وزیراعظم سے قطری وزیرتجارت کی ملاقات، سرمایہ کاری اور تعاون بڑھانے پر اتفاق
Stay tuned with 24 News HD Android App
(اویس کیانی)وزیراعظم شہباز شریف سے قطری وزیر تجارت نے ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان سرمایہ کاری اور تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔
قطری وزیر شیخ فیصل بن ثانی پاکستان قطر مشترکہ وزارتی کمیشن کے چھٹے اجلاس کی شریک صدارت کے لیے پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں۔
وزیراعظم نے پاکستان قطر تعلقات کی مثبت سمت پر اطمینان کا اظہار کیا جو کہ مشترکہ عقیدے، اقدار اور باہمی احترام پر مبنی ہیں، انہوں نے پاکستان کے ایک اہم شراکت دار اور با اثر علاقائی ثالث کے طور پر قطر کے کردار کو سراہا۔
ملاقات کے دوران وزیراعظم نے توانائی، زراعت، غذائی تحفظ، انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاحت اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے مواقع پر زور دیتے ہوئے دو طرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کے تعاون کو بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا، انہوں نے سرمایہ کار دوست پالیسیوں پر روشنی ڈالی اور قطری سرمایہ کاروں کو حکومت کے سپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل فریم ورک کے تحت تعاون کی نئی راہیں تلاش کرنے کی دعوت دی۔
— PTV News (@PTVNewsOfficial) October 24, 2025
اس موقع پر قطر کے وزیر تجارت شیخ فیصل بن ثانی بن فیصل الثانی نے قطری قیادت کی جانب سے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور پاکستان کے ساتھ اقتصادی روابط کو مزید گہرا کرنے کے لیے قطر کے عزم کا اعادہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں:قطر کا پاکستان میں 3 ارب ڈالر سرمایہ کاری کے عزم کا اعادہ، معاہدوں پر دستخط
قطر کے وزیر تجارت نے کہا کہ جے ایم سی کے چھٹے اجلاس نے موجودہ تعاون کا جائزہ لینے اور باہمی فائدہ مند شراکت داری کو آگے بڑھانے کے لیے نئے اقدامات کی نشاندہی کرنے میں ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کیا۔
وزیراعظم نے علاقائی اور عالمی مسائل پر قطر کی مسلسل حمایت پر پاکستان کی جانب سے تعریف کا اظہار کیا اور علاقائی اور کثیرالجہتی فورمز پر تعاون کو مضبوط بنانے کی پاکستان کی خواہش کا اعادہ کیا۔
وزیراعظم سے قطر کے وزیر تجارت و صنعت کی ملاقات
— PTV News (@PTVNewsOfficial) October 24, 2025
وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی قطر کے وزیر تجارت و صنعت شیخ فیصل بن ثانی بن فیصل الثانی سے اسلام آباد میں ملاقات ہوئی. قطری وزیر پاکستان - قطر مشترکہ وزارتی کمیشن (JMC) کے چھٹے اجلاس کی شریک صدارت کے لیے پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں.… pic.twitter.com/jXvvxZwwUY
اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے مشترکہ افہام و تفہیم کو ٹھوس نتائج میں تبدیل کرنے کے لیے قریبی روابط بحال رکھنے پر اتفاق کیا، جس میں کاروبار سے کاروبار کے روابط اور سرمایہ کاری کے منصوبوں کے لیے مزید سہولتیں شامل ہیں۔