نورِ سحر میں " ولادت باقر العلوم امام محمد باقر علیہ السلام" کے موضوع پر بصیرت افروز،روح پرور نشست
جسٹس (ر) نذیر احمد غازی نے کہا کہ اہلِ بیتِ اطہارؑ کی تاریخ میں امام محمد باقرؑ ایک روشن اور درخشاں نام ہیں
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)معروف دینی و علمی پروگرام "نورِ سحر" میں " ولادت باقر العلوم امام محمد باقر علیہ السلام" کے موضوع پر ایک نہایت مؤثر، بصیرت افروز اور روح پرور نشست کا انعقاد کیا گیا۔
پروگرام کے میزبان جسٹس (ر) نذیر احمد غازی نے کہا کہ اہلِ بیتِ اطہارؑ کی تاریخ میں امام محمد باقرؑ ایک روشن اور درخشاں نام ہیں، جن کی ذات نسب، علم، کردار اور حق گوئی کا حسین امتزاج ہے، آپ امام زین العابدینؑ کے فرزند اور امام جعفر صادقؑ کے والدِ گرامی ہیں، یوں آپ کو حسنی جمال اور حسینی شجاعت دونوں کا ورثہ حاصل تھا۔
انہوں نے کہا کہ امام محمد باقرؑ کو “باقر العلوم” اس لیے کہا جاتا ہے کہ آپ نے علم کے بند دروازے کھولے اور اسرارِ شریعت کو واضح فرمایا۔
انہوں نے صحابیٔ رسول حضرت جابر بن عبداللہ انصاریؓ کا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ امام باقرؑ کا احترام صحابۂ کرامؓ سے سیکھا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اہلِ بیتؑ کی محبت ایمان کی روح ہے اور تاریخ گواہ ہے کہ یہ محبت نہ کبھی کم ہوئی ہے اور نہ ہو سکتی ہے۔
پروفیسر نرید فاطمہ نےکہا کہ امام محمد باقرؑ کی ولادت مدینہ منورہ میں جمعہ کے روز 57 ہجری کو ہوئی، آپ وہ واحد عظیم ہستی ہیں جنہیں حسنی اور حسینی دونوں نسبتیں حاصل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امام باقرؑ نے دین کی بنیاد تین اصولوں پر رکھی: تفقہ فی الدین، مصائب پر صبر اور معاشی زندگی میں اعتدال، آپ نے جعلی تصوف اور ظاہری دکھاوے کی نفی کرتے ہوئے باطن کی پاکیزگی کو اصل معیار قرار دیا۔
انہوں نے امام باقرؑ کی سخاوت اور عملی کردار کے واقعات بیان کرتے ہوئے کہا کہ آپ سائل کی حاجت دیکھ کر فوراً مدد فرماتے تھے تاکہ ریا کا شائبہ نہ رہے۔
علامہ حسن رضا باقر نے امام محمد باقرؑ کی علمی و فکری خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اہلِ بیتؑ صرف روحانی رہنما ہی نہیں بلکہ امت کی اجتماعی، معاشی اور حکومتی رہنمائی کا بھی مرکز رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اموی دور میں اسلامی ریاست کو درپیش معاشی بحران کے حل کے لیے امام محمد باقرؑ کی رہنمائی سے اسلامی کرنسی کی بنیاد رکھی گئی، جو امت کی معاشی خود مختاری کی علامت بنی۔
پروفیسر حافظ ناصر محمود نے کہا کہ رسولِ اکرم ﷺ نے اہلِ بیتؑ کو امت کے لیے ہدایت کے مینار قرار دیا ہے۔
انہوں نے اکابرینِ امت، خصوصاً امام اعظم ابو حنیفہؒ کے اقوال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ فقہ، علم اور ولایت کا اصل فیضان اہلِ بیتؑ ہی سے جاری ہے۔