بندروں نے جاپانیوں کا جینا حرام کر دیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز)جاپان کے شمالی الپس کے پہاڑی علاقوں میں مقامی لوگ مکاک بندروں سے اپنی فصلیں اور گھروں کی حفاظت کے لیے لڑ رہے ہیں۔
روشن نارنجی جیکٹیں پہنے، گھنٹیاں بجاتے، سیٹی بجاتے اور لکڑی کے چھڑوں سے آواز کر کے یہ ٹیمیں بندروں کو پہاڑوں کی طرف واپس دھکیلتی ہیں۔
دوسری طرف ان سب کے باوجود بندروں اور انسانوں کے درمیان ٹکراؤ میں کمی نظر نہیں آ رہی۔
رپورٹس کے مطابق جاپان کے آزومینو شہر کے علاقے ارییکے میں مقامی مکاک بندروں سے تنگ ہیں جو گھروں میں گھس کر کھانا چراتے اور کھیتوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
مزید پڑھیں:کیریئرکا پہلا ریڈ کارڈ، کرسٹیانو رونالڈو مشکل میں
جاپان کی وزارت زراعت کے مطابق 2022 میں جنگلی جانوروں، بشمول بندروں، سے فصلوں کو تقریباً 15.6 ارب ین (100 ملین ڈالر) کا نقصان پہنچا۔
جس میں سے زیادہ تر نقصان ہرن، جنگلی سور اور مکاک بندروں نے پہنچایا۔
قبل ازیں، تقریباً تمام بندر شہر میں رہتے تھے اور صرف 1 فیصد پہاڑوں میں پائے جاتے تھے۔
اب یہ بندر نصف وقت پہاڑوں میں اور باقی شہر میں گزارتے ہیں، جسے مقامی ٹیم کی کوششوں کا نتیجہ بتایا جاتا ہے۔
میاکے کہتے ہیں ”ہم صرف انہیں ان کی اصل جگہ واپس بھیج رہے ہیں۔
شہر کا کھانا مزید غذائیت بخش اور لذیذ ہے، بندر شرارت نہیں کر رہے، بس کھانے کے لیے آ رہے ہیں۔