نورِ سحر میں " محسن اسلام۔۔۔سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ"کے موضوع پر روح پرور اور علمی نشست
جسٹس (ر) نذیر احمد غازی نے کہا کہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی رسول اللہ ﷺ سے محبت محض جذباتی نہیں بلکہ ایمان کی معراج تھی، جو ہجرت، غارِ ثور اور وصالِ رسول ﷺ کے بعد امت کی قیادت میں نمایاں طور پر نظر آتی ہے
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)معروف ٹی وی پروگرام "نورِ سحر" میں ایک روح پرور اور علمی نشست کا انعقاد کیا گیا جس کا موضوع " محسن اسلام۔۔۔سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ"تھا۔
پروگرام کے میزبان جسٹس (ر) نذیر احمد غازی نے کہا کہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی رسول اللہ ﷺ سے محبت محض جذباتی نہیں بلکہ ایمان کی معراج تھی، جو ہجرت، غارِ ثور اور وصالِ رسول ﷺ کے بعد امت کی قیادت میں نمایاں طور پر نظر آتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ صحبتِ رسول ﷺ، اللہ کی راہ میں بے دریغ انفاق اور ہر موقع پر حق کی تصدیق حضرت صدیقؓ کی شخصیت کے نمایاں اوصاف تھے۔
انہوں نے خلفائے راشدین کے سادہ طرزِ زندگی کو آج کی قیادت کے لیے مشعلِ راہ قرار دیا اور مہاتما گاندھی کے اس قول کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے نوجوانوں کو خلفائے راشدین کی سادگی اور اصول پسندی اپنانے کی تلقین کی تھی۔
پروفیسر ڈاکٹر مجاہد احمد نے کہا کہ قرآن و سنت اور اقوالِ صحابہؓ میں حضرت ابوبکر صدیقؓ کی عظمت و فضیلت واضح طور پر بیان ہوئی ہے، بالخصوص سورۂ توبہ آیت 40 ہجرت اور غارِ ثور کے پس منظر میں صدیقِ اکبرؓ کے مقامِ قرب کو نمایاں کرتی ہے۔
انہوں نے آیت میں لفظ “اِذْ” کے تکرار کو اس امر کی دلیل قرار دیا کہ اللہ تعالیٰ کی منشا ہے کہ حضرت ابوبکرؓ کی قربانیوں اور رفاقت کو یاد رکھا جائے اور امت تک منتقل کیا جائے۔
پروفیسر احسن اویس مصطفوی نے کہا کہ اسلامی تاریخ میں حضرت ابوبکر صدیقؓ کا مقام منفرد اور مسلمہ ہے، جس پر تمام مکاتبِ فکر کا اتفاق ہے، انہوں نے ہجرت کے دوران غارِ ثور میں تین دن اور تین راتوں کی رفاقت، مدینہ میں داخلے کے واقعات اور خلافتِ صدیقی کے دور میں فتنۂ ارتداد اور جھوٹے مدعیانِ نبوت کے خلاف جرات مندانہ فیصلوں کو صدیقِ اکبرؓ کی عظیم قیادت کی مثالیں قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ نماز کی امامت سے متعلق احادیثِ صحیحہ صدیقِ اکبرؓ کے غیر معمولی مقام و اعتماد کی روشن دلیل ہیں۔
پروفیسر سید فہد علی کاظمی نے صحابۂ کرامؓ کی باہمی محبت، احترام اور ایثار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ حضرت علیؓ، حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کی سیرتیں امت کے لیے اتحاد اور اخوت کا عملی نمونہ ہیں۔
انہوں نے حضرت علیؓ کے اقوال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صدیقِ اکبرؓ نے ہر موقع پر رسول اللہ ﷺ کی حفاظت اور دینِ اسلام کے دفاع کو اپنی جان پر مقدم رکھا، جو ایمان و وفا کی اعلیٰ مثال ہے۔