فرعون کا3 ہزار سال پرانا’’ کڑا‘‘ چوری
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز)قاہرہ کے مصری میوزیم سے تقریباً 3 ہزار سال پرانا سونے کا کڑا (بریسلیٹ) چوری ہوگیا ہے جو ایک فرعون کی ملکیت تھا۔
رپورٹس کے مطابق یہ سونے کا کڑا، جس پر لاجورد کا نگینہ جڑا ہوا ہے، آخری بار میوزیم کے تحریر سکوائر میں واقع ریسٹوریشن لیبارٹری میں دیکھا گیا تھا۔
وزارتِ سیاحت و آثارِ قدیمہ نے ایک بیان میں بتایاکہ معاملہ اب قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پبلک پراسیکیوشن کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
بیان کے مطابق کڑے کی تصویر تمام ہوائی اڈوں، سمندری بندرگاہوں اور زمینی سرحدی مقامات پر بھیج دی گئی ہے تاکہ اسمگلنگ کی کسی بھی کوشش کو روکا جا سکے۔
میوزیم کے ڈائریکٹر جنرل نے واضح کیا کہ آن لائن شیئر کی جانے والی کچھ تصاویر لاپتہ کڑے کی نہیں بلکہ ایک اور کڑے کی ہیں جو اس وقت میوزیم میں نمائش پر ہے۔
یہ قیمتی کڑا بادشاہ امینموپی کا تھا جو تیسرے عبوری دور میں حکمران تھے۔
میوزیم کی ویب سائٹ کے مطابق امینموپی کو اکیسویں شاہی خاندان کا ایک کم معروف مگر دلچسپ بادشاہ قرار دیا جاتا ہے۔
کیمبرج یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے ماہرِ آثارِ قدیمہ کرسٹوس سیرُوجیانس نے کہا کہ کڑے کا غائب ہونا حیران کن نہیں کیونکہ قدیم نوادرات کی عالمی منڈی بہت بڑی ہے۔
ان کے مطابق کئی امکانات ہیں، یا تو یہ کڑا چوری ہوکر سمگل کیا گیا ہے اور جلد یا بدیر کسی آن لائن پلیٹ فارم، ڈیلر کی گیلری یا نیلام گھر میں ظاہر ہوگا، ممکنہ طور پر جعلی کاغذات کے ساتھ۔
دوسرا امکان یہ ہے کہ کڑا سونے کے لیے پگھلا دیا جائے، جو کم منافع بخش مگر زیادہ محفوظ طریقہ ہے۔
ایک اور امکان یہ ہے کہ یہ کسی نجی کلیکشن میں چھپایا جائے، جہاں مالک کو پتا ہوگا کہ یہ چوری کا ہے مگر وہ اسے اپنی ملکیت سے باہر نہیں لے جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ کبھی کبھی ایسے نوادرات واپس بھی مل جاتے ہیں۔
ماضی میں خاص طور پر عرب بہار کے دوران مصر میں میوزیم سے لی گئی اشیاء چند دنوں بعد باغات یا میوزیم کے قریب ملی تھیں۔