وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری سے جرمن سفیر انّا لیپل کی ملاقات

May 14, 2026 | 19:38:PM
 وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری سے جرمن سفیر انّا لیپل کی ملاقات
کیپشن: وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری سے جرمن سفیر انّا لیپل کی ملاقات
سورس: 24News
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(اویس کیانی)اسلام آباد میں وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری سے جرمن سفیر انّا لیپل نے ملاقات کی، جس میں توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور پاک-جرمن تعاون پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات کے دوران وفاقی وزیر توانائی نے کہا کہ پاکستان اس وقت 55 فیصد توانائی صاف ذرائع سے حاصل کر رہا ہے جبکہ حکومت کا ہدف اس شرح کو 90 فیصد تک بڑھانا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان مقامی اور قدرتی ذرائع سے خاطر خواہ بجلی پیدا کر رہا ہے اور تقریباً 800 میگاواٹ قابلِ تجدید توانائی مسابقتی مارکیٹ کے ذریعے فراہم کرنے کی منصوبہ بندی جاری ہے۔

اویس لغاری نے واضح کیا کہ حکومت مزید بجلی خریدنے کا ارادہ نہیں رکھتی۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال پاکستان توانائی میں 70 فیصد تک خود کفالت کے قریب رہا۔

وفاقی وزیر کے مطابق ڈسکوز کی نجکاری کا عمل وسطی مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور ابتدائی مرحلے میں 11 میں سے 3 ڈسکوز کی نجکاری کی جا رہی ہے جبکہ آئندہ سال مزید ڈسکوز کو بھی اس عمل میں شامل کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ جدید توانائی نظام کے لیے بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم ناگزیر ہے اور لیسکو کے لیے GIZ کے تعاون سے ایک منصوبہ زیر غور ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ٹرانسمیشن نیٹ ورک کی اپ گریڈیشن کے لیے سرمایہ کاری کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔

اویس لغاری نے بتایا کہ پاکستان بزنس کونسل سمیت نجی شعبے کو توانائی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کے لیے شامل کیا جا رہا ہے اور جرمن مالیاتی اداروں کے لیے بھی پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ملاقات میں پاکستان-جرمنی انرجی کوآپریشن فریم ورک کی تشکیل کی تجویز بھی زیر غور آئی، جس پر جرمن سفیر نے بتایا کہ پاکستان-جرمنی کلائمیٹ فریم ورک پہلے سے موجود ہے۔

دونوں ممالک کے نمائندوں نے توانائی کے شعبے میں تعاون مزید مؤثر بنانے، تکنیکی سطح پر روابط بڑھانے اور جلد دوبارہ ملاقات کرنے پر اتفاق کیا۔ جرمن سفیر نے 300 ملین یورو مالیت کے توانائی منصوبے اور 2027 کے نئے منصوبوں کی تیاری کا بھی ذکر کیا۔

یہ بھی پڑھیں :نئی پالیسی ! سولر سسٹم لگوانے والوں پر کڑی شرط عائد، صارفین پریشان