بنگلادیش میں انقلابی طالبعلم کے قتل پر بھارت مخالف مظاہرے، عوامی لیگ و میڈیا دفاتر نذر آتش

Dec 19, 2025 | 08:20:AM
بنگلادیش میں انقلابی طالبعلم کے قتل پر بھارت مخالف مظاہرے، عوامی لیگ و میڈیا دفاتر نذر آتش
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز) بنگلا دیش میں نوجوان انقلابی  رہنما شریف عثمان ہادی کی ہلاکت کے بعد ملک بھر میں بھارت مخالف شدید احتجاج اور  پُرتشدد مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

دارالحکومت ڈھاکا میں مشتعل مظاہرین نے سڑکوں پر نکل کر عوامی لیگ  اور  میڈیا  اداروں کے دفاتر کو آگ لگا دی، توڑ پھوڑ  کرکے اہم سڑکیں بند کردیں جبکہ مظاہرین کی سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں کی بھی اطلاعات موصول ہورہی ہیں۔

احتجاج کے دوران مظاہرین نے عثمان ہادی کے حق میں نعرے لگائے اور انصاف کی فراہمی تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا، مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ ہادی پر حملے کے ذمہ داروں کو فوری طور پر انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔

حکام  نے مظاہروں کے پیش نظر مختلف علاقوں میں سکیورٹی سخت کر دی۔

عثمان ہادی جولائی میں حسینہ واجد حکومت کا تختہ الٹنے والی طلبہ تحریک کے اہم رہنما تھے اور طلبہ رہنماؤں کے قائم کردہ سیاسی پلیٹ فارم انقلاب منچہ کے ترجمان بھی تھے۔

انہیں گزشتہ جمعے کو ڈھاکا میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے شدید زخمی کردیا تھا] عثمان ہادی کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کا آپریشن کیا گیا تاہم انہیں مزید علاج کے لیے ہفتے کے روز سنگاپور منتقل کیا گیا تھا جہاں وہ آج دوران علاج انتقال کرگئے۔

یہ بھی پڑھیں:مئیر نیویارک ظہران ممدنی کی نئی انتظامیہ میں اہم رکن مستعفی

تفتیشی حکام کاکہنا ہےکہ عثمان ہادی پر حملہ کرنے والے مشتبہ افراد بھارت کی سرحد سے غیرقانونی طور پر داخل ہوئے تھے اور  بھارت ہی فرار ہوگئے۔

بنگلادیشی حکام کا کہنا ہے کہ مشتبہ قاتل کی شناخت فیصل کریم مسعود کے نام سے کی گئی ہے جبکہ موٹرسائیکل چلانے والے کی شناخت عالمگیر شیخ کے نام سےہوئی۔

واقعے میں ابتک 14 افراد کو گرفتار کیاجا چکا ہے جن سے تفتیش کی جارہی ہے۔

گرفتار افراد میں فیصل کے والد ہمایوں کبیر ، ماں ہاسی بیگم، بیوی شاہدہ پروین سمیہ اور اسکا بھائی واحد احمد سیپو شامل ہیں۔ 

قوم سے خطاب میں محمد یونس نے شریف عثمان ہادی کی ہلاکت کو ملکی جمہوری عمل کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان قرار دیتے ہوئے شفاف تحقیقات اور ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا وعدہ کیا۔ انہوں نے عوام سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل بھی کی۔

عبوری حکومت نے ہادی کے احترام میں ہفتے کو یومِ سوگ کا اعلان کیا ہے، قومی پرچم سرنگوں رہیں گے اور ملک بھر میں خصوصی دعائیہ تقریبات منعقد کی جائیں گی۔

ذرائع  کے مطابق بدامنی کے دوران بنگلا دیش کے بانی صدر شیخ مجیب الرحمن کے آبائی گھر کو ایک بار پھر نذرِ آتش کیا گیا، جبکہ ڈھاکا میں ثقافتی ادارے چھایانٹ اور راجشاہی میں عوامی لیگ کے دفتر کو بھی نشانہ بنایا گیا، چٹاگانگ میں بھارتی اسسٹنٹ ہائی کمیشن پر حملہ کیا گیا اور سابق وزیر تعلیم کے گھر کو آگ لگا دی گئی۔