افغانستان میں فتنہ الخوارج اور القاعدہ کی موجودگی کے ناقابل تردید شواہدمنظرعام پر

Oct 16, 2025 | 14:32:PM
افغانستان میں فتنہ الخوارج اور القاعدہ کی موجودگی کے ناقابل تردید شواہدمنظرعام پر
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: 24نیوز
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز)اقوام متحدہ کی  رپورٹ میں افغانستان میں فتنہ الخوارج اور القاعدہ کی موجودگی کے ناقابل تردید شواہد منظر عام پر آگئے۔

اقوام متحدہ سکیورٹی کونسل کو پیش کی گئی رپورٹ میں افغانستان میں دہشت گردوں کی موجودگی پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے، یہ 36 ویں رپورٹ تجزیاتی معاونت اور پابندیوں کی نگران ٹیم نے 24 جولائی 2025ء کو پیش کی تھی۔

رپورٹ کے صفحہ 16 پر بتایا گیا ہے کہ افغانستان کی De facto authorities دہشت گرد گروہوں، بشمول القاعدہ اور اس کے اتحادیوں، کو کھلی چھوٹ دیے ہوئے ہیں، یہ دہشتگرد گروہ وسطی ایشیا اور دیگر ممالک کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ افغانستان میں القاعدہ کی موجودگی کا تعلق زیادہ تر عرب نژاد جنگجوؤں سے ہے، یہ جنگجو وہی ہیں جنہوں نے ماضی میں طالبان کے ساتھ مل کر جنگ کی تھی، یہ جنگجو افغانستان کے چھ صوبوں غزنی، ہلمند، قندھار، کنڑ، ارزگان اور زابل  میں پھیلے ہوئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق افغانستان میں القاعدہ سے منسلک کئی تربیتی مراکز کی موجودگی کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں، تین نئے تربیتی مراکز میں القاعدہ اور ٹی ٹی پی( فتنہ الخوارج) کے دہشتگردوں کو تربیت دی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:خیبرپختونخوا: سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، بھارتی حمایت یافتہ34 دہشتگرد جہنم واصل

رپورٹ کے پیراگراف 19 میں کہا گیا ہے کہ   ٹی ٹی پی( فتنہ الخوارج) کے پاس تقریباً 6,000 جنگجو موجود ہیں،ٹی ٹی پی( فتنہ الخوارج)کو مختلف اقسام کے ہتھیاروں تک رسائی حاصل ہے، ان ہتھیاروں کی دستیابی نے اس کے حملوں کی ہلاکت خیزی میں اضافہ کر دیا ہے۔

خطے کے پائیدار امن اور علاقائی سلامتی کیلئے ضروری ہے کہ دہشتگردوں کی سہولت کاری  کا قلع قمع کیا جائے۔