نورِ سحرمیں "دجال اور شیطانی قوتیں: انسان کے ایمان کا امتحان" بصیرت افروز علمی نشست

جسٹس (ر) نذیر احمد غازی نے کہا کہ دنیا کا کوئی خطہ ایسا نہیں جس پر اللہ کے محبوب ﷺ کے احسانات نہ ہوں، مگر امتِ مسلمہ پر خاص رحمتوں کا نزول ہے

Oct 21, 2025 | 14:30:PM
 نورِ سحرمیں
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز)معروف ٹی وی پروگرام "نورِ سحر" میں ایک روح پرور اور بصیرت افروز علمی نشست کا انعقاد کیا گیا جس کا موضوع "دجال اور شیطانی قوتیں: انسان کے ایمان کا امتحان" تھا۔ 

میزبان جسٹس (ر) نذیر احمد غازی نے کہا کہ دنیا کا کوئی خطہ ایسا نہیں جس پر اللہ کے محبوب ﷺ کے احسانات نہ ہوں، مگر امتِ مسلمہ پر خاص رحمتوں کا نزول ہے۔ آپ ﷺ نے اپنی امت کو ہر فتنے، خاص طور پر دجال کے فتنے سے خبردار کیا، جو قیامت سے قبل سب سے بڑا فتنہ ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ دجال صرف ایک فرد نہیں بلکہ دجالیت کی صورت میں یہ فتنہ ہر شعبۂ زندگی میں سرایت کر چکا ہے، اور نبی اکرم ﷺ سے امت کی نسبت عشقی کو کمزور کرنے کے لیے ایک منظم عالمی سازش جاری ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر مدثر حسین سیان نے کہا کہ سید مناظر احسن گیلانی کے مطابق دجال اگرچہ قیامت کے قریب ظاہر ہو گا، لیکن دجالیت ہمیشہ سے موجود ہے۔

انہوں نے تین بڑے محاذوںتعلیمی و فکری، غذائی و مالی، اور ثقافتی محاذپر دجالی اثرات کی نشاندہی کی  اور کہا کہ آزادیِ رائے کے نام پر معاشرتی اقدار اور رشتوں کی حرمت پامال کی جا رہی ہے۔

صوفی عبدالحمید قادری نے کہا کہ تمام انبیائے کرام نے فتنہ دجال سے خبردار کیا اور نبی کریم ﷺ نے اس فتنہ کی تفصیل سے وضاحت فرمائی۔

انہوں نے کہا کہ آج نوجوان نسل دجالی جال میں بری طرح جکڑی جا رہی ہے، جبکہ دجالی نظام تعلیم، معیشت اور سوشل میڈیا کے ذریعے انسانیت کو قیدی بنا چکا ہے۔

ڈاکٹر محمد اقبال چشتی نے کہا کہ صحابہ کرام نے رسول اللہ ﷺ سے شر کے بارے میں دریافت کیا تو آپ ﷺ نے واضح فرمایا کہ سب سے بڑا شر وہ ہوگا جو ظاہری طور پر علم کے لبادے میں ہوگا، یعنی "علمائے سو"۔ ایسے افراد منبر پر بیٹھ کر دین کو تفریق اور نفرت کا ذریعہ بنائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ قربِ قیامت کی علامات تیزی سے ظاہر ہو رہی ہیں اور موجودہ دور میں سچ اور جھوٹ کی پہچان مشکل ہوتی جا رہی ہے۔