عالمی تیل مارکیٹ میں بڑی تبدیلی، چین نیا ’’سویٔنگ امپورٹر‘‘ بننے لگا
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک )عالمی توانائی اور اجناس کے ماہرین کے مطابق مشرق وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی اور ایران جنگ کے بعد عالمی تیل مارکیٹ میں ایک اہم تبدیلی سامنے آئی ہے، جس کے تحت چین اب عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں کو متوازن رکھنے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ماضی میں سعودی عرب کو “سویٔنگ ایکسپورٹر” سمجھا جاتا تھا، جو عالمی طلب اور رسد کے مطابق تیل کی پیداوار بڑھا یا کم کر کے مارکیٹ کو مستحکم رکھتا تھا، تاہم اب صورتحال بدل رہی ہے اور چین “سویٔنگ امپورٹر” کے طور پر ابھر رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق چین اپنی تیل کی خریداری کو عالمی حالات کے مطابق ایڈجسٹ کر کے قیمتوں میں استحکام پیدا کرنے کی صلاحیت حاصل کر رہا ہے۔ اگر عالمی مارکیٹ میں رسد متاثر ہو تو چین اپنی درآمدات بڑھا دیتا ہے، جبکہ زیادہ سپلائی کی صورت میں خرید کم کر کے قیمتوں کو متوازن رکھتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پٹرول سستا ہو گیا!
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت عالمی توانائی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہے، جس کے اثرات صرف تیل کی قیمتوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اس سے عالمی طاقتوں کے درمیان معاشی اور جیوپولیٹیکل توازن بھی متاثر ہو سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس تبدیلی کے بعد تیل کی عالمی منڈی میں چین کا کردار مستقبل میں امریکہ اور دیگر بڑی طاقتوں کے مقابلے میں زیادہ اہم ہو سکتا ہے، جس سے ایشیائی خطے کی سیاسی و معاشی اہمیت میں بھی اضافہ متوقع ہے۔