پنجاب کی فلم انڈسٹری: زوال سے احیاء تک—56 ایکڑ پر فلم سٹی اور 2 ارب کا فلم فنڈ
تحریر؛ زین مدنی
Stay tuned with 24 News HD Android App
پاکستان کی فلم انڈسٹری ایک طویل عرصے سے بحران کا شکار تھی۔ لاہور، جو کبھی فلموں کا مرکز تھا، خاموشیوں میں ڈھلتا چلا گیا۔ نہ نئےسٹوڈیوز، نہ سہولیات، اور نہ ہی پالیسی سطح پر کوئی عملی قدم۔ ایسے میں حکومتِ پنجاب کا 56 ایکڑ زمین فلم سٹی کے لیے منظور کرنا اور ساتھ ہی نئی فلمیں بنانے کے لیے فلم سازوں کو 2 ارب روپے فراہم کرنا ایک ایسا فیصلہ ہے جو اس انڈسٹری کے مستقبل کو یکسر بدل سکتا ہے۔
56 ایکڑ پر فلم سٹوڈیوز، جدید پوسٹ پروڈکشن لیبارٹریاں، سیٹس، ٹیکنیکل زونز، بیک لاٹس، لوکیشن بیسڈ ایریاز اور ایک باقاعدہ فلم اکیڈمی یہ سب وہ بنیادی انفراسٹرکچر ہیں جن کی کمی نے لالی وڈ کی رفتار روک رکھی تھی۔ اس فیصلے سے نہ صرف لاہور کو اپنی خلاقی شناخت واپس مل سکتی ہے بلکہ پاکستان خطے میں کم لاگت مگر معیاری فلم پروڈکشن کا مرکز بن سکتا ہے۔
پنجاب حکومت نے نئی فلموں کے لیے دو ارب روپے کا فلم فنڈ جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ پاکستان کی فلم انڈسٹری کے لیے تاریخی قدم ہے کیونکہ
نوجوان فلم ساز اپنے تخلیقی آئیڈیاز عملی شکل دے سکیں گے
یہ فلم فنڈ صنعت کی ریڑھ کی ہڈی بن سکتا ہے اگر اسے شفاف، میرٹ پر اور فلمی ضرورتوں کے مطابق تقسیم کیا گیا۔
فلم سٹی اور فلم فنڈ کے مشترکہ اثرات پورے صوبے میں تخلیقی معیشت کو طاقت دیں گے۔
گزشتہ برسوں میں فلم انڈسٹری کے لیے حکومتی سطح پر عملی قدم کم دکھائی دیے تھے۔ لیکن 56 ایکڑ فلم سٹی اور 2 ارب کے فلم فنڈ نے ثابت کیا ہے کہ حکومت اب اس سیکٹر کو صرف ثقافتی سرگرمی نہیں بلکہ اقتصادی اثاثہ سمجھ رہی ہے۔
یہ اقدامات مستقبل میں ٹیکس رعایتوں، فلم فنڈ کے مزید پھیلاؤ اور بین الاقوامی اسٹوڈیوز کو لانے کے لیے ماحول سازگار بنا سکتے ہیں۔
انڈسٹری ماہرین کو مشاورتی عمل کا حصہ بنایا جائے
بیوروکریسی کی سست روی سے بچا جائے
فلم سٹی کو عالمی معیار کے مطابق ڈیزائن کیا جائے
2 ارب کے فنڈ کی شفاف تقسیم کو یقینی بنایا جائے
اگر ان نکات کو سنجیدگی سے لیا گیا تو یہ منصوبہ محض حکومتی اعلان نہیں بلکہ انڈسٹری کی بحالی کی بنیاد بن جائے گا۔
56 ایکڑ فلم سٹی + 2 ارب روپے فلم فنڈ
یہ دو فیصلے لالی وڈ کے مستقبل کا نیا نقشہ کھینچ رہے ہیں۔ یہ وہ قدم ہے جو فلمی صنعت کو نہ صرف بحال کر سکتا ہے بلکہ اسے عالمی فلمی مارکیٹ کے ساتھ دوبارہ جوڑ سکتا ہے۔
یہ اقدامات نئی امید، نیا عزم اور نئی تخلیقی فضا کی بنیاد ہیں۔
اگر عملدرآمد بہترین ہوا تو یہ منصوبہ پاکستان کی فلمی تاریخ کا سب سے اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے۔