توشہ خانہ ٹو کیس:چشم دید گواہ سابق ملٹری سیکرٹری کا بیان سامنے آگیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
( ارشاد قریشی )بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ ٹو کیس کے چشم دید گواہ سابق ملٹری سیکرٹری کا بیان سامنے آگیا۔
سابق ملٹری سیکریٹری بریگیڈیئر ریٹائرڈ محمد احمد بانی پی ٹی آئی کے خلاف عدالت کے روبرو بیان ریکارڈ کراچکے ہیں۔
سابق ملٹری سیکرٹری کے مطابق بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی نے سعودی ولی عہد کی جانب سے دیئے گئے تحائف توشہ خانہ میں جمع نہ کرانے کی ہدایت کی تھی،تحائف میں جیولری سیٹ، عود کی بوتلیں، زیتون کا تیل، کھجور اور ایک کتاب شامل تھی، تحائف ملنے کے بعد بانی پی ٹی آئی نے انہیں توشہ خانہ میں جمع کرانے سے روک دیا تھا۔
سابق ملٹری سیکرٹری کے مطابق تمام تحائف کی سرکاری پروٹوکول کے مطابق تصاویر بنائی گئیں،نیب اور ایف آئی اے کے سامنے بھی اپنا بیان ریکارڈ کراچکا ہوں،غیر ملکی دوروں میں تحائف وصولی کے وقت وزارتِ خارجہ کے نمائندے موجود ہوتے ہیں۔
سابق ملٹری سیکرٹری کے مطابق سعودی عرب میں ملنے والے تحائف پر وزارتِ خارجہ نے وزیراعظم آفس کو تحریری طور پر آگاہ کیا،توشہ خانہ کابینہ ڈویژن کے ماتحت ہے،سعودی عرب سے ملنے والے تحائف کی مالیت 29 لاکھ 14 ہزار 500 روپے لگائی گئی،رقم بشریٰ بی بی کو سعودی ولی عہد کی جانب سے دیے گئے تحائف کے عوض جمع کرائی گئی۔
سابق ملٹری سیکرٹری کے مطابق توشہ خانہ سیکشن کی طرف سے کوئی اعتراض نہیں آیا،تحائف کی مالیت کا تعین اور توشہ خانہ کے ساتھ خط و کتابت ڈپٹی ملٹری سیکرٹری نے بانی پی ٹی آئی کے حکم پر کی تھی۔
سابق ملٹری سیکرٹری کاکہناہے کہ میں نے 15 مئی 2020 سے 10 اپریل 2022 تک بطور ملٹری سیکرٹری فرائض انجام دئیے،7 مئی 2021 سے 10 مئی 2021 تک سعودی عرب میں سابق وزیر اعظم کے ساتھ تھا۔
ایف آئی اے حکام کے مطابق بلگاری جیولری سیٹ کی اصل مالیت ساڑھے 7 کروڑ تھی، بانی پی ٹی آئی نے پرائیویٹ اپریزر سے سیٹ کی قیمت 59 لاکھ روپے لگوائی،بانی پی ٹی آئی نے صرف 29 لاکھ روپے سرکاری خزانے میں جمع کرائے، جیولری سیٹ میں نیکلیس، بریسلیٹ، ائیر رنگز اور انگوٹھی شامل تھیں۔