مسجد اقصیٰ پر قبضہ :ترک خواتین نے مسجد فاتح میں دوپٹے مردوں پر پھینک دیئے،ویڈیووائرل
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک)مسجد اقصیٰ کے خطرے اور مسلمانوں کے پہلے قبلہ پر جاری قبضے کے خلاف ترکی کے شہر استنبول کی تاریخی فاتح سلطان مسجد میں رمضان المبارک کی تراویح نماز کے دوران خواتین نے ایک حیران کن احتجاج کیا، خواتین نے غصے اور مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے اپنے حجاب (یا اضافی اسکارف) اتار کر نیچے نماز پڑھنے والے مردوں پر پھینک دیے۔
یہ اقدام مردوں کی خاموشی پر شدید تنقید تھا کہ وہ الاقصیٰ مسجد کی حفاظت کے لیے کوئی عملی قدم نہیں اٹھا رہے، خواتین کا پیغام واضح تھا: مرد اپنی عزت اور مقدس مقامات کے دفاع کے لیے اٹھ کھڑے ہوں۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ خواتین مسجد کی بالکونی سے دوپٹے پھینک رہی ہیں جبکہ نیچے موجود مرد حیران اور خاموش کھڑے ہیں، یہ منظر تراویح کی نماز کے وقت کا ہے اور فوراً ہی عالمی سطح پر بحث کا موضوع بن گیا۔
ایک رپورٹ کے مطابق یہ اضافی حجاب تھے، جن کے اپنے حجاب نہیں اتارے گئے تھے تاہم یہ اقدام مسلمان دنیا میں الاقصیٰ کی صورتحال پر بڑھتے ہوئے غصے اور بیداری کی عکاسی کرتا ہے مسلمانوں کے پہلے قبلہ کی حفاظت کے لیے عورتوں کی یہ بیداری سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیل رہی ہے اور لوگوں میں نئی تحریک پیدا کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:عیدالفطر 2026: کن ممالک میں آج، کل اور پرسوں عید منائی جائے گی؟
ترکی خواتین کے اس احتجاج کی معروف اشاعتی ادارے انڈی پینڈنٹ کے ترک ایڈیشن نے بھی کوریج کی اور بتایا کہ یہ واقعہ شب قدر کو پیش آیا۔
ان خواتین کا کہنا تھا کہ وہ ایک تاریخی روایت کی پیروی کر رہی ہیں، جس کے مطابق ایک خاتون نے سلطان صلاح الدین ایوبی کے سامنے اپنا دوپٹہ (اسکارف) اس لیے پھینک دیا تھا کیونکہ اس کا ماننا تھا کہ جب تک بیت المقدس پر قبضہ ہے، وہ فخر کے ساتھ حجاب نہیں پہن سکتی، یہی وجہ ہے کہ ان خواتین نے اپنے پہنے ہوئے اسکارف اتارنے کے بجائے اپنے ساتھ لائے ہوئے اضافی اسکارف نیچے پھینکے۔