پٹرول کی قیمت  76  روپے فی لٹر،  ڈیزل 170 روپے فی لٹر بڑھانے کی تجویز مسترد؛ ؛ وزیراعظم نے کچھ دیئے بغیر عوام کو عیدی دے دی

Mar 20, 2026 | 23:34:PM
پٹرول کی قیمت  76  روپے فی لٹر،  ڈیزل 170 روپے فی لٹر بڑھانے کی تجویز مسترد؛ ؛ وزیراعظم نے کچھ دیئے بغیر عوام کو عیدی دے دی
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز) وزیراعظم شہباز شریف نے کوئی پیسہ دیئے بغیر عوام کو عید الفطر کی عیدی دے دی۔ شہباز شریف نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں عالمی منڈی میں بے تحاشا برھنے کے باوجود پاکستان میں پٹرول ڈیزل کی قیمتیں بڑھانے سے انکار کر دیا۔ 

 آج شب وزیراعظم نے ٹی وی پر آ کر بتایا کہ انہیں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں مین پچاس روپے فی لٹر اضافہ کرنے کی تجویز آئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مین پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کوئی یاضافہ نہیں کر رہا، مین نے پٹرول، ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کی تجویز مسترد کر دی ہے۔

پٹرول کی قیمت  76  روپے فی لٹر،  ڈیزل 170 روپے فی لٹر بڑھانے کی تجویز

وزیر اعظم شہباز شریف نے تفصیل کے ساتھ بتایا کہ انترنیشنل مارکیٹ مین کروڈ آئل کی قیمتیں بے تحاشا برھی ہیں۔ ان بڑھی ہوئی قیمتوں کے تناسب سے  پاکستان مین مجھے سمری پیش کی گئی کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتین مزید برھائی جائیں۔  وزیر اعظم شہباز شریف نے بتایا کہ میں نے پٹرول اور ڈیزل کی  قیمتین بڑھانے کی تجویز کو مسترد کر دیا ہے اور ی ہفیصلہ کیا ہے کہ اس ہفتے کے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتین موجودہ سطح پر برقرار رکھنے کی لاگت حکومت خود برداشت کرے گی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے موجودہ صورتحال میں کفایت شعاری کا راستہ اپنانے کا فیصلہ کیا، اپنے بہت سے اخراجات کم کئے، سرکاری گاڑیوں کا ایندھن کا خرچ بھی کم کیا۔ اب تک  حکومت 69 ارب روپے کی بچت کر چکی ہے۔

وزیراعظم نے عوام سے اپیل کی کہ وہ صورتحال کو سمجھیں، اپنے طرز زندگی میں تبدیلی لائیں، کفایت شعاری اور سادگی کا راستہ اختیار کریں۔ 

ویزر اعظم کے قوم سے خطاب کی مزید تفصیل

وزیراعظم شہباز شریف نے پیٹرول اور  ڈیزل کی قیمتیں برقرار رکھنےکا اعلان کیا ہے۔

قوم سے اپنے خطاب میں وزیراعظم شہباز شریف نےکہا کہ  دل کی گہرائیوں سے سب کو عیدالفطر کی مبارک باد پیش کرتا ہوں، عید قومی یکجہتی اور اجتماعی ذمہ داری کا تقاضا کرتی ہے، عید کی خوشیاں تب پوری ہوتی ہیں جب انہیں اپنے اردگرد لوگوں کے ساتھ بانٹیں۔

 وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ  آج دنیا ایک غیرمعمولی آزمائش سے دوچار ہے،  ہمارے خطے میں جاری جنگ نے عالمی معیشت اور امن واستحکام کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے، خطے میں برادر ممالک کی توانائی تنصیبات  پر ہونے والے حملوں نے بحران بڑھا دیا ہے۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ  خدشہ ہے کہ یہ بحران مزید بڑھ سکتا ہے، اس وقت عالمی منڈی میں خلیجی تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں، جو تیل چند ہفتے پہلے 72 ڈالر فی بیرل تھا وہ آج 158 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا ہے، حالیہ تاریخ میں مہنگائی کا طوفان جنم لے رہا ہے، مارچ کے آغاز  میں تیل کی قیمتوں میں 55 روپے فی لیٹر اضافے نے عوام پر بہت بوجھ ڈالا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں اضافےکی تجویز کو مسترد کردیا ہے، مجھے  پیٹرول میں 50  روپے اور ڈیزل کی قیمت میں 74 روپے فی لیٹر اضافےکی تجویز دی گئی،فیصلہ کیا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں  اضافے  کا بوجھ حکومت برداشت کرے گی، ایسے حالات میں مزید اضافہ کرنا عام آدمی کی زندگی کو شدید متاثر کرتا، میری نظر میں اس وقت سب سے بڑی ترجیح محروم طبقے کا تحفظ یقینی بنانا ہے، یہ کوئی دیرپا حل نہیں ہے، جہاں تک ممکن ہے ہم یہ بوجھ خود برداشت کر رہے ہیں۔

وزیراعظم نے بتایا کہ گزشتہ دو ہفتے کے دوران وفاقی حکومت پیٹرول کی قیمت میں اب تک 127 روپے فی لیٹر اضافہ روک رہی ہے، آج سے شروع ہونے والے ہفتے میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوچکا ہے، ہمیں اپنی روزمرہ زندگی میں کفایت شعاری کو اپنانا ہوگا،  حکومت کے ساتھ اشرافیہ کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری ادا کرے، کفایت شعاری اور سادگی مہم کا آغاز حکومتی سطح پر نافذالعمل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے قومی وسائل کے ذمہ دارانہ استعمال کو یقینی بنایا ہے، میں روزنہ کی بنیاد پرکفایت شعاری کے اقدامات کا جائزہ لے رہا ہوں، آج ہمیں ایثار اور قربانی کے جذبے کی جتنی ضرورت ہے وہ شاید پہلے کبھی نہیں تھی، دعا ہے کہ خطے میں جاری جنگ کا جلد ازجلد حل نکلے۔

افواہیں دم توڑ گئیں، عید پر صدمے سے بچ گئے

جمعہ کے روز دن بھر سوشل میڈیا پر یہ افواہین گردش کرتی رہین کہ وزیراعظم شہباز شریف آج پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں مین بھاری اضافہ کر کے عوام پر عید کے روز پٹرول بم گرانے والے ہیں۔ ان افواہوں کو لے کر بعض مخصوص گروہوں نے حکومت پر  تنقید کی توپوں کے دہانے کھول دیئے۔ آج رات وزیراعظم نے عوام سے خطاب میں پٹرول، ڈیزل کی قیمت برقرار رکھنے اور تمام اضافی  لاگت خود برداشت کرنے کا اعلان کیا تو افواہیں دم توڑ گئیں۔