بنگلادیش میں انقلابی طالبعلم کے قتل پر بھارت مخالف مظاہرے، عوامی لیگ و میڈیا دفاتر نذر آتش
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز) بنگلا دیش میں نوجوان انقلابی رہنما شریف عثمان ہادی کی ہلاکت کے بعد ملک بھر میں بھارت مخالف شدید احتجاج اور پُرتشدد مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔
دارالحکومت ڈھاکا میں مشتعل مظاہرین نے سڑکوں پر نکل کر عوامی لیگ اور میڈیا اداروں کے دفاتر کو آگ لگا دی، توڑ پھوڑ کرکے اہم سڑکیں بند کردیں جبکہ مظاہرین کی سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں کی بھی اطلاعات موصول ہورہی ہیں۔
احتجاج کے دوران مظاہرین نے عثمان ہادی کے حق میں نعرے لگائے اور انصاف کی فراہمی تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا، مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ ہادی پر حملے کے ذمہ داروں کو فوری طور پر انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔
حکام نے مظاہروں کے پیش نظر مختلف علاقوں میں سکیورٹی سخت کر دی۔
Angry crowds set fire to the headquarters of Bangladesh’s leading English-language newspaper, The Daily Star, in Dhaka tonight, amid heightened political tensions following the killing of Bangladeshi youth leader Osman Hadi.
— 5Pillars (@5Pillarsuk) December 18, 2025
The building’s ground floor was set ablaze, forcing… pic.twitter.com/iRidAvcJHt
عثمان ہادی جولائی میں حسینہ واجد حکومت کا تختہ الٹنے والی طلبہ تحریک کے اہم رہنما تھے اور طلبہ رہنماؤں کے قائم کردہ سیاسی پلیٹ فارم انقلاب منچہ کے ترجمان بھی تھے۔
انہیں گزشتہ جمعے کو ڈھاکا میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے شدید زخمی کردیا تھا] عثمان ہادی کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کا آپریشن کیا گیا تاہم انہیں مزید علاج کے لیے ہفتے کے روز سنگاپور منتقل کیا گیا تھا جہاں وہ آج دوران علاج انتقال کرگئے۔
یہ بھی پڑھیں:مئیر نیویارک ظہران ممدنی کی نئی انتظامیہ میں اہم رکن مستعفی
تفتیشی حکام کاکہنا ہےکہ عثمان ہادی پر حملہ کرنے والے مشتبہ افراد بھارت کی سرحد سے غیرقانونی طور پر داخل ہوئے تھے اور بھارت ہی فرار ہوگئے۔
بنگلادیشی حکام کا کہنا ہے کہ مشتبہ قاتل کی شناخت فیصل کریم مسعود کے نام سے کی گئی ہے جبکہ موٹرسائیکل چلانے والے کی شناخت عالمگیر شیخ کے نام سےہوئی۔
واقعے میں ابتک 14 افراد کو گرفتار کیاجا چکا ہے جن سے تفتیش کی جارہی ہے۔
گرفتار افراد میں فیصل کے والد ہمایوں کبیر ، ماں ہاسی بیگم، بیوی شاہدہ پروین سمیہ اور اسکا بھائی واحد احمد سیپو شامل ہیں۔
Live Visuals ????
— Globally Pop (@GloballyPop) December 18, 2025
Protests erupt across Dhaka after the death of student leader Sharif Osman Hadi.
Massive crowds gather at Shahbagh as Inqilab Manch and youth groups mourn. Awami League office vandalised and set on fire in Rajshahi.
Video #India #Bangladesh #Visa #Hindu pic.twitter.com/zzt4wOsYCX
قوم سے خطاب میں محمد یونس نے شریف عثمان ہادی کی ہلاکت کو ملکی جمہوری عمل کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان قرار دیتے ہوئے شفاف تحقیقات اور ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا وعدہ کیا۔ انہوں نے عوام سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل بھی کی۔
عبوری حکومت نے ہادی کے احترام میں ہفتے کو یومِ سوگ کا اعلان کیا ہے، قومی پرچم سرنگوں رہیں گے اور ملک بھر میں خصوصی دعائیہ تقریبات منعقد کی جائیں گی۔
ذرائع کے مطابق بدامنی کے دوران بنگلا دیش کے بانی صدر شیخ مجیب الرحمن کے آبائی گھر کو ایک بار پھر نذرِ آتش کیا گیا، جبکہ ڈھاکا میں ثقافتی ادارے چھایانٹ اور راجشاہی میں عوامی لیگ کے دفتر کو بھی نشانہ بنایا گیا، چٹاگانگ میں بھارتی اسسٹنٹ ہائی کمیشن پر حملہ کیا گیا اور سابق وزیر تعلیم کے گھر کو آگ لگا دی گئی۔