تمام مکاتب فکرکےعلماء و مشائخ کی ایران پر اسرائیلی جارحیت کی مذمت، پیغام پاکستان ضابطہ اخلاق جاری

Jun 18, 2025 | 19:21:PM
تمام مکاتب فکرکےعلماء و مشائخ کی ایران پر اسرائیلی جارحیت کی مذمت، پیغام پاکستان ضابطہ اخلاق جاری
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(احمد منصور)پاکستان علماء کونسل کے زیر اہتمام تمام مکاتب فکرکے علماء و مشائخ کا اسلام آباد میں مشترکہ اجلاس ہوا، جس میں قرارداد  پیش کی گئی جس میں کہا گیا کہ علماء و مشائخ اسرائیل کی ایران پر جارحیت کی مذمت کرتے ہیں اور حکومت کے موقف کی تائید کرتے ہیں۔مشترکہ اجلاس میں  پیغام پاکستان ضابطہ اخلاق جاری کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ   تمام مسالک کے علماء و مشائخ اور مفتیان پاکستان انتہا پسند انہ سوچ اور شدت پسندی کو مکمل مسترد کرتے ہیں۔
تمام مکاتب فکر کے علماء و مشائخ اسرائیل کی ایران پر جارحیت کی مذمت کرتے ہیں اور حکومت کے موقف کی تائید کرتے ہیں ، اجلاس میں قرارداد 
فلسطین اور ایران پر اسرائیلی جارحیت نا قابل قبول ہے ، پاکستان کی حکومت کا موقف عوام اور مسلمانوں کی ترجمانی ہے ، قرارداد 
تفصیلات کے مطابق اجلاس کی صدارت مرکزی چیئرمین حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کی۔اجلاس میں علامہ عارف واحدی ، پیر نقیب الرحمن ، صاحبزادہ حسان حسیب الرحمن ، مولانا مفتی نصر اللہ ، مولانا نعمان حاشر، علامہ طاہر الحسن، مولانا طاہر عقیل اعوان، مولانا ابو بکر حمید صابری ،علامہ اقبال چشتی، مولانا عبید اللہ گورمانی اور دیگر نے شرکت کی۔اس موقع پر ایک ضابطہ اخلاق مرتب کیا گیا جس 
 میں کہا گیا ہے کہ :
1)     فرقہ ورانہ منافرت، مسلح فرقہ وارانہ تصادم اور طاقت کے زور پر اپنے نظریات کو دوسروں پر مسلط کرنے کی روش شریعت اسلامیہ کے احکام کے منافی اور فسادفی الارض اور ایک قومی و ملی جرم ہے۔
2)     تمام مسالک کے علماء و مشائخ اور مفتیان پاکستان انتہا پسند انہ سوچ اور شدت پسندی کو مکمل مسترد کرتے ہیں۔
3)     انبیاء کرامؑ، اصحاب ؓرسولﷺ ،خلفاء راشدین ؓ، ازواج مطہراتؓ اور اہل ِبیت اطہارؓکےتقدس کو ملحوظ رکھنا ایک فریضہ ہےاور جو شخص ان مقدسات کی توہین و تکفیر کرے گا تمام مکاتب فکر اس سے برات کرتے ہیں اور ایسے شخص کے خلاف قانون کو فوری حرکت میں آنا چاہیے ۔
4)     علماء و مشائخ اور مفتیان عظام کا فریضہ ہے کہ درست اور غلط نظریات میں امتیاز کرنے کے بار ےمیں لوگوں کو آگاہی دیں جبکہ کسی کو کافر قرار دینا (تکفیر) ریاست کا دائرہ اختیار ہےجو ریاست شریعت اسلامیہ کی رو سے طے کرے گی۔
5)     پاکستان کے تمام غیر مسلم شہر یوں کو اپنی عبادت گاہوں میں  اور اپنے تہواروں کے موقع پر اپنے اپنے مذاہب کے مطابق عبادت کرنے اور اپنے مذہب پر عمل کرنے کا پورا پورا حق حاصل ہے اور جو حق غیر مسلم شہریوں کو آئین پاکستان نے دئیے ہیں ان کو کوئی فرد ، گروہ یا جماعت سلب نہیں کر سکتی۔
6)     جو غیر مسلم اسلامی ریاست میں امن کے ساتھ رہتے ہیں انہیں قتل کرنا جائز نہیں ہے بلکہ گناہ ہے اور جو آئین پاکستان اور قوانین پاکستان کی خلاف ورزی کریں ریاست کی ذمہ داری ہے کہ ان کو قانون کے دائرے میں سزا دے۔
7)     اسلام کی رو سے خواتین کا احترام اور ان کے حقوق کی پاس داری کرنا سب کے لئے ضروری ہے ۔خواتین کو وراثت میں حق دینا اور خواتین کی تعلیم کا حکم شریعت اسلامیہ نے دیا ہے ۔
8)     محرم الحرام ، صفر المظفر کے ایام عزا میں پاکستان کے تمام شہریوں اور مسلمانوں کو مقررہ مجالس ، کانفرنسز ، اجتماعات منعقد کرنے کی حسب قانون آزادی ہو گی ، نیز قانون کے دائرے میں ہونے والے اجتماعات میں چادر و چار دیواری کے تقدس کا مکمل خیال رکھا جائے ۔
9)     تمام اہل محلہ اور محبان اہل بیت علیہم السلام اور عاشقان صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ باہمی برداشت کے ساتھ وطن اور اسلام دشمنوں کی سازشوں پر پوری نظر رکھیں ۔ تمام مکتب فکر کے مسلمانوں کے ساتھ ان کے نظریہ اور عقیدہ کے مطابق قانونی اور آئینی طور پر ان ایام کو منانے کیلئے بھرپور مدد کریں گے ۔
10)     تمام مکاتب فکر کے علماء کرام ، ذاکرین عظام ، خطباء امت کو جوڑنے کا فریضہ ادا کریں گے ۔ مفسدین اور تخریب کاروں پر نظر رکھ کر موقعہ پر انتظامیہ کے حوالے کریں گے۔
11)     یہ امر پہلے سے طے شدہ ہے کہ ہر مسلک کے عالم ، واعظ ، خطیب ، ذاکر کو اپنے مسلک کے پیروکاروں کو اپنے مذہب کے عقائد ، اصول و فروع کو بیان کرے ۔ انداز بیان میں اس بات کا خیال رکھے کہ تمام عالم اسلام کی مذہبی و دینی شخصیات کی توہین نہ ہو اور دوسروں کے عقائد و نظریات کو طعن تشنیع کا نشانہ نہ بنائیں۔
12)     ملک کے تمام سرکاری و غیر سرکاری ذرائع ابلاغ سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ محرم الحرام سے قبل ، بعد اور دوران پیغام پاکستان کی روشنی میں مرتب کردہ ضابطہ اخلاق کی مکمل تشہیر کریں اور وحدت اور اتحاد کے پیغام کو عام کرنے میں معاون بنیں۔ سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا و پرنٹ میڈیا پر کسی بھی ایسی تحریر و تقریر جس سے اشتعال پیدا ہو ، اس کے خلاف متعلقہ حکومتی ادارے فوری طور پر کاروائی کریں۔

یہ بھی پڑھیں:سیٹی زبان استعمال کرنیوالے صرف چند ہزار لوگ رہ گئے، یونیسکو کا انتباہ