ماحولیاتی تبدیلی اور پانی کا بڑھتاضیاع ۔۔پاکستان میں نئےڈیمزاورنہروں کی تعمیرناگزیر 

Sep 12, 2025 | 22:55:PM
 ماحولیاتی تبدیلی اور پانی کا بڑھتاضیاع ۔۔پاکستان میں نئےڈیمزاورنہروں کی تعمیرناگزیر 
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24 نیوز)پاکستان ان ممالک میں شامل ہےجوماحولیاتی تبدیلی سے بے پناہ متاثر ہو رہے ہیں۔ آئندہ آنے والے سالوں میں ماحولیاتی تبدیلی کے پیش نظرپانی کے نئے آبی ذخائر کی تعمیر وقت  کی اہم ضرورت ہے۔پاکستان میں مون سون سیزن 2025 کے دوران پانی کا ضیاع تشویشناک حد تک بڑھ چکاہے۔ ان چیلنجز سے نبردآزما ہونے کیلیے ہمیں پانی ذخیرہ کرنے کے لیے اپنے وسائل کو بروئے کار لانا ہو گااور ملک میں پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش میں اضافہ کرنا ہوگا۔

اگر ہم اعدادوشمار کا جائزہ لیں تو پاکستان میں اس وقت 150چھوٹے بڑے ڈیمز ہیں، جو30دن کاپانی جمع کرسکتے ہیں۔چین میں 22000 ڈیم، امریکہ میں 6000 ،بھارت میں 4000، ترکی، اسپین اورجاپان میں 1000سے زائد ڈیمزموجود ہیں ۔دنیا کے مقابلے میں آبادی کے تناسب سے پاکستان میں ڈیمز کی شرح خطرناک حد تک کم ہے ۔پاکستان میں پانی ذخیرہ کرنے کی کل صلاحیت 13.68ملین ایکڑفٹ ہے

ملک کے اہم آبی ذخائرجس میں تربیلا، راول، خانپور اور سملی ڈیم  شامل ہیں اپنی مکمل گنجائش تک پہنچ چکے ہیں۔منگلا ڈیم %75 بھرا ہوا ہے، اس صورتحال میں اضافی پانی کو محفوظ کرنے کے لیے کوئی متبادل انتظام موجود نہیں، جس کی وجہ سے اضافی پانی ضائع ہو رہا ہے۔کوٹری بیراج سے متعلق محکمہ آبپاشی  کی رپورٹ کے مطابق صرف جولائی واگست 2025 میں مرحلہ وار لاکھوں ایکڑ فٹ پانی ضائع ہوا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان تاحال اضافی پانی کو محفوظ کرنے کی صلاحیت سے محروم ہے۔ 

پاکستان میں جو ڈیم موجود ہیں ان میں پانی کے ذخیرہ کرنے کی صلاحیت صرف 11.55 ملین ایکڑ فٹ ہے، یعنی ان ڈیموں میں ہم صرف 30 دن کا پانی ذخیرہ کر سکتے ہیں۔ بھارت 120 دن، جبکہ امریکہ میں 900 دن تک پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت ہے۔ پاکستان اپنے دستیاب آبی وسائل سے صرف %7 پانی ذخیرہ کرسکتا ہے۔جاپان میں ایک اندازے کے مطابق چھوٹے بڑے ڈیموں کی تعداد پانچ ہزار سے زاہد ہے۔ جاپان کے 47 صوبوں میں ان ڈیموں کے ذریعے نہ صرف سیلابی پانی ذخیرہ کیا جاتا ہے، بلکہ سستی بجلی بھی پیدا کی جاتی ہے۔ جاپان اس وقت ہائیڈرو پاور سے بجلی پیدا کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے

پنجاب وہ خطہ ہے جسے سیلاب کے حوالے سے زیادہ خطرات ہیں۔حالیہ بارشوں اور سیلاب سے پنجاب کے مختلف علاقوں میں بے پناہ جانی اور مالی نقصان ہوا۔ ان تمام صورتحال کے پیش نظرنئے ڈیمز اور نئی نہروں کی تعمیرناگزیر ہو چکی ہے۔  محفوظ شہید کنال اور اس جیسی دیگر کئی کنالز جو کہ صحرا کی طرف بنائی جانی چاہیے ان کی تعمیر سے اضافی پانی کو روکا جا سکتا ہے اور  بہتراستعمال میں لایا جا سکتا ہے۔ کیونکہ ملک میں سیلابی پانی کو محفوظ بنانے کے حوالے سے کوئ لائحہ عمل موجود نہیں ہے۔

مزکورہ بالااعداد و شماراس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان میں آبی وسائل کے مؤثر انتظام اور سیلابی پانی کو محفوظ کرنے کی صلاحیت تاحال ناکافی ہے۔اگر اس حوالے سے فوری اور ٹھوس اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے سالوں میں ملک کو شدید آبی بحران کا سامنا کرناپڑ سکتا ہے۔اگر بروقت نئے ڈیمز کی تعمیر اور موجودہ نظام کی بہتری پر کام نہ کیا گیا تو پاکستان کو مستقبل میں شدید آبی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔پانی کے اس قدر وافر مقدار کو ضائع ہونے سے بچانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے تاکہ آنے والے برسوں میں خشک سالی اور قلتِ آب سے بچا جا سکے۔پاکستان میں پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں توسیع کرنا اور نئے ڈیمزکی تعمیروقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔ہمیں بحیثیت قوم تمام سیاسی اور ذاتی مفادات سےبالاترہو کر قومی"مفاد میں نئےڈیمز اورنہروں کی قیام کی مکمل حمایت کرنی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں:کراچی : تعلیمی اداروں میں سگریٹ، تمباکو اور نکوٹین کے استعمال پر مکمل پابندی عائد