پنجاب کا ٹیکس فری بجٹ ، تنخواہوں میں 10 ، پنشن میں 5 فیصد اضافہ ، کم از کم اجرت 40 ہزار مقرر

بجٹ تقریر کے دوران اپوزیشن کا شدید احتجاج، ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ کر وزیر خزانہ پر پھینک دیں،سپیکر کےڈائس کا گھیراؤ

Jun 16, 2025 | 09:47:AM
پنجاب کا ٹیکس فری بجٹ ، تنخواہوں میں 10 ، پنشن میں 5 فیصد اضافہ ، کم از کم اجرت 40 ہزار مقرر
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

 (24 نیوز )پنجاب حکومت کا 5335 ارب روپے کا ٹیکس فری بجٹ پیش کر دیا گیا ، تنخواہوں میں 10 اور پنشن میں 10 فیصد اضافہ جبکہ کم از کم اجرت بڑھا کر 40 ہزار کر دی گئی۔

پنجاب اسمبلی میں بجٹ تقریر کے دوران اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا، اپوزیشن نے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ کر سپیکر اور وزیر خزانہ پر پھینک دیں، اپوزیشن نے اسپیکر ڈائس کا گھیراؤ بھی کیا۔

 پنجاب کے وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمان وزیر خزانہ نے بجٹ تقریر میں کہا کہ بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اور پنشن میں 5 فیصد اضافہ کیا جا رہا ہے۔

 وزیر خزانہ نے بجٹ تقریر میں کہا کہ گزشتہ مالی سال کی طرح یہ بجٹ بھی ٹیکس فری ہے، بھارت کے خلاف پاکستان کی عظیم فتح پر وزیراعظم اورافواج کو سلام پیش کرتا ہوں، فیلڈ مارشل عاصم منیر نےبھارت کے غرور کو پاش پاش کیا، پوری قوم بھارت کی جارحیت کے خلاف سرخرو ہوئی۔

365 دنوں میں 6104 منصوبے مکمل 

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ سال کے 365 دنوں میں 6 ہزار 104 منصوبے مکمل کئے گئے، کامیابی کامرانی اورعوام کی خدمت وزیراعلیٰ کی قابل فخر کہانی ہے، نظام، تحریک اور سوچ بدل رہی ہے، ایک سال میں گورننس کی رفتار اورمعیار بدل دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ستھرا پنجاب پروگرام سےملکی تاریخ میں پہلی بار مثالی صفائی کو یقینی بنایا، وزیراعلیٰ مریم نواز کی عوام کیلئے خدمت کا پورا پنجاب گواہی دے رہا ہے، اربوں روپے کے منصوبوں میں سےکوئی ایک سکینڈل سامنے نہیں آیا۔

وزیر خزانہ پنجاب نے بتایا کہ پنجاب بھر میں سڑکیں بن رہی ہیں، الیکٹرک بسیں چل رہی ہیں، پہلی بار بجٹ میں ہیومن انویسٹمنٹ کو یقینی بنایا گیا، نوجوانوں کو آگے بڑھنے کے یکساں مواقع فراہم کیے جائیں گے، حکومت سنبھالی تو پورا نظام مفلوج تھا، کرپشن، مہنگائی، بیروزگاری کی وجہ سے عوام کا کوئی پرسان حال نہ تھا۔

25-2024 کا بجٹ تاریخ ساز منصوبوں سے بھرا، کامیاب رہا

انہوں نے سپیکر پنجاب اسمبلی کو مخاطب کرتے ہوئے بتایا کہ مالی سال 25-2024 کا بجٹ تاریخ ساز منصوبوں سے بھرا کامیاب بجٹ تھا، 10ارب روپے کی لاگت سے وزیراعلیٰ لیپ ٹاپس سکیم کا اجرا کیا گیا، 50 ہزار طلبا کو لیپ ٹاپس دیئے جا چکے ہیں، 3500 سے زائد سرکاری سکولوں میں 4لاکھ بچوں کی غذائی نشوونما ہوئی، 55ہزار بچوں کو سکالرشپس پروگرام کے تحت وظائف دیئے گئے۔

مجتبیٰ شجاع الرحمان نے یہ بھی بتایا کہ 72ارب روپے کی لاگت سے لاہور میں نوازشریف کینسر انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے، راولپنڈی،میانوالی،ملتان میں 11کروڑ روپے کی لاگت سے 2ایئرایمبولینسز چلائی گئیں، تاریخ میں پہلی بار ساتوں موٹرویز پر ایئرایمبولینس سروس چل رہی ہے، پنجاب میں 20ہزار مریضوں کا ہارٹ سرجری کا علاج ہوا، گائنی امراض کی ادویات کی گھر گھر فراہمی کیلئے 56ارب روپے مختص کیے گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ دل کے امراض کی تشحیص کیلئے جدید مشینری فراہم کی گئی، 9 ارب روپے کی لاگت سے کسان کارڈ سکیم کے تحت بلاسود قرض فراہم کئے گئے، چھوٹے کسانوں کو اب تک 9500 ٹریکٹرز دیئے جاچکے ہیں۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ 2 ہزار 950 ایکڑ پر شجرکاری مکمل کرلی گئی ہے، ایگریکلچر گریجویٹ پروگرام کے تحت 1 ہزار سے زائد نوجوانوں کو انٹرن شپ کرائی گئی، لائیو سٹاک کارڈ کے ذریعے مویشی پال سکیم میں کسانوں کو آسان قرض دیئے گئے، ماحولیاتی تحفظ کے ادارے کو فعال بنانے کیلئے 10ارب روپے کے فنڈز مختص کئے گئے۔

 ماحولیاتی آلودگی میں خاطر خواہ کمی

انہوں نے حکومتی کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں ماحولیاتی آلودگی میں خاطر خواہ کمی آئی ہے، 85.5 ارب روپے کی لاگت سے اپنی چھت اپنا گھر منصوبہ شروع کیا گیا، سیف سٹی منصوبہ پنجاب کے 19اضلاع میں جاری ہے، لاہور کے 400 مقامات پر مفت وائی فائی کی سہولت دی جا رہی ہے، پنجاب کی خواتین کو جدید آئی ٹی کورسز سے بااختیار بنایا جا رہا ہے، 12 ہزار کلومیٹر سے زائد سڑکوں کی تعمیر کا عمل مکمل کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ 70سے زائد شاہراہوں کی تعمیرنو کا کام مکمل کیا گیا، پنجاب کیلئے ماحول دوست بسوں کی خرید کا عمل جاری ہے، مجتبیٰ شجاع الرحمان لاہورکی سڑکوں پر 27الیکٹر ک بسیں چل رہی ہیں، 19ارب روپے کی لاگت سے آسان کاروباراسکیم کارڈشروع کیا گیا۔

کھیلتا پنجاب پروگرام  

مجتبیٰ شجاع الرحمان نے حکومتی کارکردگی کے باب میں بتایا کہ کھیلتا پنجاب پروگرام کے تحت 45 منصوبے شروع کئے گئے، تقریباً 90لاکھ خاندانوں کی ڈیجیٹل رجسٹریشن مکمل کر لی گئی ہے، ایسے نظام حکومت کی بنیاد رکھی جو معاشرے کے ہر طبقے کو براہ راست ریلیف دے رہا ہے، ہم نے غربت کے خاتمے، روزگار کے مواقع کی فراہمی کو یقینی بنایا۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ 1سال کے دوران ملکی جی ڈی پی کی شرح نمو میں اضافہ ہوا، مہنگائی کی شرح پچھلی کئی دہائیوں کی کم ترین سطح پر آگئی ہے، شرح سود 22فیصد سےکم ہوکر 11فیصد پر آگئی ہے، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ سرپلس میں بدل چکا ہے، زرمبادلہ ذخائر بڑ ھ کر 16.6ارب ڈالر پر پہنچ چکے ہیں۔

بجٹ 26-2025ء کا تخمینہ 5335 ارب روپے

 بجٹ 26-2025ء کے متعلق وزیر خزانہ پنجاب نے ایوان کو بتایا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں عوامی فلاح کو یقینی بنایا گیا ہے، بجٹ کا تخمینہ 5ہزار 335ارب روپے ہے، ریکارڈ ساز ترقیاتی بجٹ پیش کرنے جارہے ہیں، پنجاب کی تاریخ میں ریکارڈ ساز 1240ارب کا ترقیاتی بجٹ رکھا گیا ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ ہم نے قرضوں کی کمی کو یقینی بنایا، معاشرے کے کمزور طبقات کی مدد کیلئے 70ارب روپے رکھے گئے ہیں، سوشل سیکٹر کے تحت صحت ،تعلیم اوردیگر شعبے مسلم لیگ ن کی ترجیح رہے۔

تعلیم 

ہماری حکومت نے سوشل سیکٹر کے شعبے کے لیے 494ارب روپے مختص کیے ہیں، تعلیم کے شعبے کے لیے 148ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، ہونہار سکالر شپ پروگرام کے تحت 15 ارب کی لاگت سے طلبا کو بہتر مواقع فراہم کیے جائیں گے، سی ایم لیپ ٹاپ سکیم کیلئے 15.1ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ 40ارب روپے کی لاگت سے سرکاری سکولوں کی فلاح وبہبود کی جائے گی، سرکاری سکولوں کی آؤٹ سورسنگ کی جائے گی ، سرکاری سکولوں کو پرائیویٹ سیکٹر کے سکولوں سے بہتر بنائیں گے، 35ارب روپے کی لاگت سے پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن پروگرام کے تحت تعلیم کی فراہمی کا معیار بہتر کیا جائے گا۔

مجتبیٰ شجاع الرحمان نے کہا کہ کم آمدنی والے خاندانوں کے بچوں کو معیاری تعلیم دی جائے گی، سکول وہیل پروگرام کے دائرہ کار کو وسیع کیا جارہا ہے، آئندہ مالی سال1لاکھ12ہزار طلبا کو مزید لیپ ٹاپس دیے جائیں گے، 67کروڑ کی لاگت سے پنجاب میں پہلے آٹزم سکول کی بنیاد رکھی گئی ہے۔

حکومت پنجاب صوبہ بھر میں 8نئے خواتین کیلئے گورنمنٹ ایسوسی ایٹ کالجز بنانے جارہی ہے، آئندہ مالی سال ک۔ گد۔ 8ارب روپے کے خطیر فنڈز پنجاب کی یونیورسٹیوں کیلئے رکھے گئے ہیں۔

صحت  

ایوان کو بتایا گیا کہ اس بجٹ میں بھی شعبہ صحت ہماری توجہ کا مرکز ہے، صحت کے شعبہ کیلئے ریکارڈ 181ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، صحت عامہ کے شعبے میں ترقیاتی فنڈز کی مد میں 450ارب روپے رکھے گئے ہیں، سرگودھا میں 8.6ارب کی لاگت نوازشریف انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کیلئے مختص کیے گئے ہیں۔

بہاولپور اوررحیم یار خان میں 4ارب روپے کی لاگت سے برن یونٹ کے قیام کا منصوبہ موجودہ بجٹ کا حصہ بنایا جارہا ہے، نشتر ہسپتال ملتان میں قائم برن یونٹ کے مریضوں میں کمی آئی ہے، سیالکوٹ میں ٹیچنگ ہسپتال کے قیام کیلئے 7ارب روپے مختص کیے ہیں۔

زراعت 
مجتبیٰ شجاع الرحمان نے کہا کہ پنجاب کی بڑی تحصیلوں میں ریسکیو سٹیشنوں کے قیام کے لیے 2،2ارب روپے تخمینے لگائے گئے ہیں، زراعت معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، اقتدار سنبھالا تو زراعت کا شعبہ شدید بحران کا شکار تھا، ٓئندہ مالی سال کیلئے زراعت کے شعبے کی ترقی کیلئے 80ارب روپے کے خطیر فنڈ مختص کیے گئے۔

قبل ازیں وزیراعلی مریم نواز شریف کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا 27 واں اجلاس ہوا جس میں صوبائی کابینہ نے نئے مالی سال 26-2025 کے بجٹ کی منظوری دے دی، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے بجٹ دستاویز پر دستخط کر دیئے۔