وزیراعظم کی پروٹیکٹریٹ آف ایمیگرنٹس کی کارکردگی مزید بہتر بنانےاور کرپٹ عناصر کے خلاف سخت کاروائی کی ہدایت
Stay tuned with 24 News HD Android App
(اویس کیانی) وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت انسانی اسمگلنگ کے خاتمے اور غیر قانونی طور پر بیرون ممالک سفر کے خلاف اقدامات پر جائزہ اجلاس آج منعقد ہوا۔وزیراعظم نے انسانی اسمگلنگ کے خاتمے کے لئے متعلقہ اداروں کی کاوشوں کی پزیرائی کی۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک سفر کرنے والے مسافروں کی آف لوڈنگ کے حوالے سے حالیہ اطلاعات اور اس حوالے سے شکایت پر وفاقی وزیر داخلہ نے خود ایئرپورٹس پر جا کر صورتحال کا جائزہ لیا جو انتہائی لائق تحسین ہے ۔
اجلاس کے دوران وزیراعظم نے ہدایت کی کہ غیر قانونی طور پر بیرون ممالک کا سفر کرنے والوں اور مشکوک سفری دستاویزات رکھنے والوں کے خلاف کاروائی میں اس بات کا خاص خیال رکھا جائے کہ معتبر سفری دستاویزات رکھنے والے مسافر اس سے متاثر نا ہوں ۔ انہوں نے پروٹیکٹریٹ آف ایمیگرنٹس کی کارکردگی مزید بہتر بنانے اور وفاقی تحقیقاتی ادارہے اور دیگر متعلقہ اداروں سے ہم آہنگی مزید بہتر بنانے کی ہدایت تاکہ قانونی طور پر بیرون ملک ملازمت کے لئے جانے والوں کو دوران سفر کسی رکاوٹ کا سامنا نا کرنا پڑے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایمیگریشن کا نظام بہتر بنانے کے حوالے سے ٹیکنالوجی کا بھرپور استعمال وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کرپٹ عناصر کے خلاف سخت کاروائی کی بھی ہدایت کی۔
اجلاس کو بیرون ملک کا غیر قانونی سفر کرنے والوں کی خلاف کاروائیوں اور اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ایف آئی اے نے اس سال انسانی اسمگلنگ اور بیرون ممالک غیر قانونی سفر کے کا غیر قانونی کاروبار میں ملوث 451 افراد کو گرفتار کیا ہے ؛ متعلقہ اداروں کی کاروائی سے یورپ کا غیر قانونی سفر کرنے والے پاکستانیوں کی تعداد میں 47 فیصد کمی آئی ہے ؛ اسی طرح برطانیہ اور خلیجی ممالک میں غیر قانونی دستاویزات پر سفر کرنے والوں کی تعداد میں کمی آئی ہے ؛ یورپ کے ممالک میں غیر قانونی ہجرت، ورک ویزا، وزٹ و ٹورسٹ ویزا کا غلط استعمال، آف لوڈنگ اور ڈی پورٹیشن کی اہم وجوہات ہیں ؛ زیادہ تر مسافر سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات ، عراق، ملائیشیاء اور اومان سے ڈی پورٹ ہوئے۔

اجلاس کو مزید آگاہ کیا گیا کہ وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) میں رسک اسیسمیںنٹ یونٹ کام کر رہا ہے جس سے مسافروں کی ٹارگٹڈ اسکریننگ کی جاتی ہے اور ڈی پورٹ ہونے اور غیر قانونی سفر کرنے والے مسافروں کا ڈیٹا سسٹم میں شامل کیا جاتا ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ایف آئی اے، اینٹی نارکوٹکس فورس اور دیگر متعلقہ اداروں میں کرپشن کے حوالے سے زیرو ٹالرینس ہے ؛ ایف آئی اے میں کرپشن ثابت ہونے پر 196 افسروں اور اہلکاروں کو نوکری سے برخاست کیا گیا ہے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ ائیر پورٹس پر ای-گیٹس کا نظام فعال کرنے پر کام جاری ہے ۔ مزید برآں اے پی ائی-پی این آر کے ڈیٹا تک رسائی ممکن بنائی جائے گی تاکہ ممکنہ طور پر غیر قانونی سفری دستاویزات پہلے سے ہی دستیاب ہوں ۔ مسافروں کے ڈیٹا کے حوالے سے موبائل فون ایپلی کیشن تیار کی جا رہی ہے ؛ ایف آئی اے کے آئی بی ایم ایس اور آئی ٹی سیکشنز کی ری اسٹرکچرنگ کی جا رہی ہے ؛غیر قانونی سفر روکنے کے لئے مصنوعی ذہانت کا استعمال کیا جا رہا ہے۔
اجلاس میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی ، وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ ، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ ، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ ، وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی ۔
یہ بھی پڑھیں:ایبٹ آباد میں گھریلو تنازعہ، تین معصوم جانیں ضائع
__
…