سپن’’ فرینڈلی‘‘ وکٹ پر ’’دشمنی ‘‘سے بھر پور کرکٹ

از: دلبر خان

Feb 14, 2026 | 14:35:PM
سپن’’ فرینڈلی‘‘ وکٹ پر ’’دشمنی ‘‘سے بھر پور کرکٹ
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

عالمی کرکٹ کا بیٹرہ غرق کرنیوالے بھارتی سورماؤں کی ٹیم بظاہر آنکھوں پرر نگ برنگے چشمے لگائے پاکستان کے خلاف میدان میں اترے گی، شوخ رنگوں سے مزین نظر آنیوالی یہ عینکیں حقیقت میں تعصب کے وہ چشمے ہیں جو بھارتی حکومت نے دونوں ملکوں کے درمیان 1952 میں کھیلے جانیوالے پہلے ٹیسٹ میں ہی اپنی ٹیم کو پہنا دیئے تھے جو اب  تک نام نہاد ’’مین ان بلیو‘‘ یا ’’ ڈریم الیون‘‘ نے پہنے ہوئے ہیں،  کرکٹ کھیلنے والا ہرملک جان چکا ہے کہ کرکٹ کے اس بدمعاش کو ’’نتھ‘‘ یعنی نتھلی نہ ڈالی گئی تو عالمی سطح پر کرکٹ ترقی کرنے کی بجائے مزید نیچے جائے گی۔

پاکستان کے بنگلہ دیش معاملے پر سٹینڈ نے پاکستانی حکومت اور چیئر مین پی سی بی محسن نقوی کا دنیا کرکٹ میں ڈنکا بجا دیا ، ہر کوئی بھارت کو ناک رگڑتا دیکھ کر خوش ہوا، پاکستان کے انکار نے بھارتی کرکٹ بورڈ اور اس ملک کے براڈ کاسٹرز کی نیندیں اڑا دیں جو اس میچ سے تجوریوں پر تجوریاں بھرنے کی پہلےہی پلاننگ کر چکے تھے ، چیئر مین پی سی بی کے بولڈ فیصلوں سے پاکستان  اور بنگلہ دیش کا ہر کرکٹ شائق خوش نظر آیا، پاکستان کے انکار نے بنگلہ دیش کو وہ کچھ دلوا دیا جو شاید ہی وہ آئی سی سی سے کبھی حاصل کر سکتاجبکہ نہ کھیلنے کے پاکستانی ٹیم کے فیصلے نے اس میچ کی اہمیت کو اور بڑھا دیا ہے جس کا اقرار انگلش میڈیا بھی کر چکا ہے ۔

  کولمبو میں کرکٹ کی دنیا کی سب سے بڑی دشمنی حقیقت کا روپ دھارے گی ، دوران میچ دونوں ٹیموں کے بلے بازوں کی طرف سے لگائی جانیوالی ہر شاٹ انہیں کامیابی کی خوشبو کا مزہ دے گی جبکہ ہر گیند پر لگنے والا چوکا ناکامی کے خوف کی گونج بھی چھوڑے گا،دونوں ملکوں کے شائقین تیز دھڑکنوں کے ساتھ سٹیڈیم اور ٹی وی کے سامنے سانس روکے بیٹھے ہونگے ، اگرچہ اعدادوشمار سے بھارت کا غلبہ صاف نظر آتا ہے، لیکن ہر ٹاکرا اپنی نوعیت میں ناقابلِ پیش گوئی سنسنی بھی لے کر آتا ہے۔

 رانا سنگھے پریماداسا سٹیڈیم کی سپن وکٹ پر بھارت کلدیپ یادو،چکر ور تھی اور اکشر پٹیل کو ضرور اپنے حتمی سکواڈ میں شامل کرے گا، کپتان سوریا کمار سمیت پورے بھارت کو فاسٹ بائولر جسپریت بمرا اور آل رائونڈر ہاردک پانڈیا سے توقعات سے بڑھ کر امیدیں وابستہ ہونگی،میچ کے دوران بھی دونوں ٹیموں میں ایک میچ پڑے گا ،’’ دائرہ لُوٹنے‘‘کا میچ ، اب تک کھیلے جانیوالے میچوں میں جس ٹیم نے بھی پاور پلے میں 10 سے زیادہ کی ایوریج سے رنز سکور کئے اس کے میچ جیتنے کے امکانات70 فیصد بڑھ جاتے ہیں، اب دیکھنا یہ ہے کہ بغیر وکٹ گنوائے کون سی ٹیم میچ کے دوران کھیلا جانیوالا یہ میچ جیتتی ہے۔

پاکستان کے سلمان آغا دلیر کپتان ہیں خود کو کھلاڑیوں کے پیچھے نہیں چھپاتے ، چوکے لگنے پر بار بار فیلڈنگ تبدیل نہیں کرتے لیکن غیر ذمہ دارانہ شاٹس سلیکشن کی اپنی اس کمزوری کو وہ  اب تک دور نہیں کر سکے بھارت کے خلاف انہیں سٹرائیک کو روٹیٹ کرنیوالی عادت کو اپنانا ہوگا ،بلے بازوں کے درمیان بننے والی کوئی ایک پارٹنر شپ بھی میچ کا پانسہ پلٹ سکتی ہے ، سپنر عثمان طار ق اپنے منفردایکشن کے سبب گزشتہ چند دنوں سے انڈین ٹیم سمیت پورے بھارت کے اعصاب پر سوار رہے ہیں اور ہو سکتا ہے بھارت انہیں میچ میں بائولنگ سے روکنے کیلئے کوئی ’’مکاری‘‘ دکھائے،عثمان طارق سمیت شاداب خان، ابرار احمد کو آل رائونڈر محمد نواز کا بھی ساتھ حاصل رہے گا ۔

کلب کرکٹ سے شروع ہونیوالے اس مقولے کے ٹیسٹ کرکٹر بھی قائل ہیں کہ جس کا دن ہوتا ہے وہی ٹیم جیتتی ہے اور جس کھلاڑی کا دن ہو وہ کمال کی پرفارمنس کا مظاہرہ کرتا ہے، یعنی وہ دن ٹیم اور کھلاڑی دونوں کیلئے لکی ثابت ہوتا ہے،دوسری طرف ہائی وولٹیج میچ کا پریشر برداشت کرنے والی ٹیم ہی میدان میں کامیاب ہوتی ہے ، اب دیکھنا یہ ہے کہ کولمبو میں سپن’’ فرینڈلی‘‘ وکٹ پر ’’دشمنی ‘‘سے بھر پور کرکٹ کی جنگ کون جیتتا ہے ۔