ٹرمپ انتظامیہ پر دباؤ، ایران تنازع سے معاشی بحران سنگین ہوگیا

Apr 20, 2026 | 12:29:PM
ٹرمپ انتظامیہ پر دباؤ، ایران تنازع سے معاشی بحران سنگین ہوگیا
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک) ایران کے ساتھ جاری جنگ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ایک نئی مشکل کھڑی کر دی ہے، جہاں ایک طرف فوجی محاذ پر پیش رفت جاری ہے تو دوسری جانب اندرونِ ملک معاشی دباؤ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

 مہنگائی میں اضافہ، ایندھن کی بڑھتی قیمتیں اور عوامی مقبولیت میں کمی نے انہیں جلد کسی سفارتی حل کی جانب بڑھنے پر مجبور کر دیا ہے۔

سات ہفتوں سے جاری اس جنگ کے باوجود ایران کی مذہبی قیادت کو ہٹایا جا سکا ہے اور نہ ہی اسے امریکی مطالبات مکمل طور پر تسلیم کرنے پر آمادہ کیا جا سکا ہے۔ تاہم اس تنازع نے یہ واضح کر دیا ہے کہ امریکی قیادت کی ایک بڑی کمزوری معاشی دباؤ ہے، جسے زیادہ دیر تک برداشت کرنا ممکن نہیں۔

اگرچہ ایران نے جمعہ کے روز آبنائے ہرمز کو بحری آمدورفت کے لیے دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا، لیکن مشرقِ وسطیٰ کی اس کشیدہ صورتحال نے ظاہر کیا ہے کہ امریکا اندرونی معاشی مشکلات کے باعث طویل عرصے تک اس تنازع کو جاری رکھنے کے قابل نہیں۔

 یہ بھی پڑھیں:مطالبات نا منظور۔۔۔۔!ایران کا امریکا کو دوٹوک پیغام

امریکی صدر نے اٹھائیس فروری کو اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر حملے کا آغاز کیا تھا، جس کی وجہ سیکیورٹی خدشات، خاص طور پر ایران کے جوہری پروگرام کو قرار دیا گیا۔ تاہم اب امریکا میں پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ، مہنگائی میں تیزی اور عوامی حمایت میں کمی کے باعث وہ جلد کسی معاہدے کے خواہاں دکھائی دیتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگرچہ ایران کو فوجی طور پر نقصان پہنچا ہے، لیکن اس نے عالمی توانائی منڈی کو متاثر کر کے امریکا پر معاشی دباؤ ڈالنے کی اپنی صلاحیت ظاہر کی ہے، جس کا مکمل اندازہ امریکی انتظامیہ کو پہلے نہیں تھا۔

اگرچہ ابتدا میں جنگ کے معاشی اثرات کو نظرانداز کیا گیا، لیکن اب توانائی کی بڑھتی قیمتوں نے امریکی صارفین کو براہِ راست متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔

عالمی مالیاتی ادارے نے بھی عالمی کساد بازاری کے خدشے کا اظہار کیا ہے، جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔