عثمان طارق کا خوف؛ بھارتی بیٹر اس کی بال کھیلنے سے انکار کریں گے تو کیا ہوگا؟ ایکسپرٹ کا جواب آگیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) ٹی ٹوینٹی ورلڈ کپ کے سب سے خطرناک باؤلر عثمان طارق نے بھارتی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں ، آفیشلز کے ساتھ فینز کی بھی نیندیں اڑا دیں۔ ان سب کے خوف میں اس وقت مزید اضافہ ہو گیا جب سابق بھارتی کرکٹر روی چندرن ایشون کے بعد بھارت کے انٹرنیشنل امپائر انیل چودھری نے بھی پاکستانی اسپنر عثمان طارق کا ایکشن درست قرار دے دیا۔
آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں پرسوں اتوار کو بھارت کی ٹیم کولمبو میں سپنرز کی جنت سمجھی جانے والی وکٹ پر گرین شرٹس کے سامنے آئے گی۔اس میچ سے پہلے گرین شرٹ میں ملبوس جس ہستی کی سب سے زیادہ بات کی جارہی ہے وہ عثمان طارق ہے۔
خود ساختہ "خبطِ عظمت" میں مبتلا بھارتی کرکٹ ٹیم اور اس کے مغالطوں کے قیدی فینز پر عثمان طارق کی سمجھ نہ آنے والی گیندوں کی ورائیٹیوں کا خوف طاری ہے۔ اس کی ہر اوور میں وکٹ گرانے کی صلاحیت سے خوفزدہ بھارتی میڈیا میں اور سوشل پلیٹ فارمز پر بھی ہر جگہ عثمان طارق کو ڈسکس کر رہے ہیں۔ بیشتر بھارتی اس گرین شرٹ کی صلاحیت اور مہارت کو کھلے دل سے ماننے کی بجائے اس کی باؤلنگ کو "باؤلنگ ایکشن" کا کرشمہ قرار دینے کی بچگانہ کوشش کر رہے ہیں اور "باؤلنگ ایکشن" کو "غیر قانونی" قرار دینے کے جتن کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیئے: خطرناک ترین گرین شرٹ عثمان طارق کے آج میچ میں اوورز کا جائزہ، مخالفوں کی نیندیں حرام
لیکن بھارت میں ہی پروفیشنل کرکٹ سے اب تک جڑے ہوئے بعض ماہرین بتا رہے ہیں کہ عثمان طارق کے "باؤلنگ ایکشن" میں تو کوئی پرابلم نہیں ہے۔ اسے پرابلم قرار دینے کی کوشش کی تو بھارتی بیٹرز کےلئے ضرور پرابلم ہو جائے گا۔
عثمان طارق کی بال میں کیا جادو ہے؟
عثمان طارق کا بولنگ ایکشن منفرد ہے، عام سپنرز سے مختلف ہے، لیکن بہرحال قانونی ہے اور وہ آئی سی سی کی جانب سے بالکل کلئیر ، سو فیسد لیگل بال پھینکتے ہیں۔ یہ الگ بات کہ ان کی بال بڑے بڑوں کے چھکے چھرا دیتی ہے کیونکہ سمجھ ہی نہیں آتی کہ پٹہ پڑنے کے بعد یہ کتنا گھومے گی، کتنا اوپر اٹھے گی اور دراصل کہاں جائے گی۔
عثمان طارق نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں اب تک ایک ہی میچ کھیلا، اس میچ میں عثمان طارق امریکی بیٹرز کو سمجھ نہیں آئے اور ان کی وکٹیں گریں۔ انہوں نے جو بظاہر چھکے مارے وہ باؤنڈری کے اندر کیچ ہو گئے۔ اس ایک ہی میچ سے بھارتی پلئیرز کی گھگی بندھ گئی ہے کیونکہ وہ اس میچ کی ریکارڈنگز دیکھ کر یہ سمجھنے میں کامیاب نہیں ہوئے کہ بال کدھر سے آئی اور کتنا گھوم کر کدھر گئی، بس یہ پتہ چلا کہ بیٹر کا اندازہ بار بار غلط نکلا۔
کچھ کم ظرف ناقد عثمان طارق کے مختصر رن اپ کے آخری لمحہ میں بال پھینکنے سے پہلے رک جانے اور رک کر قدم اٹھا کر بال پھینکنے کے سادہ سے عمل کو بھی جادو گری اور "اللیگل" قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔
سینئیر امپائر انیل چودھری نے کیا کہا
لیکن سابق بھارتی کرکٹر ایشون کے بعد اب بھارتی امپائر انیل چودھری نے ہر طرف ہو رہی بحث کے ردعمل میں اس نابغہ پاکستانی سپنر کےایکشن پر آنے والی تنقید اور سوالات کا جواب دیا ہے ۔
اس سے پہلے کرکٹر ایشون نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ اگر عثمان طارق بولنگ کے دوران رک رہے ہیں تو بیٹر کے پاس یہ حق ہے کہ وہ امپائر کو بولے کہ بولر رک رہا ہے۔ایسا ہوا تو امپائرز کیلئےمشکل ہوجائے گی۔
اس کے بعد اب بھارتی امپائر انیل چودھری نے ایک مشہور بھارتی ڈیجیٹل شو میں عثمان طارق کے ایکشن کو درست قرار دیتےہوئے ان پر اٹھنے پر سوالات کےجواب دیے۔
انیل چودھری نے کہا کہ عثمان طارق ہر گیند رک کر ہی کرتے ہیں، ان کا ایکشن ہی ایسا ہے، اس لیے یہ مسئلہ نہیں لیکن "مسئلہ" تب ہوگا جب عثمان اپنے ایکشن کو تبدیل کرتے ہوئے رکے بغیر گیند کرائیں گے۔
انیل چودھری نے کہا کہ اگر عثمان طارق اپنے روٹین ایکشن سے ہٹ کر بولنگ کریں گے تو ان کے لیے مسئلہ ہوسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ’بھارت کو عثمان طارق کا خوف ہے‘
انیل چودھری نے آندرے رسل اور دیگر باؤلرز کی مثالیں دی جنہوں نے اپنے روٹین کے ایکشن سے ہٹ کر جب بھی بولنگ کی، امپائرز نےانہیں روکا۔
انیل چودھری نے کہا کہ کیوں کہ عثمان طارق ساری گیندیں ایک ہی ایکشن سے کرتےہیں، اس لیے کوئی پریشانی نہیں۔
میزبان نے انیل چودھری سے سوال کیا کہ کیا عثمان طارق "بہت زیادہ رک کر" بولنگ کریں تو کیا بیٹر کچھ سوال اٹھا سکتا ہے؟
جس پر امپائر انیل چودھری نے کہا کہ یہ بھی اسی "روٹین ایکشن" کے حساب سے دیکھا جائے گا. اگر عثمان کےایکشن میں واضح تبدیلی دیکھنے میں آئی تو بیٹرگیند کھیلنے سے انکار کرکے امپائر کو بول سکتا ہے۔
میزبان نے پھر سوال کیا کہ اگر بیٹر عثمان طارق کی گیند کو کھیلنے سے منع کرے لیکن امپائر کو لگے کہ عثمان طارق "روٹین ایکشن" سے زیادہ رک کر گیند نہیں کر رہے تو کیا ہوگا ؟
یہ بھی پڑھیئے: پاکستان vs انڈیا؛ ٹی ٹوینٹی کرکٹ کا بہترین بیٹ کس کے پاس ہے، پلہ کس کا بھاری رہےگا؟
اس سوال کے جواب میں انیل چودھری نے کہا کہ اس صورت میں امپائر کی جانب سے بیٹر کو وقت ضائع کرنے کی وارننگ دی جائے گی۔
اس سے پہلے ایشون نے بھی کہا تھا کہ بولنگ ایکشن کے لیگل ہونے کا پتہ صرف آئی سی سی کے ٹیسٹنگ سینٹر سے لگایا جا سکتا ہے لیکن آئی سی سی کے قوانین کے مطابق 15 ڈگری تک ایکشن لیگل ہے اور رہی بات بولنگ کرتے وقت رکنے کی تو میرے حساب سے یہ بالکل لیگل ہے۔
یہ بھی پڑھیئے: ویمنز ایشیا کپ رائزنگ سٹار ، پاکستان کا نیپال کو ہرا کر فاتحانہ آغاز