نور سحر میں’’ابلیس کے جال اور نجات کا راستہ‘‘موضوع پر بصیرت افروز علمی نشست
جسٹس (ر) نذیر احمد غازی نے کہا کہ شیطان مسلمانوں کا کھلا دشمن ہے، اگر کوئی اس سے بچنا چاہتا ہے تو ضروری ہے کہ اس کی چالوں کو سمجھے
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)معروف دینی و فکری پروگرام "نورِ سحر" میں ایک بصیرت افروز علمی نشست کا انعقاد کیا گیا جس میں ممتاز اسلامی سکالرز اور محققین نے شرکت کی، اس نشست کا مرکزی موضوع "ابلیس کے جال اور نجات کا راستہ" تھا۔
پروگرام کے میزبان جسٹس (ر) نذیر احمد غازی نے کہا کہ شیطان مسلمانوں کا کھلا دشمن ہے، اگر کوئی اس سے بچنا چاہتا ہے تو ضروری ہے کہ اس کی چالوں کو سمجھے۔
انہوں نے کہا کہ شیطان کا سب سے خطرناک ہتھیار "وسوسہ" ہے، جو دل و دماغ میں پیدا ہو کر انسان کو گمراہ کرتا ہے، اور اس سے بڑے بڑے اہل علم بھی محفوظ نہیں رہتے۔
پروفیسر ڈاکٹر مدثر حسین سیان نے کہا کہ شیطان زمانہ شناسی اور جدید چالوں کا ماہر ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج کا انسان بعض اوقات برائی میں اتنا آگے نکل جاتا ہے کہ شیطان بھی حیران رہ جاتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ دور میں شیطان دو طریقوں سے واردات کرتا ہے: ایک "برائے فساد" اور دوسرا "بعد از فساد"۔
انہوں نے ان چار اعمال کا ذکر بھی کیا جن سے شیطان انسان سے دور بھاگتا ہے: روزہ، صدقہ، نیکی میں تعاون، اور توبہ و استغفار۔
شیخ عویمر ابراہیم میر محمدی نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو دنیا میں آزمائش کے لیے بھیجا ہے، ایک طرف قرآن کا نور ہے اور دوسری طرف شیطان کے وسوسے، ایک مومن کا اصل امتحان ان دونوں میں فرق کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ شیطان گناہوں کا راستہ آسان بنا کر انسان کو عارضی لذتوں اور آسان پسند طرز زندگی کی طرف مائل کرتا ہے۔
انہوں نے ایک روایت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ریاکاری کرنے والوں سے قیامت کے دن کہا جائے گا کہ تمہیں جن کے لیے عمل دکھاوا تھا، انہی سے جزا لے لو۔
پروفیسر حافظ ناصر محمود نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قرآن مجید نے واضح طور پر شیطان کو انسان کا کھلا دشمن قرار دیا ہے۔
انہوں نے ایک عبرتناک واقعہ بیان کیا کہ ایک شخص عبادت گزار تھا، مگر شیطان کے بہکاوے میں آکر ایمان سے دور ہو گیا اور کفر کی حالت میں مرا۔