جارحیت کا فیصلہ کن جواب دیں گے: ایرانی مندوب نے ٹرمپ انتظامیہ کو امریکی رجیم قرار دے دیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)اقوام متحدہ میں ایرانی مندوب غلام حسین درزی نے کہا ہے کہ ایران کا کشیدگی یا تصادم کا کوئی ارادہ نہیں لیکن جارحیت ہوئی تو بھرپور جواب دیا جائے گا۔
سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی مندوب نے ٹرمپ انتظامیہ کو امریکی رجیم قرار دے دیا، انہوں نے کہا کہ جو 12 روزہ جنگ کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہے، اب وہ وہی اہداف سیاسی عدم استحکام پیدا کر کے حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
غلام حسین درزی کا کہنا تھا کہ 8 اور 10 جنوری کےدوران ایران نے داعش طرز کی دہشتگردی کا سامنا کیا، ایران میں منظم طور پر سر قلم کیے گئے، لوگوں کو زندہ جلایا گیا، سکیورٹی اہلکاروں پر تشدد کیا گیا، ایران میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھا چڑھا کر مداخلت کا بہانہ تلاش کرنے کی کوشش کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف کسی بھی مقصد کے تحت طاقت کے استعمال کی دھمکی، چاہے مظاہرین کے تحفظ یا عوام کی حمایت کے بہانے ہی کیوں نہ ہو، بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی سنگین خلاف ورزی ہوگی، انسانی ہمدردی کے بہانے طاقت کو جائز ٹھہرانا بین الاقوامی قانون کا جان بوجھ کر غلط استعمال ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران کی صورتحال پر عالمی طاقتیں آمنے سامنے، سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں گرما گرم بحث
ایرانی مندوب نے کہا کہ براہِ راست ہو یا بالواسطہ جارحانہ عمل کا جواب فیصلہ کن اور قانونی طور پر آرٹیکل 51 کے تحت دیا جائے گا، یہ کوئی دھمکی نہیں بلکہ حقیقت پر مبنی بیان ہے، اور اس کے تمام نتائج کی ذمہ داری صرف ان پر ہوگی جو ایسے غیر قانونی اقدامات کا آغاز کریں گے۔
انہوں نے زور دیا کہ سلامتی کونسل کی واضح، اخلاقی، سیاسی اور قانونی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے غیر قانونی اقدامات کو فوری طور پر مسترد اور مذمت کرے، اس سے قبل کہ دیر ہو جائے۔