زندہ ہونے کا ثبوت — ایک کاغذ نہیں، ایک اذیت

صفدر ہمدانی 

Apr 16, 2026 | 22:54:PM
زندہ ہونے کا ثبوت — ایک کاغذ نہیں، ایک اذیت
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی زندگی ویسے ہی دو دنیاؤں کے درمیان معلق رہتی ہے—ایک دل کی، ایک ضرورت کی۔ مگر اس معلق زندگی میں اگر ہر چھ ماہ بعد “زندہ ہونے کا ثبوت” بھی دینا پڑے، تو یہ صرف ایک انتظامی تقاضا نہیں رہتا، ایک اذیت بن جاتا ہے۔ اس اذیت کا نام ہے: لائف سرٹیفکیٹ۔

پاکستان کا سٹیٹ بینک اور متعلقہ مالیاتی ادارے شاید یہ بھول جاتے ہیں کہ جن لوگوں سے وہ یہ سرٹیفکیٹ مانگ رہے ہیں، وہ کوئی فرضی کردار نہیں بلکہ وہی پاکستانی ہیں جنہوں نے اپنی جوانیاں ملک کے نام کیں، اور اب بڑھاپے میں دیارِ غیر میں بیٹھ کر اپنی پنشن کے سہارے زندگی گزار رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایک ضعیف العمر پنشنر کے لیے ہر چھ ماہ بعد کاغذی کارروائی کے اس پیچیدہ عمل سے گزرنا واقعی ضروری ہے؟

دلچسپ—اور کسی حد تک تکلیف دہ—بات یہ ہے کہ دنیا کے بیشتر بیرونی ممالک، خاص طور پر مغربی ممالک میں، پنشنرز کے لیے “لائف سرٹیفکیٹ” جیسی کوئی شرط موجود نہیں۔ وہاں ریاست اپنے شہریوں پر اعتماد کرتی ہے اور جدید ڈیجیٹل نظام کے ذریعے خود ہی تصدیق کا عمل مکمل کر لیتی ہے۔ مگر ہمارے ہاں صورتحال اس کے برعکس ہے، جہاں ایک بزرگ شخص کو اپنی زندگی کا ثبوت دینے کے لیے بار بار دربدر ہونا پڑتا ہے۔

مزید ستم یہ کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو یہ سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے لیے اکثر پاکستانی سفارتخانوں یا قونصل خانوں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ یہ عمل نہ صرف وقت طلب ہے بلکہ اس کے ساتھ باقاعدہ فیس بھی ادا کرنا پڑتی ہے۔ ہر شہر میں قونصل خانے موجود نہیں ہوتے، جس کے باعث بزرگ پنشنرز کو طویل سفر کرنا پڑتا ہے—کبھی گھنٹوں، کبھی پورا دن۔ ایک ایسے شخص کے لیے جو عمر کے آخری حصے میں سہولت چاہتا ہے، یہ مرحلہ کسی امتحان سے کم نہیں۔

ٹیکنالوجی کے اس دور میں، جب ایک بٹن کے دبانے سے بینک ٹرانزیکشنز مکمل ہو جاتی ہیں، جب شناختی تصدیق کے لیے بائیومیٹرک اور ڈیجیٹل سسٹمز موجود ہیں، تو پھر لائف سرٹیفکیٹ جیسے معاملے میں پرانے، فرسودہ طریقہ کار پر اصرار کیوں؟

یہ نہ صرف غیر ضروری ہے بلکہ غیر انسانی بھی۔

بیرون ملک مقیم پنشنرز کو اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ اس عمل کو آسان، قابلِ رسائی اور جدید تقاضوں کے مطابق بنایا جائے۔ سٹیٹ بینک کو چاہیے کہ تمام بینکوں کو واضح ہدایات جاری کرے کہ وہ اپنے پنشنر اکاؤنٹ ہولڈرز کے لیے مخصوص ای میل ایڈریس فراہم کریں، جہاں لائف سرٹیفکیٹ بآسانی بھیجا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ، واٹس ایپ جیسے عام اور قابلِ استعمال پلیٹ فارمز کو بھی اس عمل کا حصہ بنایا جائے تاکہ بزرگ افراد بغیر کسی دقت کے اپنی دستاویزات ارسال کر سکیں۔

آج کل کے لائف سرٹیفکیٹس پر کیو آر کوڈ موجود ہوتا ہے، جو تصدیق کے لیے کافی ہے۔ اس کو سکین کر کے چند لمحوں میں تصدیق کی جا سکتی ہے، تو پھر اصل دستاویز کی جسمانی موجودگی پر اصرار کیوں؟ کیا یہ صرف ایک روایتی ضد ہے یا سسٹم کی سستی؟

حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ صرف سہولت کا نہیں، عزتِ نفس کا بھی ہے۔ ایک بزرگ شخص، جو اپنی زندگی کی آخری دہائیوں میں سکون کا متلاشی ہے، اسے یہ باور کرانا کہ “آپ زندہ ہیں، اس کا ثبوت دیں”، ایک غیر محسوس مگر گہری اذیت ہے۔

ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ریاست کا کام اپنے شہریوں کو سہولت دینا ہے، نہ کہ انہیں غیر ضروری پیچیدگیوں میں الجھانا۔ خاص طور پر وہ شہری جو ملک سے دور بیٹھ کر بھی اس سے جڑے ہوئے ہیں، انہیں مزید مشکلات میں دھکیلنا کسی طور مناسب نہیں۔

وقت آ گیا ہے کہ سٹیٹ بینک آف پاکستان اس معاملے کا سنجیدگی سے نوٹس لے اور ایک جامع، ڈیجیٹل اور انسانی بنیادوں پر مبنی پالیسی متعارف کروائے۔ ایک ایسی پالیسی جو نہ صرف پنشنرز کے لیے آسانی پیدا کرے بلکہ پاکستان کے مالیاتی نظام کو بھی جدید خطوط پر استوار کرے۔

آخر میں سوال صرف اتنا ہے:

کیا ہم اپنے بزرگوں سے یہ بھی آسانی چھین لینا چاہتے ہیں؟

 یا پھر ہم ایک ایسا نظام قائم کرنا چاہتے ہیں جہاں زندہ ہونے کا ثبوت دینا، زندگی سے بڑا مسئلہ نہ بن جائے
 

دیگر کیٹیگریز: بلاگ
ٹیگز: