نورِ سحر میں " جہیز: محبت کی بارات یا توقعات کا سودا؟ "موضوع پر روح پرور اور علمی نشست
جسٹس (ر) نذیر احمد غازی نے کہا کہ اسلام میں جہیز کی کوئی شرط نہیں ، فی زمانہ جہیز سودے بازی بن چکا ہے، جو رشتے توڑتا، لڑائی جھگڑوں اور قرضوں کا سبب بنتا ہے
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)معروف ٹی وی پروگرام "نورِ سحر" میں ایک روح پرور اور علمی نشست کا انعقاد کیا گیا جس کا موضوع " جہیز: محبت کی بارات یا توقعات کا سودا؟ "تھا۔
پروگرام کے میزبان جسٹس (ر) نذیر احمد غازی نے کہا کہ اسلام میں جہیز کی کوئی شرط نہیں،فی زمانہ جہیز سودے بازی بن چکا ہے، جو رشتے توڑتا، لڑائی جھگڑوں اور قرضوں کا سبب بنتا ہے۔
پروفیسر عائشہ ابوبکر نےکہا کہ جہیز کا رواج ہندو معاشرت سے آیا، جبکہ اسلام میں سادگی، آسان مہر اور بغیر دکھاوے کے نکاح کی تعلیم دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’لوگ کیا کہیں گے‘‘ کے خوف نے شادی کو مہنگا ترین عمل بنا دیا ہے۔
ڈاکٹر محمد اقبال چشتی نے کہا کہ نہ قرآن و حدیث میں جہیز ہے اور نہ فقہ میں اس کی کوئی بنیاد، جہیز نہ سنت ہے نہ واجب، بلکہ ایک معاشرتی بیماری کی شکل اختیار کر گیا ہے جس نے ہزاروں گھرانوں کو مالی بوجھ میں دھکیل دیا ہے۔
مفتی ذیشان احمد حسان کے مطابق ائمہ اربعہ کے نزدیک لڑکی والوں پر جہیز دینا لازم نہیں، بلکہ یہ غیر شرعی مال ہے۔
انہوں نےکہا کہ بیٹی پیدا ہوتے ہی ماں ’’جہیز کی پیٹیاں‘‘ بھرنا شروع کر دیتی ہے۔اگر چادر، برتن اور بیڈ شیٹ ملے تو کہتی ہے ’’بیٹی کے جہیز میں رکھ دو‘‘یہ اسلام نہیں، خالص ہندوانہ تمدن ہے، جسے ہم نے مذہبی رسم بنا دیا ہے۔