معروف پروگرام نورِ سحر میں " سورۃ الشوریٰ اور مشورہ کی اہمیت " بصیرت افروز نشست
جسٹس (ر) نذیر احمد غازی نے کہا کہ مشورہ ایک امانت ہے اور اسلام میں اس کی بہت اہمیت ہے
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)معروف پروگرام نورِ سحر کے تحت ایک بصیرت افروز نشست کا انعقاد کیا گیا جس کا موضوع " سورۃ الشوریٰ اور مشورہ کی اہمیت "تھا۔
میزبان جسٹس (ر) نذیر احمد غازی نے کہا کہ مشورہ ایک امانت ہے اور اسلام میں اس کی بہت اہمیت ہے۔
انہوں نےمزید کہا کہ یہ بات مشورے کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے کافی ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر وحی نازل ہوتی تھی ،اور آپ ﷺ کسی کے مشورے کے محتاج نہ تھے، لیکن اس کے باوجود آپ ﷺ نے صحابہ کرامؓ حتیٰ کہ ازواجِ مطہراتؓ سے بھی مشورہ فرمایا تاکہ امت مسلمہ کو انفرادی معاملات سے لے کر اجتماعی معاملات تک مشورے کی اہمیت بتائی جائے۔
پروفیسر عائشہ ابوبکر نے کہا کہ سورۃ الشوریٰ میں اجتماعی زندگی کے اصول بیان کیے گئے ہیں اور اہلِ ایمان کی پہچان یہ ہے کہ وہ اپنے تمام معاملات باہمی مشورے سے طے کرتے ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خواتین کو مشاورت سے خارج نہیں کیا جا سکتا، چنانچہ صلح حدیبیہ کے موقع پر رسول اللہ ﷺ نے حضرت امِ سلمہؓ کا مشورہ قبول فرمایا، جو خواتین کی شمولیت کا روشن نمونہ ہے۔
شیخ عویمر ابراہیم میرمحمدی نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو غور و فکر کی صلاحیت دی ہے اور حکم دیا ہے کہ اہم فیصلے تنہا نہیں بلکہ مشورے سے کیے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ مشورہ وہ روحانی رشتہ ہے جو دلوں کو قریب اور ذہنوں کو متحد کرتا ہے، سورۃ الشوریٰ ہمیں اتحاد کا سبق دیتی ہے، اور اتحاد کی بنیاد مشورے پر رکھی گئی ہے۔
پروفیسر ناصر محمود نے کہا کہ تفسیر میں ذاتی رائے کا غلبہ امت میں تفرقے کا باعث بنتا ہے، جبکہ قرآن کی مشترکہ فہم امت کو جوڑ سکتی ہے۔
انہوں نے سورۃ الشوریٰ کے حوالے سے کہا کہ پچھلی امتوں نے کتاب کے علم کے باوجود تفرقہ اختیار کیا، جس کا سبب ان کی طبیعتوں کا فساد اور دنیا طلبی تھی، اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کے لیے سخت عذاب کی وعید سنائی ہے۔
مولانا امیر حمزہ نے کہا کہ اگرچہ اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتا ہے اور تمام فیصلے پہلے ہی ہو چکے ہیں، اس کے باوجود فرشتوں سے مشورہ لیا گیا، یہ عمل انسانوں کے لیے ایک مثال ہے۔
انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے بھی مشورے کی کوئی حاجت نہ ہونے کے باوجود صحابہ سے مشورہ فرمایا تاکہ بعد کے حکمرانوں کے لیے ایک عملی نمونہ قائم ہو۔ آپ ﷺ نے اپنی وفات کے وقت کسی کو جانشین مقرر نہ کیا بلکہ امت کو اجتماعی مشورے کی راہ دکھائی۔