ہنگری میں میگیار کی جیت؛ 16 سال سے پرائم منسٹر وکٹر اوربان نے الیکشن میں شکست کو تسلیم کر لیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) ہنگری میں 16 سال سے پرائم منسٹر وکٹر اوربان نے اتوار کے روز ہونےوالے عام انتخابات میں شکست تسلیم کر لی۔ اوبان نے جیتنے والی پارٹی تیسزا کے لیڈر میگیار کو مبارکباد دینے کے لیے فون کیا۔
بداپست سے نیوز ایجنسیاں رپورٹ کر رہی ہیں کہ ہنگری کے وزیر اعظم وکٹر اوربان نے آج کے انتخابات میں "تکلیف دہ" نتیجے سامنے آنے کے بعد شکست تسلیم کر لی۔
اتوار کے روز ہونے والے پارلیمنٹ کی الیکشن کے بعد ایگزٹ پولز سے یہ نطر آیا کہ عوام کی بھاری اکثریت نے پیٹر میگیار کی سنٹر رائٹ تیسزا پارٹی کو پارلیمانی بالادستی کی راہ پر گامزن کر دیا، وکٹر اوربان کے 16 سال کے اقتدار کا خاتمہ ہو گیا۔
میگیار نے ایک فیس بک پوسٹ میں کہا ہے کہ اوربان نے انہیں ان کی جیت پر مبارکباد دی ہے۔
ابتدائی نتائج، 53.45% ووٹوں کی گنتی کے ساتھ، پروجیکشنز یہ سامنے آئیں کہ تسزا Tisza پارٹی نے ہنگری کی 199 رکنی پارلیمنٹ میں 136 نشستیں جیتی ہیں، جبکہ اوربان کی فیدیسز Fidesz پارٹی کی 56 نشستیں ہو سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ہنگری میں عام انتخابات میں ووٹنگ مکمل؛ ایگزٹ پول میں حکمران پارٹی کے ہارنے کا قیاس
امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس ایران کے ساتھ مذاکرات کی غرض سے پاکستان آنے سے ایک دن پہلے بداپست میں وکٹر اوبارن کی انتخابی مہم میں شریک ہوئے تھے۔
اسرائیل کے پرائم منسٹر نیتن یاہو نے بھی اوربان کو انڈورس کیا ہوا تھا اور کہا تھا کہ اوربان کی جیت سے سیفٹی برقرار رہے گی۔
یہ بھی پڑھیئے: ایران کے ساتھ مذاکرات میں امریکہ کی ’ریڈ لائنز‘ کیا تھیں؟ امریکی حکومت کا انکشاف سامنےآگیا