حکومت سیلاب متاثرین کیلئے اپنی تجوریاں کھولے
تحریر ؛شازیہ کنول
Stay tuned with 24 News HD Android App
دیکھا جائے تو عالمی سطح ُ ُ ُپر 2025 آگ اور پانی کا ہول ناک کھیل کھیل رہا ہے ۔ہر سال پاکستان سمیت پوری دنیا کے جنگلات میں کسی نہ کسی وجہ سے آگ لگ جاتی یا لگا دی جاتی ہے ۔جس میں جانوروں کو اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرنے پڑتے ہیں اور کئی ممالک میں سمندر چڑھ دوڑتے ہیں سونامی کی شکل میں اور مالی و جانی تباہ کاریاں دلوں کو دہلا دینے والی ہوتی ہیں۔ قدرتی آفات نے پاکستان کوبھی کئی بار گھیرا ہے َملک میں ہر سال سیلاب آتے رہے غریب مالی جانی معاشی نقصان کا بوجھ دلوں پر لئے پھر سے ایک نئی زندگی میں تانکہ جھانکی شروع کر دیتے مگر سوال یہ ہے کہ عوام تو ہر سال اپنا مالی جانی معاشی نقصان اٹھا کر دوبارہ سے ایک نئی زندگی کی جنگ لڑنے کو تیار ہو جاتے ہیں حکمرانوں نے اپنی رعایا کی جانوو مال کے تحفط کیلئے کونسے خزانوں کا منہ کھولا ۔
سیلاب سے پہلے ہر طرف سے چیخ و پکار آنا شروع ہو جاتی ہے خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگتیں ہیں۔عوام سے زیادہ حکومتی نمائندوں کا شور سننے ملتا ہے عملی طور پرکچھ نظر نہیں آتا ۔شہر بسیاں بیلے گاﺅں کے گاﺅں ڈوب جاتے ہیں گھروں میں سوتے ہوئے بوڑھے بیمار بچوں عورتوں پر سیلاب چڑھ دوڑتا ہے ۔انسان جانور ڈوب کر مر جاتے ہیں ا یسے وقت سوچنے سمجھنے کی صلاحیت نہیں رہتی انسان اورجانور سیلاب کا شکار ہو جاتے ہیں لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔مگر پاکستان کے حکمران جوکہ امیری کی انتہا کو پہنچ چکے ہیں ٹس سے مس نہیں ہوتے آج تک سیلاب سے بچاﺅ کیلئے احتیاطی بلند بندھ تک تعمیر نہیں کئے گئے ۔انسانوں اور جانوروں کو بچانے کیلئے سیلابی خدشات کے علاقوں کے متبادل عارضی بستیاں تعمیر نہیں کی گئیں۔جانوروں کیلئے بیلے نہیں بنائے گئے ۔ تعفن سے بیماریاں پھیلنے کے خدشات سے بچنے کیلئے احتیاطی عارضی ڈسپنسریوں ،خوراک اور پینے کے صاف پانی کا اہتمام نہیں کیا گیا مگر تجوریاں بھری پڑی ہیں۔
ہر سال غریب ،مزدور ،کاشتکار سیلاب کی زد میں آکر بلی چڑھ جاتے ہیں مگر حکمرانوں کی تجوریاں نکو نک بھری رہتی ہیں اور ان تجوریوں میں رتی برابر کمی نہیں آتی الٹا بیرونی امداد سے آنے والی فنڈنگ کی رقوم بھی ان تجوریوں کی زینت بن جاتی ہیں اور سیلاب متاثرین حکمرانوں اور این جی اوز کی تصویر کشی کا شکارہوکر رہ جاتے ہیں۔بیرونی امداد کے سازو سامان سے لدے جہاز وں کے جہاز ہڑپ ہو جاتے ہیں اور یہ ہڑپنے والے بھی حکمران اور وزیر مشیر ہیں۔زکوۃٰ کی مد میں فنڈز اور فلڈرلیف فنڈز کپڑا کمبل خوراک بھی حقداروں تک نہیں سکتے اور حکمران کبھی آفت آنے سے پہلے لوگوں کو بچانے کیلئے قدم نہیں اٹھاتی مصیبت سر پر ان پہنچے لوگ مریں گے ڈوب جائیں گے تو ہی بیرونی امداد کا راستہ کھلے گا ۔مطلب یہ کہ انسانی جانوں مالی و معاشی نقصان انفراسٹرکچر کی پرواہ ہی نہیں روڈزتباہ لوگوں کے گھر تباہ زرعات اجڑ جاتی ہے کاشتکاربلک بلک سسک سسک کر جیتا مرتا ہے گزر بسر کرتا ہے مگر حکومت کے دروازے پر بھیک مانگنے نہیں آتا اپنی بیٹیوں کے کانوں سے بالیاں اتار کر کھاد سپرے اور پانی خریدنے کیلئے زخیرہ اندوزوں کے پیٹ بھرتا اور پھر سے ایک نئی امید لگائے اپنی فصل کو پروان چڑھاتا ہے فصل جوان ہوتی ہے تو سیلاب نگل جاتا ہے یا حکومت لاکھوں کی لاگت سے تیار فصل کوڑیوں کے بھاﺅ مطلب چند سو روپے کا ریٹ لگا کر کسان کو خون کے آنسو رولاتی ہے۔کبھی حکمرانوں کو رحم نہیں آیا ۔ صرف پنجاب میں سیلاب سے زرعات سے منسلک کاشتکاروں کو شدید جھٹکا لگا ۔زرعی معیشت سے منسلک 21لاکھ 25ہزار838ایکڑ رقبہ متاثر ہو چکا ہے ۔کپاس کی ایک لاکھ 10ہزار850ایکڑ فصل پانی میں بہہ گئی ۔ چاول کی 9لاکھ 70ہزار929ایکڑ فصل ڈوب گئی ۔ مکئی کی 1لاکھ86 ہزار419ایکڑ فصل برباد ہوئی۔کماد کی 2لاکھ 20 ہزار344 ایکڑ فیصل سیلاب نگل گیا ۔ 4لاکھ 500 ایکڑ چارے کی فصل ڈوبی اور سبزیوں کی 1لاکھ15 ہزار260ایکڑ فصل سیلاب میں ڈوب گئی۔ایسے میں کاشتکار تو برباد ہو چکا پھر ساتھ ہی ذخیرہ اندوزوں کی بے رحمی سر چڑھ کر بولنے لگی ۔ ایک طرف موت ناچ رہی ہے دوسری جانب حکمرانوں اور ذخیرہ اندوزوں کی بے رحمیاں سر چڑھ کر بولنے ایڑھیاں اٹھا اٹھا کر دیکھ رہی ہیں۔اب ملک بھر میں منہگائی کا نیا طوفان آ چکا ہے ۔آٹا،چینی غائب اشیاءخورونوش مہنگی۔منڈیوں میں سبزیاں پہنچنے سے قوم فاقہ کشی کا شکار ہونے لگی ۔شہروں میں سٹور کردہ سبزیاں پھل شدید مہنگے داموں فروخت ہونے لگے ہیں۔پنجاب حکومت اس تباہی کا کتنا ازالہ کر سکے گی۔ ہمیشہ کی طرح کمیٹیاں تشکیل دے دئی گئیں۔ یہ کمیٹیاں یہ حوصلے یہ چند ہزار کے چیک تبا و برباد معیشت بیماریوں لٹے ہوئے گھروں جو کھنڈر بن چکے کا ازالہ کر سکیں گی۔
جانی مالی نقصان کا ازالہ کر سکیں گی۔ قافلے لٹ جانے کے بعد لاشوں کیلئے امدادی میکانزم تیار کرنے والی کمیٹیاں سیلاب آنے سے پہلے ملک اور قوم کو بربادی کا شکار ہونے سے پہلے امداد بحالی کے بجائے تعمیر شدہ آبادیاں شہروں اور انسانوں ،جانوروں کو بچانے کیلئے سیلابوں سے محفوط کرنے کیلئے جامع فریم ورک کا عملی مظاہرہ کیوں نہیں کرتیں۔کیا وجہ ہے کہ مصیبت آنے کا بڑی بے تابی سے انتظار کیا جاتا ہے۔ ملکی انفراسٹرکچر کا عملی اقدام کیوں نہیں کیا جاتا دریاﺅں کے امنڈنے سے پہلے تعمیر نو کیوں نہیں کیا گیا پائیدار بندھ باندھنے کیلئے حکمت عملی کیوں نہیں اپنائی گئی ۔ ہمیشہ کی طرح ملک بر باد ہونے غریب کے لٹنے کے بعد معیشت تباہ ہونے کے بعدکشتیاں الٹنے کے بعد ہی کیوں کمیٹیاں تشکیل دی جاتی ہیں۔ اپنی لاپرواہی، نااہلی کو دشمن کی چال نہ کہا جائے۔ اس کو اپنی بادشاہت کی سوچی سمجھی چال کہا جائے تو زیادہ بہتر کہا جائے گا ۔بات وہ کی جائے ۔ اس کو قدرت کا انتقام کہا جائے تو زیادہ اچھے سے بات سمجھ ٓائے گی کیوں کہ قدرت ظالم نہیں ہے یہ انسان کے اپنے غلط فیصلوں کا شدید رد عمل ہے ۔ سیلاب کا شکار سسکیاں لیتی عوام کیا ایک ایک بریانی کے ڈبے اور ایک چھوٹی پانی کی بوتل کی محتاج ہے۔میلوں دور پانی میں ڈوبتے ڈبوتے ایک بریانی کا ڈبہ وصول کرنے آئے اس کی ویڈیو بنائیں اور چل دئیے پاکستان میں چاروں اطراف پانی ہی پانی ہے امدادی کارروائیوں کیلئے کشتیوں کی تعداد کم ہونے کے باعث سیلاب متاثرین کی زیادہ افرادی قوت کشتیاں برداشت نہ کرسکیں اور کئی بچے بوڑھے خواتین ،نوجوان ڈوب گئے کچھ کی لاشیں اور کچھ لاپتہ ہیں۔جنوبی پنجاب کے علاقے ملتان کے نواح مظفرگڑھ، ، جلال پور پیر والا کے سینکڑوں موضع کئی کئی فٹ زیر آب ہیں۔ امدادی ٹیموں کی توجہ متاثرین کو ریسکیو کرنے پر کم اور فوٹو گرافی زیادہ کی جا رہی ہے سی ایم پنجاب کے اپنے احکامات ہیں ان کی مرضی کے خلاف پتہ نہیں ہل سکتا ۔متاثرین بے یارومددگار سڑکوں پر پڑے ہیں کیمپوں کی قلت کے باعث بے بس عوام خون کے آنسو رو رہی ہےَ۔ پنجاب حکومت کے مقرر کردہ افسران کی اتنی لاپرواہی کہ بے حد اونچے درجے کے سیلاب کی وارننگ کے باوجود رہائشیوں کو ان علاقوں سے سیلاب سے انخلا نہ کروانے سے انسانوں سمیت مال مویشیوں کا نقصان ہوا دیکھنے میں یہ بھی آیا ہے پولیس کے جوان امدادی سامان فراہم کرنے سے پہلے بھوکے پیاسے افراد کو گھسیٹ گھسیٹ کر آٹے کے دس کلو کے تھیلے کے ساتھ مفلس بے بس عوام کی تصاویر بنا رہے تھے یہ عالم ہے اس نظام کا حکومت کو اپنی ہی رعایا کی مددکرنے میں تصاویر کے ثبوت بنانے کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے جب کہ ادویات نہ کھانا نہ کیمپ امدادی سہولیات کافقدان ہے ہر طرف بھوک ناچ رہی ہے ۔ مریض بچے بوڑھے بے یارو مددگار مگر حکومت کے ہاں سب اچھا ہے ۔اے حکمرانوں سب اچھا سے کام نہیں چلے گا ۔ ابھی تو کام شروع ہوا ہے اس سیلاب سے جو تعفن پھیلے گا وہ کنٹرول کرنے کیلئے بروقت اہتمام نہ کئے تو بیماریوں سے اموات برھ جائیں گی حکومت بیرونی امداد کا انتظار کئے بنا اپنی بند تجوریوں کو ہوا لگوائے اور مصیبت میں گھرے عوام کو سہولیات فراہم کرے۔