سٹیٹ بینک نے سب کو سرپرائز کردیا 

وقاص عظیم 

Dec 15, 2025 | 22:14:PM
سٹیٹ بینک نے سب کو سرپرائز کردیا 
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

مرکزی بینک نے شرح سود میں 50 بی پی ایس کی کمی کا فیصلہ کیا ہے ، شرح سود 11 فیصد سے کم ہو کر 10.50 فیصد پر آگئی ہے ، سٹیٹ بینک کے فیصلے سے قبل تمام سروے شرح سود کو برقرار رکھنے کا نتیجہ دے رہے تھے ،سٹیٹ بینک نے ایک آن لائن سروے بھی کرایا ، اقتصادی ماہرین بھی یہی اندازہ لگا رہے تھے کہ سٹیٹ بینک شرح سود کو برقرار رکھے گا ۔ یہاں تک کہ  آئی ایم ایف نے بھی مہنگائی میں اضافے کا امکان ظاہر کرتے ہوئے شرح سود کو برقرار رکھنے کا امکان ظاہر کیا تھا ۔ 

سٹیٹ بینک نے تمام اندازوں کو پس پشت ڈالتے ہوئے شرح سود کو کم کرنے کا فیصلہ کیسے کیا ؟ سٹیٹ بینک کو شرح سود کو کم کرنے کی ہدایات کہاں سے موصول ہوئی ہیں ؟ کیا وزیر اعظم نے ایسی ہدایات دیں یا پھر ۔۔۔ ؟ 

سٹیٹ بینک کے مطابق حالیہ سیلاب کے مہنگائی پر توقعات سے کم اثرات آئے ہیں ۔ جولائی سے نومبر تک مہنگائی کی شرح 5ںسے 7 فیصد تک رہی ہے۔ 

غور طلب بات یہ ہے کہ جب مہنگائی میں کمی کا  سلسلہ جاری تھا تو سٹیٹ بینک بے تکی تاویلیں پیش کر کے شرح سود کو کم نہیں کر رہا تھا اور جب مہنگائی بڑھنے شروع ہوا ہے تو شرح سود کو کم کردیا گیا ہے ؟ عموما شرح سود مہنگائی سے ہم آ ہنگ رکھی جاتی ہے ، شرح سود اور مہنگائی کے درمیان ایک تعلق بتایا جاتا ہے ، اگر مہنگائی کم ہوگی تو شرح سود بھی کم رکھا جاتا ہے ، سٹیٹ بینک مہنگائی میں اضافے کو قابو کرنے کرنے کے لیے شرح سود کو بڑھاتا ہے تاکہ ملک میں کھپت کم رہے اور مہنگائی بڑھنے نے پائے ، سٹیٹ بینک نےاس قاعدے کی حالیہ 8 مہینوں میں خلاف ورزی کی ہے ، نتیجتا پاکستان کا شرح سود خطے کے تمام ممالک کے مقابلے میں زیادہ رہا ، بلند شرح سود کی وجہ سے حکومت کو مقامی قرضوں پر سود کی ادائیگیوں کی مد میں 3 ہزار ارب روپے سے اضافی خرچہ کرنا پڑا ، اس دوران بلند شرح سود کی وجہ سے نجی بینکوں نے خوب مال بنایا ہے ، 

پاکستان کی کاروباری یہ سمجھتی ہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی پالیسی ناکام ہوچکی ہے ، شرح سود کے ذریعے مہنگائی کو کم کرنے کی پالیسی پاکستان جیسے ممالک میں کام نہیں کرتی کیونکہ ملکی معیشت درآمدات اور کھپت پر منحصر ہے ۔ 

سابق نگراں وفاقی وزیر تجارت و صنعت گوہر اعجاز کہتے ہیں کہ پاکستان میں صنعتی سرگرمیاں بلند شرح سود کی وجہ سے مفلوج ہوکر رہ چکی ہیں ۔ چیئرمین ایکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈویلپمنٹ گوہر اعجاز نے کہا ہے کہ ملکی معیشت کو گذشتہ تین سال سے وینٹیلیٹر پر رکھا گیا ہے حکومت نے گذشتہ تین سال میں معاشی استحکام کی کوشش کی ہے اس دوران ملکی معاشی شرح نمو 2 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس دوران ڈالر کی قیمت 160 روپے سے بڑھ کر 280 روپے تک پہنچ گئی  تین سال میں ملکی برآمدات 30 ارب ڈالرز سے آگے نہیں بڑھ سکیں کرنسی ڈی ویلیوایشن سے ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہوا۔ معاشی مسائل کا حل ملکی صنعتوں کو علاقائی نرخوں پر توانائی فراہم کرنا ہے۔ ملکی صنعتوں کے لیے بجلی اور گیس علاقائی ممالک کے مقابلے میں کہیں مہنگی ہے۔ صنعتوں کے لیے شرح سود اور ٹیکسز علاقائی ممالک کے مقابلے میں دوگنے چین اور انڈیا نے پالیسی ریٹ 5 فیصد سے کم رکھا ہوا ہے پاکستان میں اسٹیٹ بینک نے ایک سال سے شرح سود کو 11 فیصد پر برقرار رکھا ہوا ہے بلند شرح سود کی وجہ سے صنعتیں عالمی منڈی میں مقابلہ نہیں کر پا رہیں صنعتوں کے لیے بجلی کا نرخ 9 سینٹ فی یونٹ مقرر کیا جائے ٹیکسوں کی شرح کو کم کر کے 20 فیصد پر لایا جائے 

سٹیٹ بینک شرح سود کو 6 فیصد پر لائے اس سے حکومت کو سود کی ادائیگیوں میں سالانہ 3 ٹریلین روپے کی بچت ہوگی۔  

ماہر اقتصادیات عبد الرحمن نجم کہتے ہیں کہ سٹیٹ بینک نے سات مہینے کے بعد شرح سود کو کم کیا ہے ، مارکیٹ میں  گزشتہ دو ماہ کے دوران ڈالرز کی فراوانی ہوئی ہے ۔ شرح سود کم ہونے سے آئندہ ایک سال میں صنعتی سرگرمیوں میں اضافے کی توقع ہے ۔  

شرح سود کم ہونے سے آٹو موبائل سیکٹر اور سینٹ سیکٹر کو فائدہ ہوگا تاہم بینکوں کے منافع کو دھچکا لگ سکتا ہے ، سٹاک ایکسچینج میں بینکوں کے شیئرز میں کمی ہوئی ہے ۔ 

 بیشتر صنعتکار یہ سمجھتے ہیں کہ سٹیٹ بینک نے تاحال شرح سود کو بلند رکھا ہوا ہے ، شرح سود کو سنگل ڈیجیٹ میں آنا چاہیے ، شرح سود کم کرنے سے معاشی سرگرمیوں میں تیزی آئے گی ۔ مجموعی طور پر شرح سود میں کمی عارضی ریلیف دے سکتی ہے کیونکہ مالی سال کی دوسری ششماہی میں مہنگائی میں اضافے کا خطرہ ہے ، عالمی مارکیٹ میں ملکی برآمدات کے لیے کافی مشکل صورتحال ہے ، مالی سال کے پہلے پانچ ماہ میں تجارتی خسارہ 37 فیصد سے تجاوز کر چکا ہے.

دیگر کیٹیگریز: بلاگ
ٹیگز: