نورِ سحر میں " امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ...حیات و تعلیمات "روح پرور اور علمی نشست
جسٹس (ر) نذیر احمد غازی نے کہا کہ امام جلال الدین سیوطیؒ عالمِ اسلام کے عظیم محدث، مفسر، مورخ، مصلح اور عاشقِ رسول ﷺ تھے
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)معروف ٹی وی پروگرام "نورِ سحر" میں ایک روح پرور اور علمی نشست کا انعقاد کیا گیا جس کا موضوع " امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ...حیات و تعلیمات "تھا۔
پروگرام کے میزبان جسٹس (ر) نذیر احمد غازی نے کہا کہ امام جلال الدین سیوطیؒ عالمِ اسلام کے عظیم محدث، مفسر، مورخ، مصلح اور عاشقِ رسول ﷺ تھے ، روایت کے مطابق آپؒ کو عالمِ بیداری میں 75 مرتبہ حضور اکرم ﷺ کی زیارت نصیب ہوئی، امام سیوطیؒ فرمایا کرتے تھے کہ’’مجھے ڈر ہے، اگر میں حکمرانوں کے در پر گیا تو اس نعمت سے محروم نہ ہو جاؤں۔‘‘
پروفیسر ڈاکٹر مجاہد احمد نے کہا کہ امام سیوطیؒ علم و عشق، زہد و ورع، اور تحقیق و بصیرت کا حسین امتزاج تھے۔
انہوں نے کہا کہ ملا علی قاریؒ جیسے جلیل القدر عالم نے امام سیوطیؒ کو اپنے وقت کا مجددِ عصر اور مجددِ صدی قرار دیا، ان کی تصانیف میں علم کی گہرائی، نیت کا خلوص، اور عشقِ مصطفی ﷺ کی جھلک نمایاں ہے، ان کی کتابوں کے نام ہی ان کے علمی مقاصد اور موضوعات کے آئینہ دار ہیں،ان کی تصانیف میں تفسیر جلالین، الدرّ المنثور، تاریخ الخلفاء، خصائص کبریٰ اور الاتقان فی علوم القرآن جیسے علمی شاہکار شامل ہیں۔
پروفیسر عبد الحمید قادری نے کہا کہ علامہ اقبالؒ کا شعر :’’ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے، بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا‘‘
امام سیوطیؒ پر حرف بہ حرف صادق آتا ہے، آپؒ نے چھ سو سے زائد تصانیف کے ذریعے قرآن و سنت کے علوم کو نئی جہت عطا کی۔
علامہ امیر حمزہ نے کہا کہ امام سیوطیؒ کی دونوں تفسیریں، الدر المنثور اور تفسیر جلالین، امتِ مسلمہ کے لیے قرآن فہمی کا روشن مینار ہیں،تفسیر جلالین کی خصوصیت یہ ہے کہ اسے دو جلیل القدر علماء امام جلال الدین محلیؒ (استاد) اور امام جلال الدین سیوطیؒ (شاگرد) نے مکمل کیا، جو استاد و شاگرد کے ادب و وفا کی درخشاں مثال ہے۔
انہوں نے کہا کہ امام سیوطیؒ کو کسی خاص مسلک سے منسوب کرنا علمی بددیانتی ہے۔ وہ پوری امت کے امام تھے، جنہوں نے علم، عشقِ مصطفیٰ ﷺ اور روحانی بصیرت کے ذریعے ایک ایسا فکری سرمایہ چھوڑا جو آج بھی امت کے لیے مشعلِ راہ ہے۔