کیرالا کے کانگریسی وزیراعلیٰ نے 35اہم محکمے اپنے پاس رکھ کر باقی وزارتیں ساتھیوں میں تقسیم کر دیں

May 20, 2026 | 18:33:PM
 کیرالا کے کانگریسی وزیراعلیٰ نے 35اہم محکمے اپنے پاس رکھ کر باقی وزارتیں ساتھیوں میں تقسیم کر دیں
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک) بھارت کی  جنوبی ریاست کیرالا کے نئے وزیر اعلیٰ ستیسن نے اپنی کابینہ کے ارکان میں محکمے بانٹ دیئے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے  35 اہم ترین محکمے اپنے ہاتھ میں رکھے تاہم پولیس اور  کئی دوسرے اہم محکموں کی وزارت داخلہ ساتھی وزیر  چینیتھالا کے سپرد کر دی۔
وزیر اعلیٰ وی ڈی ستیسن نے 20 مئی کو اپنے بیان میں کہا کہ انتخابی اتحاد  یو ڈی ایف کے سیکولر رخ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ یو ڈی ایف فرقہ واریت کی سخت مخالفت کرتا رہے گا۔
کیرالا کی کانگریس قیادت والی یو ڈی ایف حکومت نے نئی کابینہ میں محکموں کی تقسیم کا اعلان کر دیا ہے۔ کیرالا لوک بھون کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق وزیر اعلیٰ وی ڈی ستیسن نے مالیات، قانون، عمومی انتظامیہ اور بندرگاہوں سمیت 35 محکمے اپنے پاس رکھے ہیں۔ اہم فیصلوں اور پالیسی سازی سے متعلق کئی کلیدی محکمے خود وزیر اعلیٰ سنبھالیں گے، جس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت کے بیشتر اہم اختیارات وزیر اعلیٰ دفتر کے پاس ہی رہیں گے۔
کانگریس کے سینئر لیڈر رمیش چینیتھالا کو وزارتِ داخلہ اور ویجیلنس کا محکمہ سونپا گیا ہے۔ ویجیلنس ایسا محکمہ ہوتا ہے جو بدعنوانی پر نظر رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ وہ مزید 3 محکموں کے امور بھی سنبھالیں گے۔ آئی یو ایم ایل لیڈر پی کے کنہالی کٹی صنعت اور کاروبار سے متعلق 7 محکموں کی ذمہ داری سنبھالیں گے، جن میں صنعت، آئی ٹی اور ٹیکسٹائل کی وزارتیں شامل ہیں۔ کیرالا کانگریس کے صدر سنی جوزف کو بجلی اور ماحولیات کی وزارتیں سونپی گئی ہیں۔
 مرلی دھرن کو صحت اور دیواسم (مندروں اور مذہبی مقامات کی نگرانی کرنے والا محکمہ) کا وزیر بنایا گیا ہے۔ کیرالا حکومت میں خاتون وزیر روزی ایم جان اعلیٰ تعلیم کا محکمہ سنبھالیں گی، جبکہ اے پی انل کمار کو زمین اور محصولات کا محکمہ دیا گیا ہے۔ شمس الدین کو عمومی تعلیم کا وزیر مقرر کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ڈبے پر  پھلوں کی تصویریں، اندر شراب؛ پڑوسی ملک میں شراب فروشی کا نیا ڈھنگ سپریم کورٹ میں چیلنج 
اس درمیان کیرالا کے وزیر اعلیٰ وی ڈی ستیسن نے بدھ کے روز اپنے ایک بیان میں کہا کہ کانگریس کی قیادت والے متحدہ جمہوری محاذ (یو ڈی ایف) کے سیکولر موقف پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یو ڈی ایف فرقہ پرستی کی سخت مخالفت کرتا رہے گا۔ کابینہ اجلاس کے بعد وزیر اعلیٰ ستیسن نے کہا کہ ان کے اور یو ڈی ایف کے اختیار کردہ سیکولر موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’یہ ایک نہایت مضبوط سیکولر موقف ہے۔ جو بھی فرقہ پرستی کی زبان بولے گا، اس کی سخت مخالفت کی جائے گی۔ یہ یو ڈی ایف کا مضبوط سیکولر مؤقف ہے اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔‘‘

یہ بھی پڑھیں: صنم جاوید کی 9 مئی کے مقدمے سزا معطلی اور رہائی کی درخواست پر اہم پیش رفت 

دیگر کیٹیگریز: دنیا