اسرائیل امن کی راہ میں بڑی رکاوٹ،مسلمانوں کا اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے: ترک صدر
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز)ترک شہر استنبول میں او آئی سی وزرائے خارجہ کے دو روزہ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے ترک صدر نے کہا کہ مسلمانوں کا اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق او آئی سی اجلاس میں غزہ پر اسرائیلی حملوں اور ایران اسرائیل تنازع پر خصوصی سیشن ہوگا۔
عرب میڈیا کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اجلاس میں موجود ہیں، اجلاس میں مختلف ممالک کے 40 سے زائد سفارت کار شریک ہیں۔
اجلاس میں پاکستانی اور ایرانی وزیر خارجہ ایک دوسرے کے برابر میں بیٹھے ہیں۔
سیکریٹری جنرل او آئی سی حسین ابراہیم طحہ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ او آئی سی دنیا کی دوسری بڑی تنظیم ہے، ایران اسرائیل تنازع کا پُرامن حل تلاش کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ایران پر اسرائیلی حملے کی مذمت کرتے ہیں، ایران اور غزہ پر اسرائیلی جارحیت ناقابلِ قبول ہے، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ ختم ہونی چاہیے۔
سیکریٹری جنرل او آئی سی نے کہا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہر ملک کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔
مذاکرات کے ذریعے تنازعات کا حل تلاش کیا جائے، موجودہ حالات میں اتحاد بین المسلمین ناگزیر ہے۔
بعدازاں ترک صدر رجب طیب اردوان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل غزہ میں فلسطینیوں پر حملے کر رہا ہے، اسرائیل مسلسل خطے کو عدم استحکام کا شکار کر رہا ہے۔
ترک صدر نے کہا کہ نیتن یایو کی حکومت خطے میں امن کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
اسرائیل نے یمن، لیبیا، شام پر جارحیت کے بعد ایران پر حملہ کردیا ہے، اسرائیل کی ایران پر جارحیت کی مذمت کرتے ہیں۔
رجب طیب اردوان نے کہا کہ ترک عوام ایرانی بہن بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں، مسلمانوں کا اتحاد وقت کی ضرورت ہے۔
عالمی برادری اسرائیلی جارحیت کو رکوانے کے لیے کردار ادا کرے۔
ترک صدر نے کہا کہ اسرائیلی حملوں سے خطہ تباہی کی طرف جارہا ہے۔
اسرائیل نے نسل کشی کی پالیسی جاری رکھی ہوئی ہے۔ اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کو روکنا ہوگا۔
انہوں نے کہ اسرائیل پورے خطے میں اپنا تسلط قائم کرنا چاہتا ہے۔ اسرائیل کے ہاتھ مسلمانوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔