اسرائیلی جارحیت کیخلاف عرب ممالک نے صرف مسکراہٹوں کا تبادلہ کیا:سلیم بخاری
Stay tuned with 24 News HD Android App
(فرخ احمد)معروف صحافی و تجزیہ کار سلیم بخاری نے کہا ہے کہ اسرائیل کی مشرق وسطیٰ میں جارحیت کے خلاف عرب اسلامی سربراہی کانفرنس مسکراہٹوں کے تبادلے کے علاوہ کچھ نہیں تھی۔
سلیم بخاری نے عرب اسلامی سربراہی کانفرنس پر اپنے رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ غصہ تو بہت ہے، دل بھی بہت چاہتا ہے کہنے کو کل بھی بہت کچھ کہا تھا، آج بھی اپنی اندر کے جذبات کا اظہار کیا جائے گا۔
انھوں نے کہا کہ عرب اسلامی سربراہی کانفرنس کا جو منظر نامہ اب تک ہمارے سامنے ہے اس میں ابتک کیا ہوا ہے، صرف تقاریر، وارک ہگز، بوتھ سائیڈ کسسز اور مسکراہٹوں کا تبادلہ، اعلامیہ کو دیکھ لیں سفارتی مجموعے کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔
سلیم بخاری نے کہا کہ مذمتی بیانات، یکجہتی کے دعوے، امن کی راہ میں اسرائیل رکاوٹ ، قطر کو جوابی اقدامات کے لیے یقین دہانی ،سب سفارتی ڈھکوسلے ہیں، اس کے سوا کچھ بھی نہیں اسے سے جو توقعات تھیں، ایک تو ابراہیم اکارڈ کو اٹھا کر پھینک دیں گے اور جو اسلامی ممالک نے اسرائیل کو تسلیم کر لیا ہے وہ اپنے سفارتی تعلقات توڑنے کا اعلان کریں گے۔
معروف تجزیہ کار نے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ مستقبل میں نبٹنے کے لیے مشترکہ فوج تشکیل دی جائے گی مگر امریکہ کے ان سب چمچوں نے ایک لفظ اس حوالے سے اپنی زبان سے ادا نہیں کیا، کسی ایک کو بھی یہ توفیق ہوئی کے امریکہ کا نام لیتا اور کہتا کہ اسرائیل امریکہ کی مرضی کے بغیر کچھ بھی ایسا ظلم نہیں کر سکتا جوکہ غزہ میں مسلمانوں کے ساتھ ہو رہا ہے اور اسلامی ممالک کے ساتھ اسرائیل کی جو جارحانہ پالیسی ہے۔
انھوں نے کہا کہ یہ سب کچھ اسرائیل نے اس وقت کیا جب ٹرمپ امریکہ کا صدر بن گیا، اس کا مطلب یہ کہ جو کچھ بھی خطے میں ہو رہا ہے اس سب کے پیچھے امریکہ کی آشیر باد شامل ہے۔
اس پر سلیم بخاری نے کہا کہ اس وقت تک اسرائیل کے جتنے بھی اقدامات ہیں اقوام متحدہ نے پہلی بار غزہ پر اسرائیل کی جارحیت کو نسل کشی قرار دیدیا نا صرف یہ کہ اس نے پورے امریکہ اور یورپ کو بُری طرح سے بے نقاب کر دیا کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کر رہا ہے اور اعلیٰ اسرائیلی حکام بشمول وزیراعظم نیتن یاہو نے اس نسل کشی میں مجرمانہ کردار ہے۔
انہوں نےاس رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اکتوبر 2023 سے اسرائیلی افواج نے گھروں، شیلٹرز اور محفوظ علاقوں میں شہریوں پر بمباری کی ہے اور اسرائیلی بمباری میں نصف سے زیادہ خواتین، بچے اور بزرگ جاں بحق ہوئے۔
ایشیا کپ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ پی سی بی نے آئی سی سی کو واضح کر دیا ہے کہ میچ ریفری تبدیل نہ کیا گیا تو پاکستان ایشیا کپ میں مزید کوئی میچ نہیں کھیلے گا۔پی سی بی نے آئی سی سی کو شکایت کی ہے، میچ ریفری نے کرکٹ کی اسپرٹ کے خلاف اقدامات کیے۔
سلیم بخاری نے کہا کہ صورت حال بہت سنگین ہےانہوں میچ ریفری کے روئیے پر نہایت افسو س کا اظہار کیا اور کہا کہ کرکٹ کی روایات کا پاس کرنا میچ ریفری کی ذمہ داری ہوتی ہے اگر وہ ہی کسی ٹیم کے ساتھ منفی رویوں کا ساتھ دینے لگ جائے تو پھر کھیل کا تو اللہ ہی حافظ ہے۔
انہوں نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت ٹیم اس لیے اپنی یونیفارم پر سپانسر شپ کے لوگو بھی نہیں لگاتی تاکہ کہیں اگر کوئی میچ ہار جائے تو عوام اور سوشل میڈیا کے ہتھے چڑھ نہ جائیں اور ہاری ہوئی ٹیم کا بھارت واپس جانا ایک الگ عذاب نہ بن جائے۔
پی ٹی آئی کے حوالے سے رائے دیتے ہوئے انھوں ںے کہا کہ اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ تحریک انصاف میں دھڑے بندیاں ہیں اور اب تحریک انصاف خود اپنے سوشل میڈیا کا شکار ہوا نظر آرہا ہے، علی امین گنڈا پور کو پارٹی کا سب سے بڑا بگاڑ پیدا کرنے والا قرار دیا۔ وزیراعلیٰ کے پی وکٹ کے دونوں طرف کھیلنے کے ماہر ہیں اور وہ ابھی بھی اپنا کھیل اسی طرح سے کھیلنے میں مصروف ہیں۔
وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کے اس بیان پر کہ ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں، بانی پی ٹی آئی کے دور میں دہشت گردی ختم ہو گئی تھی، دہشت گردی کے واقعات میں حالیہ اضافہ تشویشناک ہے۔سرا سر غلط قرار دیا اور کہا کہ جب تک کوئی حکومت دہشتگردی کو سپورٹ کرتی رہے گی دہشتگردی ختم نہیں ہو سکتی۔
یہ بھی پڑھیں :پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے مقابلے کی تیاریاں مکمل