لیاری: بھارتی پروپیگنڈے کے مقابل سچ کی گواہی

زین مدنی حسینی 

Dec 14, 2025 | 20:58:PM
لیاری: بھارتی پروپیگنڈے کے مقابل سچ کی گواہی
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

بھارتی فلم “دھریندر” ایک بار پھر اس تلخ حقیقت کو بے نقاب کرتی ہے کہ بھارتی فلم انڈسٹری تفریح کے نام پر پاکستان کے خلاف زہر اگلنے سے کبھی باز نہیں آئی۔ اس فلم میں لیاری کو جان بوجھ کر جرائم، دہشت اور خونریزی کی علامت بنا کر پیش کیا گیا، جو نہ صرف تاریخی بددیانتی ہے بلکہ کھلی پاکستان دشمنی کا ثبوت بھی۔
ایسے میں پاکستانی نوجوان ہدایتکار ابو علیہا کی فلم “میرا لیاری” کا پوسٹر لانچ ہونا محض ایک فلمی خبر نہیں بلکہ بھارتی پروپیگنڈے کے منہ پر زوردار طمانچہ ہے۔ یہ فلم اس جھوٹے بیانیے کے خلاف ایک فکری اعلان ہے جو برسوں سے لیاری کے نام کے ساتھ نتھی کیا جا رہا ہے۔لیاری کوئی نوآبادی نہیں جو کسی بھارتی اسکرپٹ رائٹر کی مرضی سے بدنام کر دی جائے۔ لیاری کراچی کا قدیم ترین علاقہ ہے، ایک زندہ تاریخ، ایک مزاحمتی تہذیب۔ یہ وہ سرزمین ہے جس نے پاکستان کو ہیروز دیے، غدار نہیں۔بھارتی فلم “دھریندر” میں ایک طرف رحمان ڈکیت جیسے کردار کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا اور دوسری جانب شہید ایس پی چوہدری اسلم جیسے قومی ہیرو کو منفی انداز میں دکھایا گیا۔ یہ وہی چوہدری اسلم تھے جنہوں نے دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ اور مافیا کے خلاف بے خوف جنگ لڑی اور اپنی جان پاکستان پر قربان کر دی۔ ایک شہید کو ولن بنا دینا محض فلمی آزادی نہیں، یہ اخلاقی دیوالیہ پن ہے۔بھارتی فلم سازوں کو شاید معلوم نہیں۔۔۔اور شاید جان بوجھ کر نظرانداز کیا جا رہا ہے—کہ لیاری نے پاکستان کو کیا دیا ہے۔لیاری نے اولمپکس کے کانسی کے تمغہ یافتہ باکسر حسین شاہ کو جنم دیا، جنہوں نے عالمی سطح پر پاکستان کا پرچم بلند کیا۔
لیاری ہی سے تعلق رکھنے والے محمد وسیم نے ورلڈ لیول پر باکسنگ میں پاکستان کا نام روشن کیا۔فٹبال کے میدان ہوں یا اسٹریٹ اسپورٹس، لیاری آج بھی ٹیلنٹ کی فیکٹری ہے۔
فن، موسیقی، مزاحمت اور غیرت ۔۔۔یہ سب لیاری کی پہچان ہیں، جرائم نہیں۔بھارتی فلم انڈسٹری کا ریکارڈ اٹھا کر دیکھ لیا جائے، تو پاکستان مخالف فلموں کی ایک لمبی فہرست سامنے آتی ہے۔ “رازی”، “بیبی”، “ایک تھا ٹائیگر” اور اب “دھریندر”۔ یہ سب فلمیں ایک منظم ذہنیت کی پیداوار ہیں، جن کا مقصد بھارتی عوام کو پاکستان کے خلاف ذہنی طور پر تیار کرنا ہے۔ بدقسمتی سے یہ فلمیں سنیما ہالز میں چلتی ہیں، مگر اصل میں یہ نفسیاتی جنگ کے ہتھیار ہیں۔ایسے میں “میرا لیاری” جیسی فلمیں پاکستانی سنیما کی بقا کا سوال بن چکی ہیں۔ ابو علیہا نے لیاری کو اس کے اصل چہرے کے ساتھ دکھانے کی جسارت کی ہے۔ایک ایسا لیاری جو زندہ رہنا جانتا ہے، لڑنا جانتا ہے، اور عزت کے ساتھ جینا جانتا ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان خاموش تماشائی بننا چھوڑے۔ ہمیں نہ صرف بھارتی پروپیگنڈے کا جواب دینا ہوگا بلکہ اپنے ہیروز، اپنی تاریخ اور اپنی گلیوں کا دفاع بھی کرنا ہوگا۔ لیاری کو گالی بنا کر پیش کرنے والوں کو واضح پیغام دینا ہوگا کہ۔۔۔۔۔ لیاری شرمندگی نہیں، پاکستان کی طاقت ہے۔
چوہدری اسلم مجرم نہیں، شہید ہے۔۔۔۔اور بھارتی فلمی جھوٹ کو اب سچ کے کیمرے سے جواب ملے گا۔
“میرا لیاری” صرف ایک فلم نہیں۔۔۔یہ پاکستان کی خودداری کا اعلان ہے۔

دیگر کیٹیگریز: بلاگ
ٹیگز: