مون سون کے چوتھے سپیل کا آج سے آغاز، کراچی سمیت اندرون سندھ میں بادل برس پڑے

جہلم میں بارشوں سے  انفراسٹرکچر تباہ ، سیلاب سے سیکڑوں ایکڑ  فصلیں زیرآب ،دریائے سندھ کی سطح میں مسلسل اضافہ ، دفعہ144 نافذ

Jul 20, 2025 | 09:05:AM
مون سون کے چوتھے سپیل کا آج سے آغاز، کراچی سمیت اندرون سندھ میں بادل برس پڑے
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

 (24  نیوز )ملک بھرمیں مون سون بارشوں کا چوتھا  سپیل آج سے شروع ہوگا۔کراچی کے مختلف علاقوں میں صبح سویرے بارش سے موسم خوشگوار ہو گیا ۔نظامِ زندگی بری طرح متاثر , بجلی کی فراہمی بھی معطل ہو گئی 

 تفصیلات کے مطابق  ملک بھر میں مون سون بارشوں کے چوتھے سپیل کا آج سے آغاز ہو ہو گا ،  محکمہ موسمیات  نے  25جولائی تک آندھی اور موسلا دھار بارشوں کا الرٹ جاری کر دیا ۔لاہور،فیصل آباد، راولپنڈی، مری ، گلیات، اٹک ، چکوال اورجنوبی پنجاب میں بادل برسیں گے۔بلوچستان،خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان اور کشمیر کے بعض مقامات پر گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی کر دی گئی  ۔ندی نالوں میں طغیانی،پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ  ہے ۔

کراچی میں بھی  موسلادھار بارشوں سے  نشیبی علاقوں اور گلی محلوں میں پانی جمع ہو گیا ہے جبکہ متعدد علاقوں میں بجلی کی فراہمی بھی معطل ہو گئی۔

سندھ کے دیگر شہروں   حیدرآباد، میرپور خاص، ٹھٹھہ، مکلی، سکھر، میرپور ماتھیلو، کندھ کوٹ، خیرپور ناتھن شاہ اور ہری پور میں موسلا دھار بارش ہوئی، جس سے سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔

ایئرپورٹ، ملیر، گلستان جوہر ، گلشن اقبال، نارتھ کراچی اور نیوکراچی سمیت شہر میں بادل برسے، بارش سے شہر کا موسم خوشگوار ہوگیا، حیدرآباد، مٹیاری، بدین،میرپور خاص، ٹنڈوالہٰ یار میں بھی بارش سے موسم خوشگوا ر ہو گیا ۔

یہ بھی پڑھیں:امریکی کمپنی کے CEO نے ہاتھ کھڑے کر دیئے

دوسری جانب پنجاب کے مختلف شہروں میں بارش سے شدید تباہی ہوئی۔ جہلم میں فلیش فلڈنگ کے باعث انفراسٹرکچر تباہ ہو گیا اور دارا پل پانی میں بہہ گیا۔ رینالہ خورد میں برساتی پانی کھیتوں اور قریبی آبادیوں میں داخل ہو گیا  جبکہ لیہ میں باجرے سمیت دیگر فصلوں کو نقصان پہنچا۔ پنڈی بھٹیاں کے کئی دیہات زیرِ آب آ گئے اور ننکانہ صاحب میں پانی قبرستان میں داخل ہو گیا۔ منڈی بہاالدین کی مرکزی شاہراہ پر دراڑیں پڑ گئیں۔

پنجاب میں بارشوں کے بعد کئی اضلاع میں سیلاب کا سامنا ہے، سیکڑوں ایکڑ رقبے پرفصلیں زیر آب آ چکی ہیں۔ بارشوں کے باعث میانوالی کے مقام پر دریائے سندھ کی سطح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ چشمہ بیراج پر درمیانے، جناح بیراج کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے۔

تربیلا ڈیم کے سپل ویز کھلنے کے بعد دریائے سندھ میں پانی کے بہاؤ میں غیر معمولی اضافہ ہو گیا ہے، جس کے نتیجے میں اٹک خورد کے مقام پر بڑا سیلابی ریلہ گزر رہا ہے۔انتظامیہ کے مطابق  دریائے سندھ کے اطراف واقع گاؤں ہارون، دامان، شادی خان، فورملی اور اٹک خورد متاثر ہونے کے شدید خدشات ہیں، جس کے پیش نظر ان علاقوں میں الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ شہریوں کو آبی مقامات کے قریب جانے سے سختی سے منع کر دیا گیا ہے اور دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق  تربیلا ڈیم سے گزشتہ روز دو لاکھ ساٹھ ہزار کیوسک پانی چھوڑا گیا، جس کے باعث دریائے سندھ میں پانی کی سطح بلند ہوئی ہے اور ممکنہ طور پر نشیبی علاقے زیر آب آ سکتے ہیں،انتظامیہ اور ریسکیو ادارے مکمل الرٹ پر ہیں اور عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں۔

دریائے سندھ میں طغیانی سے لیہ کے نشیبی علاقوں میں بھی سیلابی صورتحال ہے، رینالہ خورد میں برساتی نالہ ٹوٹ گیا، جس سے پانی آبادی میں داخل ہوگیا، سیکڑوں ایکڑ رقبے پرکھڑی فصلیں زیرآب آ گئیں۔

 منڈی بہاالدین میں بارش سے نئی تعمیر کی گئی سیوریج پائپ لائن بیٹھ گئی، مرکزی شاہراہ میں دراڑیں پڑ گئیں۔ پنڈی بھٹیاں میں بارشوں سے متعدد دیہات زیرآب آگئے۔

پاکپتن میں دفعہ 144 کے باوجود کمسن بچوں کی نہر میں نہانے کی ویڈیو سامنے آگئی، ننکانہ صاحب میں بارش سے چھتیں اور دیواریں گرنے سے کئی افراد زخمی ہوئے۔