روکنے کے خلاف بھارت نے احتجاج درج کرایا۔لیکن چین نے صاف صاف  کہہ دیاکہ اروناچل چین کاحصہ اور بھارت اس پر غیرقانونی قبضہ جمائے بیٹھاہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق چین نے منگل کو اس بھارتی خاتون کے دعوؤں کا جواب دیا جس نے الزام عائد کیا تھا کہ اسے شنگھائی پوڈونگ ائیرپورٹ پر تقریباً 18 گھنٹے تک روکا گیا جب کہ حکام نے  پر اس کے بھارتی پاسپورٹ کو تسلیم کرنے سے انکار کیا۔پیمہ وانگجوم تھونگڈوک (Pema Wangjom Thongdok) جو برطانیہ میں مقیم بھارتی شہری ہیں، 21 نومبر کو لندن سے جاپان سفر کر رہی تھیں جب انکا 3 گھنٹے کا ٹرانزٹ وقفہ ایک اذیت ناک تجربے میں تبدیل ہوگیا۔ تھونگڈوک کا کہنا ہے کہ شنگھائی پوڈونگ کے امیگریشن حکام نے انکے بھارتی پاسپورٹ کو ’’غیر مؤثر /invalid‘‘ قرار دے دیا ، کیونکہ پاسپورٹ میں ان کی جائے پیدائش اروناچل پردیش درج تھی۔

چینی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماؤ  نِنگ (Mao Ning)نے اس واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے بیجنگ کی روایتی پالیسی دہرا دی  ہے۔ چین اروناچل پردیش کو ‘زانگنان’ (جنوبی تبت) کہتا ہے اور اسے اپنی سرزمین تصور کرتا ہے۔  ماؤ  نِنگ نے کہا، ’’زانگنان چین کی سرزمین ہے۔ چینی فریق نے کبھی بھی بھارت کی جانب سے قائم کیے گئے بقولِ غیرقانونی ’اروناچل پردیش‘کو تسلیم نہیں کیا ہے۔ترجمان  نے مزید کہا کہ تھونگڈوک کے خلاف امیگریشن حکام کے اقدام ’’قوانین و ضوابط کے مطابق‘‘ تھے اور ان کا کہنا تھا کہ عملدرآمد غیر جانبدارانہ اور غیر بدسلوکی والا تھا، جبکہ متاثرہ شخص کے قانونی حقوق و مفادات کا مکمل دفاع کیا گیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ائیر لائن نے تاخیر کے دوران خاتون کو آرام کرنے کی سہولت اور غذا فراہم کی۔

چینی کے ردعمل پر بھارت نے واقعے کے بعد بیجنگ اور دہلی دونوں مقامات پر سفارتی سطح پر مضبوط ڈیمارچ (démarche) پیش کی۔ بھارتی حکام نے واضح کیا کہ اروناچل پردیش ’’بلاشبہ‘‘ بھارت کا حصہ ہے اور وہاں کے رہائشی بھارتی پاسپورٹ رکھنے اور سفر کرنے کے پورے حقوق رکھتے ہیں۔ شنگھائی میں بھارتی قونصل خانے نے بھی مداخلت کی، تھونگڈوک کی مدد کی اور انہیں دیر رات کی فلائٹ پر چین چھوڑنے میں معاونت دی۔اس واقعے نے بھارت میں سخت ردعمل پیدا کیا۔ اروناچل پردیش کے وزیراعلیٰ پیمہ کھنڈو نے اس واقعے کی مذمت کی اور اسے بین الاقوامی معیارات کی خلاف ورزی اور بھارتی شہریوں کے ساتھ بدسلوکی قراردیا۔

تھونگڈوک نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹس میں کہا کہ شنگھائی کے امیگریشن اہلکاروں نے انہیں تقریباً 18 گھنٹے تک روکا اور بالآخر ایک دوست کے ذریعے بھارتی قونصل خانے سے رابطہ کر کے انہیں اس مشکل صورتِ حال سے باہر نکلنے میں مدد ملی۔ انہوں نے بتایا کہ حکام نے ان کے ساتھ مضحکہ خیز گفتگو کی اور بعض اہلکاروں نے انہیں چینی پاسپورٹ کے لینے کے لئے بھی کہا، حالانکہ وہ برطانوی رہائشی اور ہندوستانی پاسپورٹ کی حامل تھیں۔

یہ بھی پڑھیں: دھرمیندر کے بے شمار افیئرز میں سب سے زیادہ پراسرار رشتہ کس کے ساتھ تھا؟