پاکستان کیخلاف بھارتی فوجی افسروں سےمتعلق بڑےحقائق سامنے!

Sep 19, 2025 | 15:46:PM
پاکستان کیخلاف بھارتی فوجی افسروں سےمتعلق بڑےحقائق سامنے!
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: 24نیوز
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

جب دھرتی کے بیٹے اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھ کر سرحدوں پر پہرہ دے رہے ہوں، تب یہ جاننا ایک دردناک سچ ہے کہ دشمن صرف باہر نہیں، بلکہ اندر بھی سانپ بن کر پھنکارتا پھرتا ہے۔ 24 ڈیجیٹل نے 29 مارچ 2025 کو سب سے پہلے اپنے یوٹیوب چینل 24 ڈیجیٹل پر ناظرین کو پاکستان میں رہائش پذیر غیرقانونی شہریوں کی غٰرقانونی سرگرمیوں سے متعلق آگاہ کیا تھا۔

اب ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے ایک انٹرویو میں قوم کو وہ سچ سناہا ہے جسے سن کر ہر محب وطن دل لرز اٹھا کہ پاکستان کی سرزمین پر بہنے والا معصوم لہو، نہ صرف غیر قانونی افغان عناصر بلکہ بھارتی افواج کے افسران کی "بھارتیت و افغانیت" کا نتیجہ ہے۔ خود ایک بڑی بھارتی شخصیت 24 ڈیجیٹل کے ہی یوٹیوب چینل پر ہمیں انٹرویو دیتے ہوئے اس جرم کا اقرار کرچکی ہے کہ کیسے بھارت نے حالیہ جنگ کس جھوٹے بیانیے پر پاکستان کیخلاف شروع کی،جس کا یعنی پہلگام حملےکاان کا پاس کوئی ثبوت ہی موجود نہیں تھا۔

یہ کوئی مفروضہ نہیں، بلکہ ریاستِ پاکستان کے پاس ایسے مستند شواہد موجود ہیں جو اس گٹھ جوڑ کو بے نقاب کرتے ہیں، وہ گٹھ جوڑ جو ہماری تاریخی عمارات، مساجد، بازاروں،سکولوں،چوکیوں کو نشانہ بناتا ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کے مطابق ہمارے پاس مستند شواہد موجود ہیں کہ غیر قانونی افغان باشندے اور بھارتی فوج کے افسران پاکستان میں ہونے والی دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث ہیں، افغان مہاجرین کو پناہ کی بنیادی وجوہات غیر ملکی مداخلت اور خانہ جنگی تھی، وہ وجوہات اب موجود نہیں ہیں، پاکستان نے 40 سال تک لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کی، افغان مہاجرین کی باعزت واپسی کیلئےمنظم اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا ایک غیرملکی جریدےکو انٹرویو دیتے ہوئے کہنا ہے ہمارے پاس مستند شواہد موجود ہیں کہ غیر قانونی افغان باشندے اور بھارتی فوج کے افسران پاکستان میں ہونے والی دہشت گردانہ کارروائیوں میں شامل ہیں۔

پاکستان نے انسانی بنیادوں پرافغان مہاجرین کے انخلاءکی ڈیڈلائن میں متعدد بار توسیع کی، ہمارے پاس ٹھوس ثبوت ہیں کہ غیر قانونی افغان شہری دہشت گردی اور سنگین جرائم میں شریک ہیں، انہوں نے ایک اور بڑے سچ سے پردہ اٹھایا ہے کہ بھارت میں پرتشدد واقعات بھارتی حکومت کی بڑھتی انتہاء پسند پالیسیوں کا نتیجہ ہیں، بھارت اپنے اندرونی مسائل کو بیرونی جبکہ بیرونی مسائل کو اندرونی مسئلہ بنا کر پیش کرتا ہے۔

بھارتی فوجی افسران کے پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد ہیں، پاکستان بھارتی دہشت گردی کے ثبوت اقوام عالم کے سامنے متعدد مرتبہ پیش بھی کر چکا ہے، بھارت ریاستی سرپرستی میں پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیوں میں پوری طرح کودا ہوا ہے، لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا مزید بتانا ہے کہ بھارتی ریاستی ادارے بشمول آرمی شدت پسند سیاسی نظریات کے زیر اثر ہے، جبکہ پاکستان کی ریاست تمام غیرریاستی عناصرکوبلا تفریق مستردکرتی ہے، پاکستان میں کسی بھی جیش یا مسلح جتھوں کیلئے کوئی جگہ نہیں، ریاست کے علاوہ کوئی گروہ یا شخص جہاد کا اعلان کرنے کا اختیار نہیں رکھتا۔ 

امریکا نےکالعدم مجید بریگیڈ کوعالمی دہشت گرد تنظیم قرار دیا، بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کے متعدد ہلاک دہشت گرد نام نہاد مسنگ پرسنز کی فہرست میں بھی شامل تھے،ترجمان پاک فوج کا مزید بتاناہے کہ معرکہ حق کے دوران امریکی صدر ٹرمپ کا قائدانہ کردار اسٹریٹجک لیڈر کے طور پر سامنے آیا، چین کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا پاکستان کے برادر ملک چین کے ساتھ بھی تعمیری اور اسٹریٹجک تعلقات ہیں۔

پاک فوج کے ترجمان کا بجا کہنا ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن اسٹیٹ کا کردار ادا کیا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بےپناہ قربانیاں دیں،امریکی انخلا کے بعد افغانستان میں چھوڑے گئے امریکی ہتھیار دہشت گردی میں استعمال ہو رہے ہیں، امریکا بھی اس اسلحے کے دہشت گردانہ کارروائیوں میں استعمال پر تشویش کا اظہار کر چکا ہے،پاکستان کی قوم چاہتی ہے کہ امریکہ صرف تشویش کا اظہار ہی نہ کرے بلکہ افغانستان میں چھوڑےگئےاپنےہتھیاروں کی دشتگردوں سے واپسی یقینی بنائے۔

سجاد اظہر پیرزادہ لاہور میں مقیم سینئر صحافی،محقق ہیں۔ چین اور بھارت میں صحافتی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ خارجہ امور کمیٹی لاہور پریس کلب کے ممبروانٹرنیشنل میڈیا فورم فار پیس اینڈ ہارمونی کے چیئرمین بھی ہیں۔ ان سے sajjadpeerzada1@hotmail.com پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

نوٹ:بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ایڈیٹر