پنجاب اسمبلی: 70 سے زائد استحقاقی تحریکیں زیر التوا، پارلیمانی ,ایوانی بالادستی پر زور
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 ںیوز ) سپیکر پنجاب اسمبلی نے ایوان کو آگاہ کیا ہے کہ 70 سے زائد استحقاقی تحریکیں زیر التوا ہیں، جن میں حکومتی اور اپوزیشن دونوں ارکان شامل ہیں۔
پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے اسپیکر نے کہا کہ اگر ان استحقاقی تحریکوں کو ایوان میں زیر بحث لایا گیا تو اس کے لیے کافی وقت درکار ہوگا، تاہم موجودہ بجٹ اجلاس کے دوران تمام اراکین کو اظہارِ خیال کا مکمل موقع فراہم کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ قابلِ سماعت استحقاقی تحریکوں کو متعلقہ فورمز کو بھیجا جائے گا، جبکہ ضرورت پڑنے پر اضافی وقت میں ان پر کارروائی بھی کی جائے گی۔ ان کے مطابق زیر التوا تحریکوں کو موجودہ اجلاس میں نمٹانے کی کوشش کی جائے گی، جبکہ استحقاقی تحریکوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔
اسپیکر نے بتایا کہ فی الحال صرف ایک محکمے سے متعلق استحقاقی تحریکوں کا جائزہ لیا گیا ہے، پارلیمانی نگرانی جمہوری نظام کا بنیادی جزو ہے اور وہ اس عمل کے وکیل ہیں۔
اجلاس کے دوران انہوں نے سیاسی مداخلت، اختیارات کے غلط استعمال اور وردی کے ناجائز استعمال پر تشویش کا اظہار بھی کیا، اُن کا کہنا تھا کہ اگر وہ آئین کی منشا کے مطابق اپنی ذمہ داریاں پوری نہ کر سکے تو وہ اپنی کرسی چھوڑنے سے بھی گریز نہیں کریں گے۔
اسپیکر نے کہا کہ سیاست کو وہ عبادت سمجھتے ہیں اور ایوان کے کسٹوڈین کے طور پر اپنی ذمہ داری ہر صورت ادا کریں گے،انہوں نے اپوزیشن کے خطوط موصول ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ اجلاس کے باعث ان معاملات پر تفصیلی گفتگو بعد میں کی جائے گی۔
اُن کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کے لیے پنجاب اسمبلی ہی واحد فورم ہے، جبکہ حکومت کے پاس اپنی بات رکھنے کے متعدد مواقع موجود ہیں،انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ اپوزیشن کے ہر سوال اور مؤقف کا جواب دیا جائے گا اور ان کے حقِ نمائندگی کا مکمل تحفظ کیا جائے گا۔
اسپیکر نے مزید کہا کہ پارلیمانی بالادستی اور ایوان کے وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور وہ ایوان کے کسٹوڈین کے طور پر اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرتے رہیں گے۔
یہ بھی پڑھیں :ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات