’ایک لاش اغوا شدہ اسسٹنٹ کمشنرزیارت جبکہ دوسری ممکنہ طور پر بیٹے کی ہے‘لیویزحکام
Stay tuned with 24 News HD Android App
(عیسیٰ ترین)لیویز حکام نے کہا ہے کہ ہرنائی کے علاقے زردآلو سے ملنے والے لاشوں میں ایک اسسٹنٹ کمشنر زیارت محمد افضل کی ہے اور دوسری لاش مبینہ طور پر ان کے بیٹے کی ہو سکتی ہے مگر انہیں چہرے سے شناخت نہیں ہو پارہاہے۔
انچارج لیویز ہیڈکواٹر زیارت محمد عمران دمڑکے مطابق ضلع ہرنائی کے علاقے زردآلو سے ملنے والے دو لاشوں میں ایک اسسٹنٹ کمشنر زیارت محمد افضل کی ہے،ضلع ہرنائی انتظامیہ نے دونوں لاشیں قبضے میں لے لی ہے،اسسٹنٹ کمشنر محمد افضل کی لاش اور دوسری نامعلوم لاش ڈی ایچ کیو ہرنائی منتقل کیا گیا ہے،دوسری لاش کی شناخت کی جارہی ہے۔
لیویز فورس کےمطابق اسسٹنٹ کمشنر محمد افضل کو بیٹے سمیت پچھلے ماہ 10 اگست کو سیاحتی مقام زیزری سے اغوا کیے گئےتھے،باپ بیٹے کے اغواء کی ذمہ داری بلوچ کالعدم تنظیم نے قبول کیا تھا،اغواء کاروں نے گزشتہ روز اسسٹنٹ کمشنر کی ایک ویڈیو بیان جاری کیا تھا،ویڈیو بیان میں مغوی اسسٹنٹ کمشنر حکومت بلوچستان سے اغواء کاروں کی ڈیمانڈ بیان کرتے ہوئے نظر آئے تھے۔
لیوز حکام کا مزید کہنا تھادوسری لاش مبینہ طور پر ان کے بیٹے کی ہو سکتی ہے مگر انہیں چہرے سے شناخت نہیں ہو پارہاہے ،اس لیے لیویز رسالدار بطور ان کے بیٹے کی تصدیق نہیں کر سکتا جب تک لاشیں ہسپتال سے تصدیق ہو۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب کیساتھ معاہدہ دنیا میں امن کا ضامن بنے گا: طاہر محمود اشرفی