مودی حکومت کی کم بختی،24سیاستی جماعتوں نے گھیرے میں لے کر شدید حملہ کر دیا

’انٹیلی جنس کی واضح ناکامی‘ کے باوجود آئی بی کے سربراہ کو توسیع کیوں دی گئی؟ ابھیشیک بینرجی

Jul 21, 2025 | 19:46:PM
مودی حکومت کی کم بختی،24سیاستی جماعتوں نے گھیرے میں لے کر شدید حملہ کر دیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)بھارت کی سیاسی جماعت ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے جنرل سیکریٹری اور رکن پارلیمنٹ ابھیشیک بینرجی نے بھارت کی خارجہ پالیسی میں گراوٹ اور مقبوضہ جموں کشمیر کے پہلگام میں ہوئے دہشت گردانہ حملےکےتعلق سےمرکزی حکومت پر شدید حملہ کیا ہے ۔ انہوں نے اسے ’انٹیلی جنس کی واضح ناکامی ‘ قرار دیا اور پوچھا گیا کہ جبکہ گورنر نے خود اس بات کا اعتراف کیا ہے تو پھر انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کے سربراہ کو توسیع کیوں دی گئی؟۔

بھارتی ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق  ا بھیشیک بینرجی نے یہ تبصرہ انڈیا اتحاد کی آن لائن میٹنگ  میں کیا جس میں بھارت کی 24 پا رٹیوں کے  لیڈروں نے شرکت کی ۔ اجلاس  کا اہتمام پیر سے شروع ہونے والے پارلیمنٹ کے مون سون اجلاس کیلئے اپوزیشن کی مشترکہ حکمت عملی طے کرنے کیلئے کیا گیا تھا۔ٹی ایم سی کے رکن پارلیمنٹ نے حکومت پر دہشت گردوں کی بجائے اپوزیشن جماعتوں کے لیڈروں کی جاسوسی کرنے کا بھی ا لزام لگایا۔ میٹنگ میں موجود ذرائع کے مطابق ابھیشیک بینرجی نے کہا کہ یہ حملہ انٹیلی جنس نظام کی مکمل ناکامی ہے۔ اس بات کو گورنر خود قبول کر چکے ہیں۔ اس کے باوجود آئی بی چیف کو مدت ملازمت میں توسیع دینا کس مجبوری کی علامت ہے؟ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا حکومت ناکامی کے باوجود افسران کی عزت افزائی کر رہی ہے؟۔ ابھیشیک بنرجی نے پیگاسس اسپائی ویئر کے غلط استعمال کا مسئلہ بھی اٹھایا۔ انہوں نے مرکزی حکومت پر الزام لگایا کہ وہ اس ٹیکنالوجی کا استعمال دہشت گردی سے لڑنے کی بجائے اپوزیشن لیڈروں کی جاسوسی کرنے اور انہیں ڈرانے دھمکانے کیلئے کر رہی ہے ۔ بینرجی نے میٹنگ میں کہا کہ حکومت دہشت گردوں کو پکڑنے کے بجائے اپوزیشن کو ہراساں کرنے کے لیے پیگاسس کا استعمال کر رہی ہے، یہی ان کی ترجیح ہے۔
 ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے رکن پارلیمنٹ نے بھارت کی خارجہ پالیسی میں گراوٹ پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہاپہلے بھارت کی بین الاقوامی ساکھ بہت مضبوط تھی لیکن اب صورت حال بدل گئی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ پہلگام حملے کے بعد کسی آسیان ملک نے پاکستان کا نام لے کر مذمت کیوں نہیں کی؟ گزشتہ دس بارہ  برسوں میں ہماری خارجہ پالیسی مسلسل کمزور ہوئی ہے۔ پہلے دنیا ہماری سنتی تھی، اب خاموش ہے۔ابھیشیک بنرجی نے خارجہ پالیسی پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ حملے کے بعد واضح معلومات نہیں دی گئیں اور عام شہریوں کو اپ ڈیٹس حاصل کرنے کیلئے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر انحصار کرنا پڑا۔ یہ شرم کی بات ہے کہ ملک عوام اپنے ملک کی حکومت کے بجائے ٹرمپ کے سوشل میڈیا ہینڈلز سے معلومات لے رہے تھے۔ انہوں نے حکومت کے اس فیصلے پر بھی تنقید کی جس میں اراکین پارلیمنٹ کے ایک وفد کو دوسرے ممالک کو بریف کرنے کیلئے بیرون ملک بھیجا گیا تھاجبکہ بھارتی عوام کو اندھیرے میں رکھا گیا تھا۔ پہلگام حملے کے بعد حکومت نے اراکین پارلیمنٹ کو دوسرے ملکوں کے دورے پر بھیجا۔ اس سے کیا حاصل ہوا؟ کتنے ممالک ہماری حمایت میں آگے آئے؟ حکومت نے اپنے ہی لوگوں کو سچ بتانے سے گریز کیا۔
ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے رکن پارلیمنٹ نے الیکشن کمیشن کی طرف سے چلائی جا رہی خصوصی ووٹر لسٹ پر نظرثانی کی مہم کو بھی ’پچھلے دروازے سے این آر سی کو لاگو کرنے کی سازش قرار دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی مہاراشٹر، بہار اور بنگال جیسی ریاستوں میں  را ئے دہندگان کی فہرستوں میں ہیرا پھیری کر رہی ہے۔ کہیں جعلی ووٹروں کو جوڑا جا رہا ہے، کہیں اصلی ووٹروں کو ہٹایا جا رہا ہے۔ مہاراشٹر میں انہوں  نے 40لاکھ نئے ووٹرز کو شامل کیا۔ اب بہار میں بھی یہی کوشش کی جا رہی ہے۔ بنگال میں وہ حقیقی ووٹروں کو ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
واضح رہے اس ورچوئل میٹنگ میں کانگریس، ترنمول کانگریس، ڈی ایم کے، آر جے ڈی، ایس پی، این سی پی (شرد پوار)، شیو سینا (ادھو)، جے ایم ایم، بائیں بازو کی پارٹیوں، فارورڈ بلاک، آئی یو ایم ایل اور کیرالا کانگریس سمیت24 پا رٹیوں کے  لیڈروں نے شرکت کی۔ میٹنگ کا مقصد پارلیمنٹ کے اجلاس میں حکومت کو گھیرنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی بنانا تھا، جس میں دہشت گردی کے حملوں، انٹیلی جنس کی ناکامی، پیگاسس کے غلط استعمال اور خارجہ پالیسی کی خرابی جیسے مسائل پر سنجیدہ بات چیت کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں:ہیڈ تریموں اور ہیڈ مرالہ پر پانی کی سطح میں اضافہ ہونے لگا