ایندھن کی نئی سبسڈی کیلئے مزید رقم موجود نہیں: فرانسیسی مرکزی بینک کا انتباہ

Mar 12, 2026 | 11:39:AM
 ایندھن کی نئی سبسڈی کیلئے مزید رقم موجود نہیں: فرانسیسی مرکزی بینک کا انتباہ
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)فرانس کے مرکزی بینک کے گورنر فرانسوا ویلروئے ڈی گالو نے ملک کی مالی صورتِ حال کے پیشِ نظر خبردار کیا ہے کہ تیزی سے بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتوں کے اثرات کم کرنے کیلئے نئی سبسڈیز متعارف کرانے سے گریز کیا جائے۔

فرانسیسی مرکزی بینک کے گورنر فرانسوا ویلروئے ڈی گالو نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے پاس مزید پیسے نہیں ہیں۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث عالمی تیل منڈی میں اتار چڑھاؤ کے دوران ایندھن کی قیمتیں حال ہی میں بڑھ کر دو یورو (2.3 ڈالر) فی لیٹر سے تجاوز کر گئی ہیں۔ 
فرانس کے مرکزی بینک کے گورنر نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں اور مزدور یونینز کی جانب سے ٹیکس میں کمی، ایندھن واؤچرز یا قیمتوں کی حد مقرر کرنے کے مطالبات ملکی بجٹ خسارے پر مزید دباؤ ڈال سکتے ہیں، جو اس وقت تقریباً 5 فیصد ہے۔

گورنر مرکزی بینک فرانس کے مطابق خطرہ یہ ہے کہ خسارہ مزید بڑھ جائے گا اور ہمیں اپنے رہائشی اور کاروباری قرضوں کے لیے مزید ادائیگی کرنا پڑے گی۔

یہ بھی پڑھیں:ایران کا گوگل سمیت کئی امریکی،اسرائیلی کمپنیوں،بینکوں کو نشانہ بنانے کا اعلان، فہرست جاری

انہوں نے زور دیا کہ قلیل مدتی سبسڈیز کے بجائے توانائی میں خود کفالت اور توانائی کی منتقلی میں سرمایہ کاری ہی طویل مدتی اور پائیدار حل ہیں۔

گورنر مرکزی بینک فرانس نے مزید کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کا تنازع فرانسیسی معیشت پر دباؤ ڈال سکتا ہے، جس سے افراطِ زر میں معمولی اضافہ اور معاشی ترقی کی رفتار سست ہو سکتی ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ بینک آف فرانس کے اندازوں کے مطابق پہلی سہ ماہی میں معاشی نمو 0.2 سے 0.3 فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ہے، جبکہ 2026ء میں مجموعی شرح نمو تقریباً 1 فیصد رہنے کی توقع ہے۔