نورِ سحر میں ’’عالمِ شباب: خواب، حقیقت اور ذمہ داریاں‘‘ سے متعلق علمی نشست کا اہتمام
جسٹس (ر) نذیر احمد غازی نے نوجوانی کو اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ دنیا میں جہاں بھی ترقی ہوئی ہے، وہاں نوجوانوں کا کردار کلیدی رہا ہے
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)معروف پروگرام "نورِ سحر" میں علمی نشست کا اہتمام کیا گیا جس میں ممتاز اسلامی سکالرز اور محققین نے "عالمِ شباب: خواب، حقیقت اور ذمہ داریاں" کے موضوع پر اظہارِ خیال کیا۔
جسٹس (ر) نذیر احمد غازی نے نوجوانی کو اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ دنیا میں جہاں بھی ترقی ہوئی ہے، وہاں نوجوانوں کا کردار کلیدی رہا ہے، انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ جوانی جیسے قیمتی وقت کو اگر بے مقصد گزارا جائے تو یہ خسارے کا سودا ہے۔
انہوں نے کہا کہ "پاکیزہ جوانی گزارنے والے قیامت کے دن عرشِ عظیم کے سائے تلے ہوں گے"۔
انہوں نے قائداعظم محمد علی جناح کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قائد نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: "میں عمر میں بوڑھا ہوں لیکن روح کے اعتبار سے تم سے زیادہ جوان ہوں"۔
اسلامی سکالر پروفیسر عائشہ ابوبکر نے والدین کو نصیحت کی کہ وہ اپنی اولاد کو صرف اپنا بچہ نہ سمجھیں بلکہ ملت کا فرد تصور کریں، انہوں نے کہا کہ احساسِ ذمہ داری کی بیداری نوجوانوں کو باکردار اور باشعور بناتی ہے۔
پروفیسر حسن محمود جماعتی نے نوجوانوں کو خواب دیکھنے کی ترغیب دیتے ہوئے کہا کہ "بڑے خواب دیکھنے والے ہی بڑا انقلاب لاتے ہیں"۔
انہوں نے قائداعظم کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ محمد علی جناح نے اپنی جوانی کے ہر لمحے کی قدر کی، تبھی وہ ایک قوم کے ہیرو بنے۔
ڈاکٹر تہمینہ یاسر نے والدین پر زور دیا کہ وہ بچوں کے خوابوں کو دبانے کے بجائے ان کی راہنمائی کریں۔
انہوں نے کہا کہ بچوں کی زندگی کا کوئی واضح مقصد ہونا چاہیے اور والدین کو ان کی مستقل تربیت کرنی چاہیے، انہوں نے بچوں کے مسائل کا ایک پانچ نکاتی حل بھی پیش کیا۔
معروف مذہبی رہنما مولانا امیر حمزہ نے سیرتِ رسول ﷺ کی روشنی میں نوجوانوں کی تربیت پر گفتگو کی۔
انہوں نے بتایا کہ نبی کریم ﷺ نے حسنین کریمین کو بچپن ہی سے سرداری کی تربیت دی۔
انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو حسد جیسے منفی جذبات سے دور رکھنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں اور ان کی رائے کو فیصلوں میں شامل کرنا سیکھا جائے۔