آزاد کشمیر میں سیاسی ہلچل شدت اختیار کر گئی،فیصل ممتاز راٹھور وزارت عظمیٰ کے مضبوط امیدوار قرار
Stay tuned with 24 News HD Android App
آزاد جموں و کشمیر میں سیاسی منظرنامہ بڑی تبدیلی کی طرف بڑھنے لگا ہے،وزیراعظم چوہدری انوارالحق کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے تحریک عدم اعتماد باضابطہ طور پر اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کرا دی گئی ہے جبکہ اپوزیشن نے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما فیصل ممتاز راٹھور کو وزارت عظمیٰ کے لیے متفقہ امیدوار نامزد کر دیا ہے۔
تحریک عدم اعتماد جمع عددی اکثریت اپوزیشن کے حق میں؟
وزیراعظم انوارالحق کے خلاف جمع کرائی گئی تحریک عدم اعتماد پر 17 اراکین اسمبلی کے دستخط موجود ہیں، جب کہ آئینی طور پر تحریک جمع کرانے کے لیے صرف 14 دستخط درکار ہوتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق تحریک سپیشل سیکرٹری کے پاس جمع کرائی گئی،اس دوران سیکرٹری اسمبلی دفتر سے غیر حاضر تھےجس پراپوزیشن نے اظہار تشویش بھی کیا۔
اپوزیشن جماعتیں دعویٰ کر رہی ہیں کہ تحریک پر ووٹنگ کے دوران انہیں ایوان میں 36 اراکین کی حمایت حاصل ہوگی جو وزیراعظم کو ہٹانے کے لیے واضح طور پر مطلوبہ عددی اکثریت سے زیادہ ہے۔
واضح رہے کہ چوہدری انوارالحق کو اپریل میں وزارت عظمیٰ کے انتخاب کے دوران 53 رکنی ایوان میں 48 ووٹ ملے تھے۔
اپوزیشن اتحاد کی جانب سے فیصل ممتاز راٹھور کی باضابطہ نامزدگی کے بعد سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں،اسلام آباد میں منعقدہ ایک اہم پریس کانفرنس میں اپوزیشن قیادت نے موجودہ حکومت کی کارکردگی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ "ایوان میں اب تبدیلی ناگزیر ہے"۔نئے قائد ایوان کے چناؤ کے لیے اپوزیشن ممبران کو مظفرآباد پہنچنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔
آزاد کشمیر کے پارلیمانی نظام میں اب تک 15 وزرائے اعظم منتخب ہو چکے ہیں،تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کی صورت میں نئے 16ویں وزیراعظم کا انتخاب عمل میں لایا جائے گا،2021 کے عام انتخابات کے بعد اب تک تین وزرائے اعظم تبدیل ہو چکے ہیں جن میں عبدالقیوم نیازی، سردار تنویر الیاس اور چوہدری انوارالحق شامل ہیں۔
عبدالقیوم نیازی کے خلاف بھی تحریک عدم اعتماد لائی گئی تھی جبکہ سردار تنویر الیاس عدالت کے حکم پر نااہل قرار پائے تھے۔
آزاد جموں و کشمیر کے آئین کے مطابق تحریک عدم اعتماد جمع ہونے کے بعد سپیکر 3 سے 7 روز کے اندر اندر اسمبلی کا اجلاس بلانے کے پابند ہیں۔
اجلاس میں پہلے تحریک عدم اعتماد پر رائے شماری ہو گی،تحریک کامیاب ہونے کی صورت میں وزیراعظم کو فوری طور پر عہدہ چھوڑنا ہوگا جس کے بعد اسی اجلاس میں نئے قائد ایوان کے انتخاب کا عمل شروع ہوگا۔
اپوزیشن ذرائع کا کہنا ہے کہ "فیصل ممتاز راٹھور کے پاس واضح اکثریت موجود ہے اور ان کا انتخاب اب چند دنوں کی بات ہے۔
"تحریک عدم اعتماد جمع ہونے کے بعد مظفرآباد میں سیاسی ماحول انتہائی کشیدہ ہو چکا ہے،اراکین اسمبلی کی آمدرفت تیز ہو گئی ہے جبکہ سیاسی رابطوں،لابنگ اور نئی صف بندیوں کا سلسلہ اپنے عروج پر ہے،حکومتی حلقے تحریک کو ناکام بنانے کے لیے مشاورت جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ اپوزیشن اعتماد کا اظہار کر رہی ہے کہ تبدیلی کا عمل مکمل ہو کر رہے گا۔
یہ بھی پڑھیں؛ جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ کے استعفے منظور