مودی کےدیش سے بنگالی حسینہ کا  خفیہ مقام سے ای میل انٹرویو

Nov 12, 2025 | 17:51:PM
مودی کےدیش سے بنگالی حسینہ کا  خفیہ مقام سے ای میل انٹرویو
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)بنگلہ دیش کی سابق  وزیراعظم  اور بھارت میں خودساختہ جلاوطنی  کاٹنے والی  عدالتی مفرور شیخ حسینہ  واجد نے بنگلہ دیش کی موجودہ عبوری حکومت اور اس کے رہنما محمد یونس پر  بھارت کے ساتھ تعلقات کو خراب کرنے اور انتہا پسند قوتوں کو مضبوط کرنے کا الزام لگایا ہے اور انہوں نے بنگلہ دیش واپسی کی شرط بھی رکھی ہے۔
بھارتی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق بنگلہ دیش کی معزول سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ  واجد نے اپنے وطن لوٹنے کا عندیہ دیتے ہوئے  اس کے لیے ایک شرط رکھی ہے، جس میں کہا گیا  کہ انکی واپسی اسی صورت میں ممکن ہے جب ملک میں شراکتی جمہوریت بحال ہو اور انکی جماعت عوامی لیگ پر سے پابندی ہٹا دی جائے۔ وہ بنگلہ دیش میں آزادانہ، منصفانہ اور جامع انتخابات کا مطالبہ کر رہی ہیں ۔ ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب عوامی لیگ پارٹی نے 13 نومبر کو بنگلہ دیش میں بڑے لاک ڈاؤن کا اعلان کیا ہے۔شیخ حسینہ  واجد  بھارت میں ایک خفیہ مقام پر مقیم ہیں۔ 

سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ  واجد نےبھارت کی  خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کو دیے گئے ایک ای میل انٹرویو میں موجودہ عبوری حکومت اور اس کے سربراہ محمد یونس پر بھارت کے ساتھ تعلقات خراب کرنے اور انتہا پسند قوتوں کو تقویت دینے کا الزام لگایا۔ 78 سالہ شیخ حسینہ نے کہا میری واپسی کے لیے سب سے اہم شرط وہی ہے جو بنگلہ دیش کے لوگوں کی ہے کہ شراکت داری والی جمہوریت کی واپسی۔ عبوری انتظامیہ کو عوامی لیگ پر سے پابندی ہٹانے اور آزادانہ، منصفانہ اور جامع انتخابات کا انعقاد کرایا جائے۔بھارتی حکومت اور عوام سے اظہار تشکر کرتے ہوئے شیخ حسینہ  واجد نے کہا میں بھارتی حکومت اور اس کے عوام کی طرف سے مجھے دی گئی مہمان نوازی کیلئے تہہ دل سے شکر گزار ہوں۔

واضح رہے  کہ بنگلہ دیش کی سب سے طویل عرصے تک وزیر اعظم رہنے والی حسینہ واجد نے 5 اگست 2024 کو کئی ہفتوں کے پرتشدد مظاہروں کے بعد ان کی حکومت کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ شدید دباؤ کے تحت وہ استعفیٰ دے کر ہندوستان آگئی تھیں ۔ اس کے بعد نوبل انعام یافتہ محمد یونس کی قیادت میں عبوری حکومت قائم کی گئی تھی ۔شیخ حسینہ نے تسلیم کیا کہ ان کی حکومت صورتحال پر قابو کھو چکی تھی ، لیکن ان کا کہنا تھا کہ احتجاج کو نام نہاد طلبہ رہنماؤں نے اکسایا جو دراصل سابق سیاسی کارکن تھے۔ انہوں نے انتخابی بائیکاٹ کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہماری پارٹی کے بغیر کوئی الیکشن جائز نہیں ہو سکتا۔ لاکھوں لوگ ہمارا ساتھ دیتے ہیں۔ یہ ملک کے لیے بہت بڑی غلطی ہو گی۔

شیخ حسینہ واجدنے کہا کہ بھارت ہمیشہ بنگلہ دیش کا سب سے اہم بین الاقوامی شراکت دار رہا ہے لیکن یونس حکومت نے اپنی احمقانہ پالیسیوں سے دونوں ممالک کے تعلقات کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یونس کی بھارت مخالف پالیسی انتہائی احمقانہ ہے۔ وہ ایک کمزور، انتشار کا شکار اور غیر تعاون یافتہ رہنما ہیں جو انتہا پسندوں پر انحصار کرتے ہیں ۔حسینہ نے کہا کہ وہ بین الاقوامی نگرانی میں، یہاں تک کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت میں بھی اپنے خلاف مقدمات میں پیش ہونے کو تیار ہیں۔ انہوں نے کہا میں نے یونس حکومت کو چیلنج کیا ہے کہ اگر وہ ان کے الزامات پر یقین کرتے ہیں تو مجھے آئی سی سی کے سامنے پیش کریں، لیکن وہ ایسا نہیں کریں گے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ایک غیر جانبدار عدالت مجھے بری کر دے گی۔حسینہ نے بنگلہ دیش کے انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل کو کینگرو عدالت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ مکمل طور پر میرے سیاسی مخالفین کے کنٹرول میں ہے، جو مجھے اور عوامی لیگ کو تباہ کرنا چاہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:کولمبیا کا امریکا کیساتھ خفیہ معلومات کا تبادلہ معطل کرنے کا اعلان