دورِ حاضر میں افغانستان اور دہشتگردی ایک دوسرے کیساتھ لازم و ملزوم ہو چکے ہیں؛ اعلیٰ سیکیورٹی عہدیدار
Stay tuned with 24 News HD Android App
(احمد منصور)اعلیٰ سیکیورٹی عہدیدار نے کہا ہے کہ دورِ حاضر میں افغانستان اور دہشت گردی ایک دوسرے کے ساتھ لازم و ملزوم ہو چکے ہیں۔
اعلیٰ سیکیورٹی عہدیدار نے میڈیا کے ساتھ اہم نشست میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنےو الے اداروں نے دہشتگردی کی سرکوبی کے لئے مجموعی طور پر رواں سال 32092 آپریشنز کئے ،افغان طالبان رجیم کی سرپرستی اور تعاون سے دہشتگردی کے 2170 واقعات ہوئے ، جس میں 1861 دہشتگرد جہنم واصل ہوئے اور ارض پاک کے 640 بہادر سپوتوں نے اپنی قیمتی جانوں کے نذرانے پیش کئے ۔
سیکیورٹی ذرائع کاکہنا تھا کہ انسدادِ دہشتگردی کی اس جنگ کے اعداد و شمار اس امر کے عکاس ہیں کہ افغان طالبان رجیم کی سرپرستی میں پنپنے والے فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کس طرح پاکستان کی قومی سلامتی کے لئے خطرہ بن چکے ہیں ۔
سیکیورٹی ذرائع کاکہنا تھا کہ افغانستان کے ساتھ ہمارا سفارتی رابطہ مکمل طور پر شفاف، باضابطہ اور ہمارے اس بنیادی مطالبے پر مبنی ہے کہ دہشت گردی کی سرپرستی فوری بند کی جائے، افغانستان کی حدود میں کیے جانے والے تمام فضائی و عسکری حملے انتہا ئی درستگی اور ٹھوس انٹیلی جنس رپورٹس کی بنیاد پر کیے گئے۔
سیکیورٹی ذرائع کامزید کہنا تھا کہ طالبان رجیم انسانی حقوق کے لئے کسی قسم کے قابل احترام جذبات سے عاری ہے اور ان میں خواتین اور بچوں کے حقوق کا کوئی احترام نہیں ہے، دہائیوں پر محیط مسلسل رابطوں کے بعد پاکستان بالآخر اس حتمی نتیجے پر پہنچا ہے کہ طالبان رجیم کی جانب سے اسلام کی مسخ شدہ تشریح کے نفاذ کے حامی ہیں۔ طالبان رجیم کا غیر ذمہ دارانہ اور پرتشدد رویہ کسی بھی قسم کے سفارتی یا باہمی رابطے کے امکان کو رد کرتا ہے ۔
سیکیورٹی ذرائع کاکہنا ہے کہ پاکستان نے 2021 سے لے کر 2025 تک چار سال موجودہ افغان رجیم سے کثیر الجہتی مذاکرات کئے جو اس بات کی دلیل ہے کہ پاکستان افغانستان سے مسائل کا حل بات چیت کے ذریعے کرنے کا خواہاں رہا ہے ، پاکستان کا افغان طالبان رجیم سے کیا گیا مطالبہ دہشت گردوں کی سہولت کار ، پناہ اور سرپرستی ختم کرنا ہے ، افغان طالبان رجیم نے دہشتگردی کی سرپرستی اور افغان سر زمین کا دہشتگردی کے لئے استعمال روکنے میں ہمیشہ غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا، افغان طالبان رجیم کی ہٹ دھرمی اور غیر سنجیدہ رویے کے باعث پاکستان نے سرحد پار دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کیا ۔
یہ بھی پڑھیں:پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 100 روپے تک کمی! بڑی خبر آگئی