امریکا،ایران امن معاہدہ: پاکستان کی ثالثی پر بھارتی اپوزیشن مودی حکومت پر برس پڑی
Stay tuned with 24 News HD Android App
(احمد منصور )امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ امن معاہدے اور جنگ بندی کے بعد پاکستان کے مبینہ سفارتی کردار پر بھارت میں سیاسی بحث تیز ہو گئی ہے، جہاں اپوزیشن جماعت کانگریس اور بعض بھارتی میڈیا اداروں نے مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
بھارتی اخبار دی ٹریبیون کے مطابق کانگریس کے جنرل سیکرٹری جے رام رمیش نے کہا ہے کہ امریکا ایران معاہدے کو بعض حلقوں میں “اسلام آباد مفاہمتی یادداشت” کے طور پر بیان کیا جانا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ خطے میں پاکستان کی سفارتی اہمیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ان کے مطابق اس پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان عالمی سطح پر اہم سفارتی کردار ادا کر رہا ہے جبکہ بھارت کی موجودہ حکومت خطے میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے میں مشکلات کا شکار دکھائی دیتی ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق مغربی ایشیا کے سیاسی اورسیکیورٹی منظرنامے میں پاکستان کا بڑھتا ہوا اثرورسوخ بھارت کیلئے تشویش کا باعث ہے۔
بزنس سٹینڈرڈ نے کہا کہ خطے میں اسرائیل کی کارروائیوں کیلئے مودی سرکار کی حمایت خود بھارت کیلئے نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے۔
بھارتی میڈیا نے کہا کہ مودی کا ٹرمپ کے سامنے مسلسل خوشامد پسندانہ رویہ بھارت کیلئے شرمناک اورقومی مفادات کے منافی ہے۔
بھارتی میڈیا کے بعض تجزیوں میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ مغربی ایشیا میں بدلتے ہوئے سیاسی و سیکیورٹی حالات کے تناظر میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو بھارت کے لیے ایک سفارتی چیلنج کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بھارت کو آخری وارننگ!
بعض رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بھارت کی خارجہ پالیسی اور علاقائی تنازعات پر موقف کے باعث اسے اندرونی اور بیرونی سطح پر تنقید کا سامنا ہے، جبکہ اپوزیشن جماعتیں حکومت پر سفارتی ناکامیوں کے الزامات عائد کر رہی ہیں۔
تاہم سیاسی ماہرین کے مطابق خطے میں کسی بھی بڑی پیش رفت کو مکمل طور پر ایک ملک کی کامیابی یا دوسرے کی ناکامی کے طور پر پیش کرنا قبل از وقت ہوگا، کیونکہ بین الاقوامی سفارت کاری میں متعدد عوامل کردار ادا کرتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا-ایران معاہدے جیسے معاملات میں مختلف ممالک کی شمولیت یا تاثر خطے کی بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاست کا حصہ ہے، جس کے اثرات آنے والے وقت میں مزید واضح ہوں گے۔