جب نواز شریف کو نااہل کیا گیا تب کسی جج کا ضمیر کیوں نہ جاگا؟: وزیر دفاع خواجہ آصف

Nov 16, 2025 | 08:36:AM
جب نواز شریف کو نااہل کیا گیا تب کسی جج کا ضمیر کیوں نہ جاگا؟: وزیر دفاع خواجہ آصف
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز)وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ جب نواز شریف کو نااہل کرکے سسٹم کو تہہ و بالا کیا گیا تب کسی جج کا ضمیر کیوں نہ جاگا، آج ہم نے ایسا کیا کردیا جس سے عدلیہ کی آزادی متاثر ہورہی ہے۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ بتایا جائے کون سی شق عدلیہ کی آزادی پر اثرانداز ہو رہی ہے، ججز کی تقرری جوڈیشل کمیشن کے ذریعے ہی ہوگی۔ 

انہوں نے کہاکہ آئینی کیسز سننے کے لیے آئینی عدالت قائم کردی گئی ہے اور یہ کوئی نئی بات نہیں، دنیا کے کئی ممالک میں یہ نظام رائج ہے۔

وزیر دفاع نے کہاکہ ماضی میں انہی ججز نے نواز شریف کو نااہل کرکے سسٹم کو تہہ و بالا کیا، وہی جج ٹرائل کررہے تھے اور وہی مانیٹر جج بھی تھے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ عمران خان کے خلاف جو کیسز چل رہے ہیں ان میں مکمل طور پر جوڈیشل پراسس کو فالو کیا جارہا ہے۔

انہوں نے مزید کہاکہ ججز کو جو مراعات ملتی ہیں وہ ہماری سوچ سے بھی بالاتر ہیں، جب کہ ایک پارلیمنٹیرین کی کوئی پنشن نہیں،ہم ججز کی مراعات واپس لینے کا بالکل بھی نہیں سوچ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:لیبیا کے ساحل پر تارکین وطن کی دو کشتیاں الٹ گئیں، 4 افراد ہلاک

افغانستان سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں وزیر دفاع نے کہاکہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ ہمیں نقصان پہنچا رہی ہے، اور ہم نے اب یہ نہیں کرنے دینا، طالبان 3 مہینے کا انتظار کیوں کررہے ہیں، 3 روز میں فیصلہ کرلیں۔

انہوں نے مزید کہاکہ ہم نے 40 سال تک افغانیوں کی مہمان نوازی کی، لیکن بدلے میں ہمیں کیا ملا؟ انہی افغانیوں کے پاس دہشتگرد ٹھہرتے ہیں اور پھر پاکستانی شہریوں کا خون بہایا جاتا ہے۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے  کہا کہ  اکانومسٹ کی خبر درست ہے،  بشریٰ بی بی سابق انٹیلی جنس سربراہ جنرل فیض حمید کے لیے کام کرتی تھیں۔

خواجہ آصف نے کہا کہ بشریٰ بی بی کی دی گئی معلومات چند روز میں درست ثابت ہو جاتی تھیں، بانی پی ٹی آئی مکمل طور پر جنرل فیض اور جنرل باجوہ کے کنٹرول میں تھے، پاکستان کے ساتھ سنگین مذاق کیاگیا، طاقت کے لیے ایک خاتون کو لانچ کیاگیا۔

وزیر دفاع نے کہا کہ چار پانچ سال کی لوٹ مار ایک منصوبےکے تحت کی گئی، نواز شریف کے خلاف سپریم کورٹ میں پلان کے تحت فیصلے ہوئے، لوٹ مار کے پیسے سے بانی پی ٹی آئی کو حصہ ملتا تھا، باقی پیسہ باہر گیا، پنجاب جیسے صوبے کے ساتھ سنگین مذاق ہوا۔

 انہوں نے مزید کہا کہ آکسفورڈ سےپڑھ کر بھی یہ سب کرنا افسوسناک ہے، ملک کی کمانڈ جادو ٹونے کے حوالے کر دی گئی تھی، بشریٰ بی بی دشمن ملک کے ہاتھ لگ جاتیں تو سنگین خطرات پیدا ہو سکتے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ بشریٰ بی بی کا سارا کچا چٹھا جنرل عاصم منیر نے عمران خان کو بطور آئی ایس آئی چیف لکھ کر دیا تھا جس پر عمران خان ناراص ہوئے اور جنرل عاصم کو عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ 

خواجہ آصف نے کہا کہ پی ٹی آئی والے عمران خان کو بہت عقلمند سمجھتے تھے جس کو ایک عورت نے بیچ ڈالا، لوٹ مار کے پیسے سے عمران خان کو ٹپ مل جاتی تھی باقی پیسہ گوگی باہر لے گئی، پیرنی کے پاس جو حصہ ہے وہ کہیں نا کہیں تو پڑا ہوگا۔