غزہ میں جنگ بندی کے باوجود 100 سے زائد بچے شہید

Jan 14, 2026 | 10:21:AM
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود 100 سے زائد بچے شہید
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

( ویب ڈیسک ) غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فضائی حملوں اور زمینی کارروائیوں کے نتیجے میں اب تک کم از کم 100 بچے جام شہادت نوش کرچکے ہیں۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسیف کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ اکتوبر کے اوائل سے اسرائیلی قبضے میں موجود فلسطینی علاقوں میں کم از کم 60 لڑکے اور 40 لڑکیاں لقمہ اجل بن چکے ہیں۔

جینیوا میں یونیسیف کے ترجمان جیمز ایلڈر نے صحافیوں کو بتایا کہ جنگ بندی کے بعد سے غزہ میں 100 سے زائد بچوں کو مارا جا چکا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ جنگ بندی کے دوران بھی تقریباً ہر روز ایک بچہ یا بچی جان سے جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی حکومت کا سیاستدانوں کےنام پر پیسے کمانے کا منصوبہ! جانیے اصل معاملہ

جینیوا میں یونیسیف کے ترجمان جیمز ایلڈر کے مطابق غزہ میں بچے خودکش ڈرون حملوں سمیت فضائی حملوں، ٹینکوں کی گولہ باری، براہِ راست فائرنگ اور کواڈ کاپٹرز کے ذریعے ہلاک کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایسی جنگ بندی جو بمباری کی رفتار تو کم کرے مگر بچوں کو ملبے تلے دفن کرتی رہے، اس کا کوئی فائدہ نہیں۔

 غزہ کی وزارتِ صحت کے ایک اہلکار کا کہنا تھا کہ اس کمزور جنگ بندی کے دوران بچوں کی ہلاکتوں کی تعداد 165 ہے، جبکہ مجموعی ہلاکتیں 442 تک پہنچ چکی ہیں۔